نئی دہلی، 4؍ جنوری (ایس او نیوز؍ایجنسی) راہل گاندھی کی قیادت میں جاری ’بھارت جوڑو یاترا‘ ۹؍ دن کے وقفے کے بعد منگل کو جب دوبارہ شروع ہوئی تو اس کے تعلق سے جوش و خروش اور جذبے میں دگنا اضافہ دیکھا گیا۔ اپنے دوسرے مرحلے میں دہلی سے شروع ہونے والی یاترا یوپی کے شہر غازی آباد پہنچ گئی جہاں یوپی اور دہلی کی سرحد پر عوامی اجلاس رکھا گیا۔ اس اجلاس سے راہل گاندھی کے علاوہ ان کی بہن پرینکا گاندھی نے بھی خطاب کیا۔
بھارت جوڑو یاترا لونی بارڈر کے راستے غازی آباد میں داخل ہوئی۔ یاترا میں لوگوں کی بڑی تعداد کی شرکت کے پیش نظر دہلی پولیس اور غازی آباد پولیس نے سفری ہدایات جاری کی ہیں۔ اس سے قبل راہل گاندھی لال قلعہ کے قریب واقع ہنومان مندر (مرگھٹ والے بابا) گئے ۔ اس کے بعد یاترا صبح ۱۰؍ بجے روانہ ہوئی اور لوہے کے پل، شاستری پارک، فرنیچر مارکیٹ، دھرم پورہ اور انصاری روڈ ہوتے ہوئے ہوئی دوپہر ۱۲؍بجے لونی بارڈر پہنچے جہاں جلسہ کا انعقاد کیا گیا تھا۔ یہاں یاترا کا پرچم یوپی کانگریس کے حوالے کیا گیا۔ پرینکا گاندھی یاترا کا استقبال کرنے خود لونی بارڈر پر آئی تھیں۔ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی بی جے پی اور مرکزی حکومت کو شدید تنقیدوں کا نشانہ بنایا۔
پرینکا گاندھی نے بی جے پی کی نفرت آمیز پالیسیوں کے نقصانات عوام کو بتائے۔ اپنی تقریر کے دوران پرینکا گاندھی نے کہا کہ جیسا راہل گاندھی نے بتایا کہ انہوں نے نفرت کے بازار میں محبت کی دکان کھولی ہے، میں یہاں کھڑے یوپی کے ایک ایک کارکن، ایک ایک باشندہ کو کہنا چاہتی ہوں کہ وہ ہر گلی میں، ہر محلے میں، ہر گاؤں میں، ہر بلاک میں، ہر ضلع میں، ہر سڑک پر محبت کی دکان کھولے، میرا یقین ہے کہ یہ دکان خوب چلے گی۔
پرینکا گاندھی نے اپنی تقریر میں راہل گاندھی کی دل کھول کر تعریف بھی کی۔اپنے خطاب میں پرینکا گاندھی نے کہا کہ آج اتر پردیش کی زمین پر بھارت جوڑو یاترا کا استقبال کرتے ہوئے مجھے بہت فخر ہو رہا ہے۔ فخر ہر اس بھارت یاتری پر، ایک ایک باشندہ پر ہے جو اس یاترا سے جڑا ہوا ہے کیونکہ اس یاترا کا جذبہ محبت، خیر سگالی اور اتحاد کو پھیلانا ہے۔ اسی جذبہ نے اس ملک کی بنیاد ڈالی ہے۔ مجھے آپ سب پر فخر ہے کہ ۳؍ہزار کلو میٹر پیدل چل کر آپ یہاں پہنچے ہیں۔ اور مجھے سب سے زیادہ فخر اپنے بڑے بھائی (راہل گاندھی) پر ہے کیونکہ حکومت نے ہزار کروڑ روپے خرچ کر دیئے ان کی شبیہ خراب کرنے کے لئے، اقتدار کا پورا زور لگا دیا گیا، لیکن یہ سچائی سے ہٹے نہیں۔ ان پر ایجنسیاں لگائی گئیں لیکن یہ ڈرے نہیں۔ یہ مقابلہ کرنے والے ہیں۔ پرینکا نے مزید کہا کہ اڈانی اور امبانی نے بڑے سے بڑے لیڈر خرید لئے، ملک کی تمام منافع دینے والی سرکاری کمپنیاں خرید لیں، ملک کا میڈیا خرید لیا لیکن میرے بھائی کو نہیں خرید سکے اور نہ کبھی خرید پائیں گے۔ فخر ہے مجھے ان پر اور آپ سب پر۔‘‘ واضح رہے کہ آج ۴؍ جنوری کو یاترا باغپت سے شاملی کے لئے روانہ ہوگی۔ اس کے بعد یاترا ۵؍جنوری شاملی سے شروع ہو کر شام میںہریانہ کے پانی پت پہنچے گی۔ قابل ذکر ہے کہ بھارت جوڑا یاترا اترپردیش میں تین دن تک سفر طے کرے گی۔ اس دوران راہل گاندھی یاترا سے جڑے لوگوں سے خطاب کریں گے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل راء کے سابق چیف امر جیت سنگھ دُلت نے بھی یاترا میں شرکت کی اور راہل گاندھی کے قدم سے قدم ملائے۔ انہوں نے فی الحال اپنی شرکت کی وجہ نہیں بتائی لیکن اتنا ضرور کہا کہ وہ ہندوستان میں محبت کے فروغ کے لئے یاترا میں شامل ہوئے ہیں۔