چنتامنی:11 /دسمبر(محمد اسلم/ایس او نیوز) تعلقہ کی ترقی صرف عوامی نمائندوں کے ذمہ داری نہیں ہے بلکہ تعلقہ کے افسروں کو بھی چاہئے کہ ترقیاتی کاموں پر خصوصی توجہ دیں اور پوری ذمہ داری اور ایمانداری کے ساتھ کام انجام دیں کیونکہ بغیر سرکاری افسروں کے تعاون کے تعلقہ کی ترقی ناممکن ہے۔ کئی افسرعوام کے مسائل کو حل کرنے میں تساہلی برت رہے ہیں ایسے افسروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی، اس بات کا انتباہ رُکن اسمبلی جے کے کرشناریڈی نے دی۔ وہ آج تعلقہ ینملپڈی کے قریب 45لاکھ لاگت سے چیک ڈیم کام کے لئے سنگ بنیاد رکھنے کے بعد خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اکثر گرام پنچایتوں میں افسران کام کے اوقات میں دفتر سے غائب رہتے ہیں جن کی کئی شکایتیں ملی ہیں سرکاری افسران ٹائم پر دفتر پہنچ جائے آپ کے پاس عوام جو بھی مسائل لیکر آئے انہیں حل کرنے کی بھرپور کوشش کریں، اگر آپ لوگوں سے وہ کام نہیں ہوتا تو انہیں فوراََ کہہ دیا جائے کہ یہ کام ہمارے آفس سے نہیں ہوتا خواہ مخواہ لوگوں کو آفسوں کا چکر کاٹنے پر مجبور نہ کریں۔
کرشناریڈی نے کہا کہ چند گرام پنچایتوں میں ٹینکر سے پانی سربراہی کیا جارہا ہے لیکن ٹینکر مالک اُس پانی کو گرام پنچایت کے دیہاتوں میں لے جاکر ایک گھڑا پانی پانچ روپئے قیمت پر فروخت کرنے کے شکایتیں مل رہی ہیں۔ گرام پنچایت کے افسران ہر ایک دیہات کا جائزہ لیکر جن دیہاتوں میں پانی کی شدید قلت ہے ان دیہی علاقوں کو ٹینکر سے پانی سربراہی کرنے کے بعد ایک مرتبہ جائزہ بھی لیں۔
کرشناریڈی نے اپنے خطاب میں محکمہ زراعت کے افسروں پرناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کسانوں کو بہت ساری سہولتیں فراہم کررہی ہے لیکن محکمہ زراعت کے درمیانی افسران ان سہولتوں کا غبن کررہے ہیں کسانوں کوحلقے میں بہت پریشان کیا جارہا ہے ان تک حکومت سے ملنے والی اسکیمیں نہیں پہنچ پارہی ہیں، محکمہ زراعت کے افسران کسانوں کا خون کررہے ہیں گرمی کے موسم میں حلقے کے مختلف بورویلوں میں پانی بہت گہرائی تک چلا گیا ہے جس سے کسانوں کو بورویل سے فصلوں کو پانی سپلائی کرنے میں بہت دشواری پیش آرہی ہے محکمہ زراعت کے افسران حلقے کے دیہی علاقوں میں ہر ماہ ایک پروگرام منعقد کرکے کسانوں میں حکومت کے اسکیموں کے متعلق بیداری دلائی جائے محکمہ زراعت کے افسران صرف برائے نام دیہی علاقوں کا جائزہ لیتے ہیں اور دیہی علاقوں سے رپورٹ اکھٹا کرکے حکومت کو بھیج کر وہاں سے فنڈ حاصل کرکے غبن کردیتے ہیں ایسا کام ہرگیز نہ کیاجائے۔
کرشناریڈی نے پی۔ڈبیلو۔ڈی۔افسروں پر شدیدناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ چنتامنی میں کہیں بھی سڑک کے کام چل رہے ہیں افسران خود ان کاموں کا جائزہ لیں ٹھیکداروں پر بھروسہ نہ کریں کیونکہ تعلقہ کے سنتے کلہلی گرام کے پاس لاکھوں روپئے فنڈ سے بچھائی گئی سڑک چند ہی دنوں میں خستہ حالی کا شکار ہوچکی ہے کیونکہ اُس سڑک کو گھٹیا اشیاء سے بنائی گئی ہے۔
کرشناریڈی نے ریاستی حکومت پر ا لزام لگاتے ہوئے کہا کہ سدارمیا اُن حلقوں میں زیادہ فنڈ منظور کرارہے ہیں جہاں کانگریس نمائندے رہتے ہیں، جنتادل(ایس)اور بی جے پی کے نمائندے جن علاقوں میں کامیاب ہوئے ہیں، ان علاقوں کے ترقی کیلئے بہت ہی کم فنڈ منظور کی جارہی ہے ریاستی حکومت کو چاہئے کہ سیاست کو بالائے طاق رکھ کر ریاست کی ترقی کے لئے ہر پارٹی سے متحد ہوجائے۔ کرشنا ریڈی کے مطا بق انہوں نے کئی مرتبہ اس تعلق سے سیشن میں آواز اُٹھائی ہے، لیکن اس کا کچھ بھی اثر ریاستی حکومت پر نہیں پڑرہا ہے۔
اس موقع پر ضلع پنچایت سابق رُکن شرنیواس ریڈی جنتادل(ایس)تعلقہ صدر تلگوار راج گوپال وی۔امرسمیت کئی احباب موجود تھے۔