نئی دہلی، 16/اپریل (ایس او نیوز/ایجنسی) دہلی کے بنگالی مارکیٹ واقع مسجد میں موجود مدرسہ کو منہدم کیے جانے کا معاملہ سرخیوں میں ہے۔ اس معاملے میں دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر چودھری انل کمار نے بی جے پی قیادت والی مرکز کی مودی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ چودھری انل کمار نے بنگالی مارکیٹ کی مسجد کا دورہ کیا اور کہا کہ ’’ماہِ رمضان میں مسجد کی کچھ تعمیرات کو ناجائز ٹھہرا کر بغیر کوئی نوٹس یا اطلاع دیے بلڈوزر چلا کر توڑنا بے حد افسوسناک ہے۔ مرکزی حکومت کے ذریعہ کی گئی کارروائی کی دہلی کانگریس مذمت کرتی ہے۔‘‘ چودھری انل نے مزید کہا کہ ’’اس مسجد میں چلے بلڈوزر پر دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال اور دہلی وقف بورڈ کی خاموشی فکر انگیز ہے۔‘‘
آج جب چودھری انل کمار نے بنگالی مارکیٹ مسجد کا دورہ کیا تو ان کے ساتھ مسلم لیڈر مطلوب کریم، شمیم شہاب الدین، مسجد کے ذمہ داران وغیرہ موجود تھے۔ اس موقع پر چودھری انل کمار نے کہا کہ 123 ملکیتوں کا معاملہ عدالت میں چل رہا ہے جس میں بنگالی مارکیٹ کی مسجد بھی شامل ہے۔ اس کے باوجود کوئی نوٹس یا اطلاع کے بلڈوزر چلا کر کچھ حصوں کو توڑنا عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہے۔ انھوں نے کہا کہ کیجریوال حکومت کے ماتحت دہلی وقف بورڈ دہلی مین مزار، مساجد، مدارس اور دیگر مسلم مذہبی مقامات کی دیکھ ریکھ کے لیے ہے، لیکن کیجریوال نے سیاست کے سبب بنگالی مارکیٹ کی مسجد کو توڑے جانے کے خلاف کارروائی نہیں کی۔ انھوں نے کہا کہ مودی راج میں بلڈوزر کی ’سیاہ پالیسی‘ اتر پردیش کے بعد دہلی میں بھی اختیار کی جا رہی ہے۔ بغیر کوئی نوٹس کے حکومت عمارتوں کو تباہ کر رہی ہے۔
بہرحال، چودھری انل کمار نے آج مسجد کی دیکھ ریکھ کرنے والوں سے ملاقات کی اور یقین دلایا کہ مسجد کے منہدم حصہ کو کو از سر نو تعمیر کرانے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ انھوں نے وزارت برائے شہری ترقی کے ’ایل اینڈ ڈی ڈپارٹمنٹ‘ اور این ڈی ایم سی سے مطالبہ بھی کیا ہے کہ مسجد کے منہدم حصہ کی از سر نو تعمیر کرائی جائے۔