بنگلورو۔19؍دسمبر(ایس او نیوز) ریاستی حکومت عدلیہ کے نظام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کی پابند ہے۔ عدالتوں میں مخلوعہ 4334 اسامیوں کو بہت جلد پر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ بات آج وزیر اعلیٰ سدرامیا نے جوڈیشیل افسران کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہاکہ عدالت میں زیر التواء مقدمات کو تیزی سے نمٹانے کیلئے درکار ہر سہولت اور عملہ حکومت مہیا کرانے کیلئے تیار ہے۔ وزیر اعلیٰ نے بتایاکہ 2014 میں 151 اور 2015میں 119 سیول ججوں کا تقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایاکہ یکم نومبر 2016 تک ریاست بھر کی سیول عدالتوں میں 1624233 مقدمات باقی ہیں۔ان میں سے 91540 مقدمات کا تعلق حکومت سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1972 میں ریاست بھر میں 201 عدالتیں تھیں، 1997 میں یہ بڑھ کر 459 ہوئیں، اور 2016 میں ان کی تعداد 13سو تک پہنچ چکی ہے۔ لیکن عدالتوں کی بڑھتی تعداد کے ساتھ مقدمات کی تعداد میں بھی اتنی ہی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ 2013-14میں حکومت نے شعبۂ قانون کو 574کروڑ روپیوں کا گرانٹ دیا۔ 2016-17میں یہ بڑھ کر 671 کروڑ روپیوں تک پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے بتایاکہ 2014کے دوران 63 سینئر سیول ججوں کو ضلع عدالتوں کیلئے بطور جج مقرر کیا گیا۔ جبکہ 2015 میں 80 سیول ججوں کو ترقی دی گئی۔ انہوں نے کہاکہ عدالتوں کے کمپیوٹرائزیشن کیلئے پچھلے تین سال سے 6.33کروڑ روپے مہیا کرانے کے ساتھ عدلیہ افسران کو مکانات کی طرف بھی خاص توجہ دی گئی ہے۔ حکومت نے 320 کوارٹرس ان افسران کیلئے تعمیر کروائے ہیں اور ساتھ ہی ریاست بھر میں عدالتوں کیلئے 892نئی عمارتیں تعمیر کی گئی ہیں۔