نئی دہلی، 10؍مئی (ایس او نیوز؍ایجنسی) دہلی ہائی کورٹ نے پیر کو حکم دیا کہ2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات کے دوران جن پانچ لوگوں کو وندے ماترم گانے پر مجبور کیا گیا تھا، ان میں سے ایک کا بیان سی آر پی سی کی دفعہ164کے تحت متعلقہ مجسٹریٹ کے سامنے ایک ہفتے کے اندر درج کیا جائے۔ جسٹس انوپ جے رام بھمبھانی نے کہا کہ محمد وسیم جو کہ واقعے کے وقت نابالغ تھا، کو مجسٹریٹ کے سامنے بیان ریکارڈ کرانے کے لیے پیش کیا جائے۔
وسیم نے 23سالہ فیضان(جومبینہ طور پر پولیس حراست میں مار پیٹ کے بعد جاں بحق ہوگیا تھا) کی والدہ قسمتن کے ذریعہ دائر عرضی میں مداخلت کی درخواست کی ہے۔ قسمتن نے عدالت کی نگرانی میں اپنے بیٹے کی موت کی ایس آئی ٹی جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ واقعہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو سے متعلق ہے جس میں فیضان کو وسیم سمیت چار دیگر افراد کے ساتھ مبینہ طور پر پولیس نے وندے ماترم گانے پر مجبور کرنے پر زدوکوب کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ فیضان کو دہلی پولیس نے غیرقانونی طور پر حراست میں لیا تھا اور اس کے اہل خانہ نے الزام لگایا تھا کہ اس کی ٹھیک طبی سہولت مہیا نہیں کرائی گئی۔ جس کے نتیجے میں وہ26فروری2020 کو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا تھا۔ شہر کے جی ٹی بی اسپتال میں جیوتی نگر پولیس اسٹیشن سے رہائی کے24 گھنٹے کے اندر اس کی موت ہوگئی، جہاں اسے پولیس اہلکاروں کے ذریعہ مبینہ طور پر مار پیٹ کرنے کے بعد لے جایا گیا تھا۔
وسیم کی طرف سے پیش ہونے والے ایڈوکیٹ محمود پراچا نے کہا کہ مداخلت کی عرضی اس حقیقت پر مبنی ہے کہ وسیم جیوتی نگر پولیس اسٹیشن میں فیضان کے ساتھ پیش آنے والے پورے واقعے کا عینی شاہد تھا۔ دوسری طرف دہلی پولیس کی طرف سے پیش ہونے والے اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر امت پرساد نے کہا کہ بار بار درخواست کے باوجود وسیم نے دفعہ164سی آر پی سی کے تحت مجسٹریٹ کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کرانے میں تعاون نہیں کیا۔ تاہم پراچا نے کہا کہ وسیم بیان ریکارڈ کرنے کے لیے تیارہے۔
عدالت عالیہ نے حکم دیا کہ درخواست گزار کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جائے اور سیکشن164 سی آر پی سی کے تحت بیان ایک ہفتے کے اندر ریکارڈ کیا جائے۔ اگلی سماعت کی تاریخ سے پہلے ایک کاپی ریکارڈ پر رکھی جائے۔
دوسری طرف قسمتن کی نمائندگی کرنے والی ایڈوکیٹ ورندا گروور نے دلیل دی کہ جیوتی نگر پولس اسٹیشن کے ایس ایچ او اور دیگر پولیس اہلکاروں سے ابھی تک پوچھ گچھ کی جانی ہے یا انہیں شک کے دائرے میں لایا جانا باقی ہے۔