ریاض،23اگست؍(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)شدت پسند تنظیم دولت اسلامی داعش کے ہاں کم سن بچوں کو جنگ کا ایندھن بنائے جانے کی خبریں نئی نہیں۔ عالمی ذرائع ابلاغ کی مستند رپورٹس بتاتی ہیں کہ داعش کے ہاں کم سن جنگجوؤں اور خود کش بمباروں کی تعداد سنہ 2015ء کی نسبت سنہ 2016ء میں تین گنا بڑھ چکی ہے۔داعش کی جانب سے بچوں کو جنگی تعلیم دیے جانے سے متعلق ایک رپورٹ پربھی روشنی ڈالی ہے۔ اس ضمن میں داعش سے راہ فرار اختیارکرنے والے ایک 14سالہ جنگجو کے بیانات کی روشنی میں بتایا گیا ہے کہ آیا داعش بچوں کو جنگجو بنانے کے لیے کون کون سے حربے استعمال کرتی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ داعش کے ہاں اس وقت خود کش بمباروں کی 40فی صد تعداد نابالغ بچوں پر مشتمل ے جن کی جنگی بنیادوں پر تربیت کی جا رہی ہے۔ انہیں خود کش حملوں، کار خود کش بمباروں، فوجی تنصیبات پرحملوں اور دیگر جنگی اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔داعش کے چنگل سے فرار ہونے والے ایک چودہ سالہ بچے نے بتایا کہ داعش جنگجو بچوں کو یہ تعلیم دیتے کہ آپ اپنی ہرچیز تنظیم کے لیے وقف کردیں گے، حتیٰ کہ تنظیم کو آپ کی جان کی قربانی دینا پڑے تو اس سیبھی گریز نہ کیا جائے۔امریکا کی جارج اسٹیٹ یونیورسٹی سے وابستہ دو تحقیق کاروں میا بلوم اور جون ھورگان نے اپنی رپورٹ میں داعش کے ہاں بچوں کو جنگ کی تربیت دیے جانے کے اسلوب پر روشنی ڈالی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جیسے جیسے تنظیم پر دباؤ آئے گا اور اس کے جوان جنگجوؤں کی زیادہ تعداد ہلاک ہوتی جائے گی، ایسے ہی تنظیم میں بھرتی کیے گئے بچوں پر بوجھ بھی بڑھتا جائے گا۔ وہ بچوں کو خود کش بمباروں کے طور پر استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر مقاصد کے لیے بھی استعمال کرے گی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ داعش پہلی تنظیم نے جو بچوں کو جنگی مقاصد کے لیے استعمال کررہی ہے۔ اس سے قبل یہی کام بشارالاسد، عراق کے سابق مصلوب صدر صدام حسین، یمن کے حوثی جنگجو بچوں کی مخصوص ذہن سازی کرتے ہوئے انہیں جنگ کا ایندھن بنانے کی پالیسی پرعمل پیرا رہے ہیں۔ ان سب کی جانب سے بچوں کو دو بنیادی سوالات کی تعلیم دی جاتی۔ پہلا یہ کہ آپ نے اپنے دشمن کو کیسے قتل کرنا ہے۔ دوم آپ اپنے کمانڈر یا تنظیم کے سربراہ کے لیے کیسے مطلق وفاداری کا اٖظہار کرنا ہے۔برطانوی اخبار انڈی پنڈنٹ نے داعش کے چنگل سے فرار ہونے والے بچے کے تاثرات شائع کیے ہیں۔ بچے کا کہا ہے کہ داعش کے ہاں تین اقسام کے لشکر ہیں، لشکر ریاست، لشکر خلافہ اور لشکر عدنان۔ ان تینوں فوجی گروپوں میں بچوں کی ایک معقول تعداد شامل ہے۔ بچوں کی تعلیم وتربیت اور انہیں جنگی حربوں کی آگاہی کے لیے اشبال الخلافہ کے نام سے الگ سے بھی رکھاگیا ہے۔ اس گروپ میں شامل بچوں کی ذہنی، فکری، نظریاتی اور عقاید کی تربیت کی جاتی ہے۔ اسے سکھایا جاتا ہے کہ ہم کفار کو کیسے اور کیوں کرقتل کرسکتے ہیں۔ بچوں کوسکھایا جاتا ہے کہ وہ خود کش بمبار بننا پسند کریں۔ سابق کم سن جنگجو کا کہنا ہے کہ وہ ایک ایسے بچے کو بھی جانتا ہے جس نے محض آٹھ سال کی عمر میں خود کش حملہ کیا تھا۔
ماہرین کا خیال ہے کہ داعش نے اپنی جنگ جاری رکھنے کے لیے طویل المیعاد حکمت عملی وضع کی ہے۔ جہاں ایک طرف داعش کم سن بچوں کی ذہن سازی کرکے انہیں جنگجو بنانے کے لیے کوشاں ہے وہیں وہ جنگجوؤں کے خاندانوں کو بھی منظم کر رہی ہے۔ داعش کی طرف سے اس تصور کوخوب راسخ کیا جا رہا ہے کہ ان کی خلافت اور مملکت میں جنگجوؤں کا خاندان ریاست کا جزو لازم ہے۔ اسی مقصد کے لیے کم سن بچوں اور دیگر افراد کی سمعی، بصری اور عقلی تربیت کی جاتی ہے۔ حتیٰ کہ قرآن کریم کے وہ اجزاء انہیں تواترکے ساتھ سکھائے اور پڑھائے جاتے ہیں جن میں جنگ و قتال کا ذکر ہے اور ان میں سے بھی وہ آیات جہاں کفار کے قتل کا تذکرہ ہے خاص طور پر بچوں کے نصاب میں شامل کیا جاتا ہے۔ یوں ایک طرح داعش کم سن بچوں کو کفار کو قتل کرنے کی ترغیب دیتی چلی آ رہی ہے۔ اس طرح داعش پوری دنیا کو یہ پیغام بھی دے رہی ہے کہ وہ صرف کسی گروپ کی جنگی تربیت نہیں کررہی ہے بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی اپنی جنگ جاری رکھنے کے لیے تیار کررہی ہے۔ گھروں سے دور واقع داعش کے اسکولوں میں بچوں کو ان کے اصل ناموں کے بجائے کنیت سے پکارا جاتا ہے اور انہیں مکمل طورپر جہادی ماحول میں رکھا جاتا ہے۔
داعش کے ہاں تین طرح کے اسکول پائے جاتے ہیں۔ پہلا اسکول دینی تعلیم سے متعلق ہے۔ یہ سب سے زیادہ خطرناک ہے کیونکہ اس میں بچوں کو جہادی فکر سے روش ناس کرایا جاتا ہے۔ بچوں کو خود کش حملوں کے لیے تیار کیا جاتا ہے اور ان میں غیرمسلموں کے لئے نفرت کوٹ کوٹ کر بھری جاتی ہے۔دوسرے اسکول عملی تربیت سے متعلق ہیں جہاں بچوں کو جسمانی مشقت کے ذریعے اسلحہ کے استعمال کے گر سکھائے جاتے ہیں۔تیسری قسم کے اسکولوں میں نفسیاتی نوعیت کی تربیت مہیا کی جاتی ہے۔ اس میں بچوں کو سکھایا جاتا ہے کہ وہ اپنے دشمن کو ذبح کرتے ہوئے کسی نرمی یا رحم دلی کا مظاہرہ نہ کریں۔