احمد آباد، 20اگست؍(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)گجرات کے سریندرنگر ضلع کے تھانگد میں تین دلتوں کو گولی مار کر قتل کرنے کے واقعہ کے چار سال بعد ریاستی حکومت نے معاملے کی تحقیقات کے لئے خصوصی تفتیشی ٹیم(ایس آئی ٹی)تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومت کی جانب سے جاری اعلامیہ میں آج بتایا گیا کہ دلت لیڈروں کے اصرار پر وزیر اعلی وجے روپانی نے ایس آئی ٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔پریس ریلیز میں ریاست کے وزیر داخلہ پردیپ سنگھ جڈیجہ کے حوالے سے کہا گیا کہ وزیر اعلی وجے روپانی نے کابینی وزیرآتمارام پرمار، سابق وزیر رمن لال ووہرا اور راجیہ سبھا رکن شبھوپرسادٹنڈیا سمیت دلت لیڈروں کے اصرار پر یہ فیصلہ کیا۔حکومت نے خصوصی عدالت کے قیام کرنے اور معاملے میں تیزی لانے کے لئے خصوصی پبلک پراسیکیوٹر کی تقرری کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔حکومت نے ہلاک ہوئے ہر ایک شخص کے لواحقین کو دودو لاکھ روپے اضافی معاوضہ دینے کا بھی فیصلہ کیا ہے جو پہلے کے معاوضے کے علاوہ ہو گا۔اونا شہر میں دلتوں کو پیٹے جانے کے واقعہ کے بعد تھانگد پولیس فائرنگ معاملہ روشنی میں آیا۔