ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / سفارت کاری فوٹوکھنچانے کاموقعہ نہیں،اقوام متحدہ میں بلوچستان کا مسئلہ اٹھانا حکومت پرمنحصر

سفارت کاری فوٹوکھنچانے کاموقعہ نہیں،اقوام متحدہ میں بلوچستان کا مسئلہ اٹھانا حکومت پرمنحصر

Fri, 19 Aug 2016 21:10:15    S.O. News Service

کانگریس نے مودی کے اچانک پاکستان دورہ پرسخت تنقیدکی
نئی دہلی، 19؍اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)کانگریس نے آج کہا کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا مسئلہ اقوام متحدہ میں اٹھانے پر فیصلہ کرنا حکومت پرانحصار کرتا ہے۔پارٹی نے یہ تبصرہ اس وقت کیا ہے جب وزیر اعظم نریندر مودی نے گزشتہ دنوں یومِ آزادی پراپنے خطاب میں پاکستان پر نشانہ لگاتے ہوئے بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ذکر کیا تھا۔بہر حال کانگریس نے مودی کویاد دلایا کہ سفارت کاری’’تصاویر کھنچانے کا موقعہ‘‘نہیں ہوتی اور اس میں گہرائی اور سنجیدگی کی ضرورت ہوتی ہے۔کانگریس کے سینئر ترجمان آنند شرما سے جب صحافیوں نے پوچھا کہ کیا ہندوستان کو بلوچستان کا مسئلہ اقوام متحدہ میں اٹھانا چاہئے، اس پر انہوں نے کہاکہ اس پر فیصلہ کرنا تو حکومت پرانحصار کرتا ہے۔پہلے وزیر اعظم کو بتانا چاہئے کہ کیا ان کے پاس کوئی لائحہ عمل اور آگے بڑھنے کا کوئی سانچہ ہے۔انہوں نے کہاکہ سفارت کاری میں گہرائی اور سنجیدگی کی ضرورت ہوتی ہے۔ہم وزیر اعظم کو یاد دلانا چاہتے ہیں کہ یہ کوئی تصویر کھنچانے کا موقع نہیں ہوتا۔پٹھان کوٹ، گرداس پور میں خمیازہ بھگتنا پڑاہے۔شرما نے کہا کہ یہ افسوسناک ہے کہ کشمیر میں کشیدگی کافی بڑھ گئی ہے۔سابق مرکزی وزیر نے کہا کہ کانگریس اوراس وقت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ سمیت یو پی اے لیڈروں نے 2005، 2006اور2009میں بلوچستان کے مسئلے پر بولا تھا۔پاکستان مقبوضہ کشمیرکے بارے میں انہوں نے کہا کہ بھارت نے ہمیشہ سے یہ موقف اپنایا ہے کہ پی اوپرغیر قانونی طریقے سے قبضہ کیاگیاہے۔انہوں نے کہاکہ پارلیمنٹ کی ایک تجویز انتہائی واضح ہے۔اب بھی دونوں ایوانوں نے پیشکش قبول کی ہے۔شرما نے یہ بھی کہا کہ گزشتہ سال 25دسمبر کو وزیر اعظم مودی کا کچھ دیر کیلئے لاہور میں پڑاؤکوئی اچانک ہواسفرنہیں تھا۔انہوں نے کہاکہ کابل سے لاہور کی پرواز بھرتے ہوئے آپ تحفے نہیں خریدتے۔بری فوج اور فضائیہ نے انہیں روایتی سلامی نہیں دی ۔یہ اس عظیم ملک کی توہین تھی۔


Share: