ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / شہنشاہ اکبر اورمغل بادشاہ بھی خالص گنگا جل پیتے تھے.مرکز نےسپریم کورٹ میں پن بجلی منصوبے کی سماعت کے دوران کہا

شہنشاہ اکبر اورمغل بادشاہ بھی خالص گنگا جل پیتے تھے.مرکز نےسپریم کورٹ میں پن بجلی منصوبے کی سماعت کے دوران کہا

Sat, 25 Jun 2016 11:58:55    S.O. News Service

نئی دہلی،24جون؍(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا)مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں کہا ہے کہ شہنشاہ اکبر یا تو خالص گنگا جل پیتے تھے یا پھر اپنے پانی میں گنگا جل ملاکر پیتے تھے۔اتنا ہی نہیں جو بھی مغل بادشاہ ہوئے وہ گنگا جل کی اس خاصیت کو مانتے تھے۔دراصل سپریم کورٹ اتراکھنڈ میں الکندا اور بھاگیرتھی ندی پر تجویز پیش کی اور زیر تعمیر 24ہائیڈرو پاور پروجیکٹ یعنی پن بجلی منصوبوں پر روک کے معاملے کی سماعت کر رہا ہے۔سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کرکے پانی وسائل کی وزارت نے گنگا کو محفوظ کرنے اور اسے آلودگی سے پاک بنانے کے حکومت کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے گنگا دریا کی مذہبی اور تاریخی اہمیت کو بھی بیان کیا ہے۔گنگا جل کی خوبیاں گناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ دنیا بھر کے لوگوں کا یقین ہے کہ گنگا جل میں کچھ ایسے خصوصی عناصر ہیں جو کسی اور دریا میں نہیں ہیں۔اس کے پانی میں بیماریوں سے لڑنے کی صلاحیت ہے۔گنگا دریا ہندوستان کی پہچان ہے۔یہ تقریبا 50کروڑ لوگوں کے یقین اور روزی روٹی کمانے کا ذریعہ ہے۔پانی وسائل کی وزارت نے حلف نامے میں مختلف رپورٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے پن بجلی منصوبوں کو دریا کی صحت کے لئے نقصان دہ اور ماحول کے لئے خطرناک بتایا گیا ہے۔یہاں تک کہ 2012اور 2013کی اتراکھنڈ سیلاب کو بھی اسی سے جوڑدیا گیا ہے۔دریا کی زندگی کے لئے اس میں بہاؤ برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ بہاؤ صرف دیوپریاگ کے نیچے کے حصے میں ہی نہیں بلکہ دیوپریاگ سے اوپر کے ہمالیہ کے حصے میں بھی رہنا چاہئے تاکہ پانی اپنے پورے بہاؤ سے نیچے دریا میں آئے اور سال بھر دریا میں بہاؤ بنا رہے۔وزارت کا کہنا ہے کہ زیر التوا پن بجلی منصوبوں کی منظوری اتراکھنڈ سانحہ سے پہلے دی گئی تھی۔دراصل اتراکھنڈ میں جون، 2013کو آئے طوفان کے بعد کورٹ نے اتراکھنڈ میں الکندا اور بھاگیرتھی ندی پر تجویز پیش کی اور زیر تعمیر 24پن بجلی منصوبوں پر روک لگا دی تھی،اب کمپنیوں نے روک ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔ان منصوبوں میں 6 منصوبے عوامی علاقے کے کاموں کے ہیں،تاہم وزارت ماحولیات نے کچھ شرطوں کے ساتھ عوامی صنعتوں کے تین منصوبوں کو مشروط منظوری کی حامی بھری تھی۔


Share: