ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / پارٹی قیادت اجازت دے تو دو اور بجٹ پیش کروں گا: سدارامیا

پارٹی قیادت اجازت دے تو دو اور بجٹ پیش کروں گا: سدارامیا

Sun, 08 Mar 2026 14:14:54    S O News

میسورو، 8 /مارچ (ایس او نیوز/ایجنسی)    وزیر اعلیٰ سدارامیا نے کہا ہے کہ اس سال کے بجٹ کا بنیادی مقصد ریاست کے تمام طبقات کے لوگوں کو مساوی مواقع فراہم کرنا اور مجموعی ترقی کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی مالی پالیسی سماجی انصاف کو مرکز میں رکھ کر تیار کی گئی ہے۔وہ ہفتہ کے روز میسورو ضلع کے پلہلی گاؤں میں واقع ہیلی پیڈ پر میڈیا نمائندوں سے گفتگو کر رہے تھے۔

وزیر اعلیٰ نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے بجٹ پر کی جا رہی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ قرض لینا ترقی کے عمل کا حصہ ہوتا ہے اور بغیر قرض کے ترقی ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مالی ذمہ داری کے قانون کے تحت ریاستی قرض کی حد مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کے 25 فیصد تک مقرر ہے، جبکہ کرناٹک کا قرض اس وقت 24.94 فیصد ہے، جو مقررہ حد کے اندر ہے۔

سدارامیا نے مزید کہا کہ مرکزی حکومت کا قرض 218 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ چکا ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد تقریباً 165 لاکھ کروڑ روپے کا قرض لیا گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ شرح مالی ذمہ داری کے قانون کے مطابق تقریباً 55.6 فیصد بنتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ملک کا مالیاتی خسارہ 4.4 فیصد ہے جبکہ کرناٹک کا مالیاتی خسارہ 2.95 فیصد ہے، جو قانون کے مطابق مقررہ تین فیصد کی حد کے اندر ہے۔ ان کے مطابق ریاست کا مجموعی گھریلو پیداوار تقریباً 33 لاکھ 5 ہزار 500 کروڑ روپے ہے، اس لیے بی جے پی کی جانب سے ریاست پر زیادہ قرض لینے کا الزام حقیقت کے منافی ہے۔

بجٹ کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس سال کا بجٹ سماجی انصاف کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے اور اس کا مقصد کسی ایک طبقے تک محدود نہیں بلکہ پورے ریاست کی ترقی کو یقینی بنانا ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے ریاست کو ملنے والی جائز مالی امداد فراہم نہ کرنے کی وجہ سے کرناٹک پر اضافی مالی بوجھ پڑا ہے۔ ان کے مطابق جی ایس ٹی کی شرحوں میں تبدیلی کے باعث ریاست کو تقریباً دس ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں سدارامیا نے کہا کہ اگر پارٹی قیادت موقع فراہم کرے تو وہ آئندہ دو بجٹ بھی پیش کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی ہائی کمانڈ کا فیصلہ حتمی ہوگا، تاہم اگر عوام کا آشیرواد اور قیادت کی اجازت ملی تو وہ اپنی ذمہ داری ادا کرتے رہیں گے۔


Share: