ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / سوڈان کی عبوری حکومت اورباغی گروپوں میں امن سمجھوتا،امریکا، برطانیہ اورناروے کا خیرمقدم

سوڈان کی عبوری حکومت اورباغی گروپوں میں امن سمجھوتا،امریکا، برطانیہ اورناروے کا خیرمقدم

Tue, 01 Sep 2020 18:27:12    S.O. News Service

خرطوم، یکم ستمبر (آئی این ایس انڈیا)سوڈان (السودان) کی عبوری حکومت اور سوڈان انقلابی محاذ سے تعلق رکھنے والے پانچ باغی گروپوں کے درمیان سوموار کے روز امن سمجھوتا طے پا گیا ہے۔ امریکا ، برطانیہ اور ناروے نے اس سمجھوتے کا خیرمقدم کیا ہے۔

یہ تینوں ممالک ’’سوڈان ٹرائیکا‘‘ کے نام سے معروف ہیں۔انھوں نے امن سمجھوتے کو ملک میں استحکام اور سوڈانی عوام کی امید کی بحالی کی جانب اہم قدم قرار دیا ہے۔

اس ٹرائیکا نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ’’ اس امن سمجھوتے سے دارفر اور دوسرے شورش زدہ علاقوں میں پائیدار امن اور استحکام کی بنیاد پڑے گی۔ یہ سوڈان میں جمہوری انتقال اقتدار کے لیے بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے۔‘‘

انھوں نے کہا ہے کہ ’’فریقین نے ایک دوسرے کو اہم رعایتیں دی ہیں۔اب نیک نیّتی سے اس ڈیل پر عمل درآمد کی ضرورت ہے اور دوسرے باغی گروپوں کے ساتھ بھی ایسے ہی امن مذاکرات ناگزیر ہیں۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ دارفر ، پورٹ سوڈان ، جنوبی کردفان اور بلیو نیل ریاستوں میں جاری تشدد کے پیش نظر پائیدار امن بدستور خطرات سے دوچار رہے گا۔

اس سمجھوتے کے تحت دارفور اور دوسرے علاقوں سے تعلق رکھنے والے باغی گروپوں کو سوڈان کی عبوری حکمران کونسل میں نمایندگی دی جائے گی اور قانون ساز کونسل میں بھی ان کے نمایندے شامل ہوں گے۔

ٹرائیکا نے سوڈان کی پیپلز لبریشن موومنٹ شمال کے لیڈر عبدالعزیز الہلو اور سوڈان لبریشن موومنٹ کے لیڈر عبدالوحید النور پر زوردیا ہے کہ وہ اس کامیابی کی بنیاد پر حکومت کے ساتھ تمام متنازع امور طے کرنے کے لیے سنجیدہ مذاکرات کا آغاز کریں۔‘‘

اس نے سوڈان کی متنوع کمیونٹیوں پر بھی زور دیا ہے کہ وہ اپنی دیرینہ دشمنیوں کو مٹا ڈالیں،امن کے قیام کے لیے اس موقع سے فائدہ اٹھائیں اور اس کی حمایت کریں۔

سوڈانی حکومت اور باغی گروپوں کے درمیان جنوبی سوڈان کے دارالحکومت جوبا میں اس سمجھوتے پر دست خط کیے گئے ہیں۔ اس کے تحت دارفر اور دوسرے علاقوں میں گذشتہ سترہ سال سے جاری مسلح تنازعات کے خاتمے کی راہ ہموار ہوگی اور باغی گروپوں کو ملک میں جاری سیاسی عمل میں شریک کیا جائے۔نیز سوڈان کی مرکزی حکومت بے گھر افراد کی واپسی اور بحالی کےلیے رقوم مہیا کرے گی۔

واضح رہے کہ صرف دارفر میں 2003ء سے سوڈانی سکیورٹی فورسز اور باغی گروپوں کے درمیان جاری لڑائی کے نتیجے میں تین لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق دارفر میں خانہ جنگی کے نتیجے میں قریباً پچیس لاکھ افراد بے گھر ہوئے ہیں۔

معزول صدر عمر حسن البشیر کی سابق حکومت میں شامل اعلیٰ سیاسی اور فوجی عہدے داروں پر دارفر میں مقامی غیر عرب قبائل کی نسل کشی اور انسانیت مخالف جرائم کے الزامات عاید کیے جاتے رہے ہیں۔


Share: