ماسکو،26جنوری(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا)روس نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ وہ شام کے لیے ایک نیا آئین تیار کررہا ہے۔ روس کے اس اعلان نے صدر بشار الاسد کے اس بیان کا بھانڈہ پھوڑ دیا ہے جس میں انہوں نے متعدد مرتبہ کہا تھا کہ شام کے لیے کوئی نیا آئین تیار نہیں کیا جا رہا ہے۔ آستانا میں جاری شامی مذاکرات میں شریک روسی وفد کے سربراہ الیکذنڈر لافرینٹیو نے ایک ایک بیان میں کہا کہ ان کے ملک نے شامی اپوزیشن کو بھی مجوزہ آئین کی نقول فراہم کی ہیں تاکہ ان کی رائے معلوم کی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ شام کے لیے نیا آئینی مسودہ روسی ماہرین قانون نے تیار کیا ہے۔روسی عہدیدار نے منگل کے روز آستانا بات چیت کے اختتام پر ایک پریس کانفرنس کے دوران شام میں قیام امن کے لیے جنگ بندی قائم رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
خیال رہے کہ شام میں نئے دستور سے متعلق خبریں ماضی میں بھی سامنے آتی رہی ہیں مگر صدر بشار الاسد کی جانب سے ان اطلاعات کو بے بنیاد قرار دیا جاتا رہا ہے۔ اسی ضمن میں شامی خبر رساں ایجنسی ’سانا‘ نے 27 مئی 2016ء کو صدر بشار الاسد کا ایک بیان نقل کیا تھا جس میں انہوں نے شام کے لیے روس کی مدد سے کسی نئے دستور کی تیاری کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیا تھا۔
a