نئی دہلی، 19/اکتوبر (ایس او نیوز /ایجنسی) لوک سبھا میں حزب اختلاف کے لیڈر راہل گاندھی نے 18 اکتوبر (جمعہ) کو ’شکتی ابھیان‘ کے تحت اندرا فیلوشپ کی قومی مجلس عاملہ کی میٹنگ میں شرکت کی۔ میٹنگ کے پہلے دن راہل گاندھی نے ملک بھر سے آئی باصلاحیت اور محنتی خواتین سے تبادلہ خیال کیا۔ ان خواتین کا تعلق 21 ریاستوں سے تھا، اور یہ سب اپنے اپنے شعبوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کر چکی ہیں۔ انہوں نے خواتین کے لیے زمینی سطح پر موجود چیلنجز اور ان کے حل کے لیے اپنے عزائم اور تجربات کا اظہار کیا، جو میٹنگ کا اہم موضوع تھا۔
راہل گاندھی نے اس ملاقات کی ایک تصویر اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر شیئر کی ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’آج میں نے ’شکتی ابھیان‘ کی متاثر کن خواتین سے ملاقات اور گفتگو کی۔ ’اندرا فیلوشپ‘ تنظیم خواتین پر مبنی سیاسی تحریک کی تعمیر کے لیے انتہائی لگن کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ گزشتہ ایک سال سے یہ ذیلی سطح پر خاتون لیڈران کے ایک مضبوط نیٹورک کی نشو و نما میں مصروف ہے۔‘‘
راہل گاندھی نے اپنے پوسٹ میں یہ بھی لکھا ہے کہ ’’میں ہمیشہ خواتین کے لیے مساوی حقوق، وسائل تک ان کی رسائی اور تعلیم و روزگار کے مواقع کی بات اٹھاتا رہا ہوں اور مضبوطی کے ساتھ اس کی حمایت میں کھڑا ہوں۔ ہمارا ہندوستانی آئین ہر قسم کے امتیاز کو کنارہ کرتے ہوئے مساوات و انصاف کے ان اصولوں کو مجسم کرتا ہے۔ آئیے ’شکتی ابھیان‘ کے ساتھ مل کر ایک ایسے مستقبل کی تشکیل کی سمت میں کام کریں جہاں یہ اقدار سبھی کے لیے حقیقت بنے۔‘‘
’شکتی ابھیان‘ کی جانب سے ایک پریس بیان بھی سامنے آیا ہے جس میں راہل گاندھی کے ساتھ شکتی ابھیان کی متاثر کن خواتین سے ہوئی ملاقات کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ راہل گاندھی نے موجودہ حالات اور خواتین کے لیے کیے جانے والے ضروری کام پر تبادلہ خیال کیا۔ راہل گاندھی نے اس ملاقات کے دوران زور دے کر کہا کہ آج سیاست میں جدوجہد صرف روایتی اپوزیشن پارٹیوں کے خلاف نہیں بلکہ ایک وسیع نظریاتی لڑائی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’آج سیاست میں ہماری لڑائی صرف اقتدار کے لیے نہیں ہے بلکہ نمائندگی کے لیے بھی ہے۔ یہ دونوں ایک ہی سکہ کے دو پہلو ہیں۔‘‘ اس موقع پر راہل گاندھی نے یہ بھی کہا کہ ’’خواتین کو یہ سمجھنا چاہیے کہ وہ صرف علامتی رقوم یا عہدوں کو قبول نہ کریں، بلکہ اپنے ان حقوق کے لیے لڑیں جن کے وہ حقدار ہیں۔‘‘