ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / راہول گاندھی کو قصوروار ٹہرائے جانے کے اگلے ہی روز لوک سبھا سے قرار دیا گیا نا اہل؛ کانگریس نےعوامی تحریک چلانے کا کیا اعلان

راہول گاندھی کو قصوروار ٹہرائے جانے کے اگلے ہی روز لوک سبھا سے قرار دیا گیا نا اہل؛ کانگریس نےعوامی تحریک چلانے کا کیا اعلان

Fri, 24 Mar 2023 23:08:59    S.O. News Service

نئی دہلی 24 مارچ (ایس او نیوز) کانگریس لیڈر راہول گاندھی کو 2019 میں ان کے 'مودی کنیت' والے تبصرے پر ہتک عزت کے مقدمے میں دو سال قید کی سزا سنائے جانے کے ایک دن بعد اج جمعہ کو اُنہیں لوک سبھا سے نااہل قرا دیا گیا ہے۔ یہ نوٹیفکیشن گاندھی کے جمعہ کو لوک سبھا میں آنے کے چند گھنٹے بعد جاری کیا گیا۔

کیرلا کے وائناڈ حلقے سے رکن پارلیمان اور کانگریس کے سابق صدر راہول گاندھی کی پارلیمانی رکنیت ختم کئے جانے کےساتھ ہی وائناڈ پارلیمانی حلقے کی سیٹ خالی ہو گئی ہے اور الیکشن کمیشن اس سیٹ پر ضمنی انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرسکتا ہے۔ جاری کی گئی نوٹیفکیشن کے مطابق راہول گاندھی کو ایک ماہ کے اندرسرکاری رہائش گاہ خالی کردینے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ راہول گاندھی نے 2019 کےعام انتخابات میں ریاست کرناٹک کے کولار میں منعقدہ انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے پوچھا تھا کہ تمام چوروں کا surname (خاندانی نام) مودی ہی کیوں ہوتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کا اشارہ کرپشن کیسزمیں ملوث ہیروں کے مفرور تاجر نیرومودی اور آئی پی ایل کے سابق سربراہ للت مودی کی طرف تھا مگرچونکہ ملک کے وزیراعظم کا نام بھی مودی ہے، لہٰذا اس بیان پر کافی ہنگامہ ہوا اورگجرات کے بی جے پی رکن اسمبلی جنکا نام بھی مودی ہے یعنی پورنیش مودی، انہوں نے راہول پر ہتک عزت کیس درج کرواتے ہوئے کہا کہ اس بیان سے پوری مودی برادری کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔

معاملہ درج ہونے کے چار سال بعد اب گجرات کے سورت ضلعے کی عدالت نے جمعرات 23 مارچ کوراہول گاندھی کو قصوروار ٹھہرادیا اور دو سا ل قید کی سزا سنادی۔ ان پر پندرہ ہزار روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔ عدالت نے قید کی سزا کو 30 دن کے لیے ملتوی کردیا تھا۔ اس طرح راہول گاندھی کے پاس سزا کے خلاف بڑی عدالت میں اپیل کرنے کے لیے ایک ماہ کا وقت ہے۔

ایک طرف عدالت کا فیصلہ اور دوسری طرف لوک سبھا سکریٹریٹ کی طرف سے راہول گاندھی کی لوک سبھا کی رُکنیت ختم ہونے کے نوٹیفکیشن جاری کیے جانے کے بعد کانگریس کو حیرت کا جھٹکا لگا ہے

پارٹی نے کہا کہ چونکہ راہول گاندھی ارب پتی تاجر گوتم اڈانی کے ساتھ وزیراعظم نریندر مودی کے تعلقات پر مسلسل سوالات اُٹھا رہے ہیں اس لیے بی جے پی حکومت نے انہیں خاموش کرنے کے لیے اس طرح کی سازش رچی ہے۔کانگریس نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ تمام طرح کی سازشوں کے باوجود راہول گاندھی اپنی لڑائی جاری رکھیں گے۔ اور نچلی عدالت کے فیصلے کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرتے ہوئے کیس بھی جیتیں گے۔

کانگریس نےعوامی تحریک چلانے کا کیا اعلان: کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی کی لوک سبھا رکنیت منسوخ کیے جانے کے بعد سیاسی ہلچل اپنے عروج پر ہے۔ ایک طرف اپوزیشن لیڈران کی حمایت لگاتار راہل گاندھی کو حاصل ہو رہی ہے اور دوسری طرف کانگریس آگے کے لیے منصوبہ بندی میں مصروف ہے۔ اس درمیان کانگریس کے دہلی واقع ہیڈکوارٹر میں پارٹی صدر ملکارجن کھڑگے کی صدارت اورکانگریس پردیش کمیٹی کی چیئرپرسن سونیا گاندھی کی موجودگی میں ریاستی صدور، سی ایل پی لیڈران سمیت کانگریس کے سینئر لیڈروں کی میٹنگ ہوئی۔ دو گھنٹے تک چلی اس میٹنگ میں راہل گاندھی کے خلاف ہوئی کارروائی کے سبھی پہلووں پر تبادلہ خیال کیا گیا اور اس تعلق سے ’عوامی تحریک‘ چلانے کا اعلان کیا گیا۔

میٹنگ ختم ہونے کے بعد کانگریس کے میڈیا سیل سربراہ جئے رام رمیش نے میڈیا کو جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ ’’ہم راہل گاندھی کے ساتھ پیش آئے معاملہ کو ملک بھر میں لے کر جائیں گے۔ ہم مودی حکومت کے خلاف آواز اٹھائیں گے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’بھارت جوڑو یاترا سے بی جے پی پریشان ہے اس لیے بوکھلاہٹ میں اس طرح کے قدم اٹھا رہی ہے۔‘‘ جئے رام رمیش نے بتایا کہ میٹنگ میں آگے کی پالیسی پر بات چیت ہوئی اور یہ فیصلہ لیا گیا کہ تنظیمی سطح پر کیا اقدام کیے جائیں گے۔

میٹنگ کے بارے میں اہم جانکاری دیتے ہوئے جئے رام رمیش نے بتایا کہ ’’کئی پارٹیوں نے اس فیصلے کے خلاف اپنا بیان ہماری حمایت میں دیا ہے۔ ہم ان پارٹیوں کی حمایت کرتے ہیں اور ان کے فیصلے کا استقبال کرتے ہیں۔ کانگریس ان پارٹیوں کے ساتھ رابطے میں رہے گی۔‘‘ پریس بریفنگ میں جئے رام رمیش نے یہ بھی کہا کہ ’’راہل گاندھی کی پارلیمانی رکنیت جان بوجھ کر ختم کی گئی ہے اور کانگریس پارٹی اس معاملے میں خاموش نہیں بیٹھے گی۔‘‘

جئے رام رمیش نے راہل گاندھی کی لوک سبھا رکنیت ختم کیے جانے کے تین اہم اسباب بھی شمار کرائے۔ انھوں نے کہا کہ ’’راہل گاندھی کے خلاف ہوئی اس کارروائی کی تین وجوہات ہیں۔ پہلی، راہل گاندھی نے مودی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھائی۔ دوسری، بھارت جوڑو یاترا کی کامیابی سے بی جے پی گھبرائی ہوئی ہے۔ تیسری، راہل گاندھی اڈانی گھوٹالے پر لگاتار بول رہے ہیں۔‘‘


Share: