نئی دہلی، 23؍اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)بی جے پی لیڈر سبرامنیم سوامی نے جی ایس ٹی کے لیے انفارمیشن ٹیکنالوجی نیٹ ورک کا ڈھانچہ تیار کرنے کے لیے قائم کمپنی کو ملک مخالف قرار دیتے ہوئے آج کہا کہ جی ایس ٹی بل کو پارلیمنٹ تبھی منظور ی دے سکتاہے جب کہ جی ایس ٹی این کو سیکورٹی سے متعلق منظوری مل چکی ہو۔گڈس اور سروس ٹیکس نیٹ ورک(جی ایس ٹی این)ایک خصوصی مقاصد اکائی ہے۔اس کا قیام گزشتہ یو پی اے حکومت کے وقت کیا گیا تھا۔سوامی نے ٹوئٹ پر ایک کے بعد ایک کئی تبصرے اور سوالات کے جواب میں کہا کہ جی ایس ٹی پر تبھی عمل ممکن ہو سکتا ہے جب سپریم کورٹ انٹرنس ٹیکس سے متعلق درخواست کا تصفیہ کر دے جو اس کے پاس زیر التواء ہے۔سوامی نے ٹوئٹ کیاکہ جی ایس ٹی بل پارلیمنٹ تبھی منظور کر سکتا ہے جب دو مسائل، جی ایس ٹی ا ین کو وزارت داخلہ کی سیکورٹی سے متعلق منظوری مل جائے اور ایچ ہنس مکھ ادھیا کے 7 چیلنجوں کا حل ہے۔تاریخ2020،لیکن یہ فوری طور پر صاف نہیں ہوا ہے کہ تاریخ 2020سے ان کا کیا مطلب ہے۔جی ایس ٹی ا ین میں حکومت کی حصہ داری 24.5فیصد ہے جبکہ قومی دارالحکومت خطہ دہلی اور پڈوچیری اور وزراء خزانہ کی حقوق حاصل کمیٹی سمیت ریاستی حکومتیں اس میں 24.5فیصد حصہ دار ہیں۔باقی 51فیصد حصہ داری غیر سرکاری مالیاتی اداروں کے پاس ہے۔سوامی پوری طرح سرکاری کنٹرول میں اتھارٹی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ٹوئٹر پر آج انہوں نے سات چیلنجوں کا ذکر کیا ہے۔اس میں جی ایس ٹی کی شرح، چھوٹ حاصل فہرست کے بارے میں فیصلہ اور مرکز اور ریاستوں کی طرف سے دوہرا کنٹرول نہیں ہونے کو یقینی بنانا شامل ہے۔ان چیلنجوں کا ذکر ریونیو کے سکریٹری ہنس مکھ ادھیا نے کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ جی ایس ٹی کو یکم اپریل 2017سے نافذ کرنے کے راستے میں یہ چیلنجز ہیں۔