ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / تعلیمی نصاب میں خامیوں کو دور کیا گیا ہے:تنویر سیٹھ

تعلیمی نصاب میں خامیوں کو دور کیا گیا ہے:تنویر سیٹھ

Fri, 16 Dec 2016 19:09:02    S.O. News Service

بنگلورو۔15؍دسمبر(ایس او نیوز) ریاستی وزیر برائے بنیادی وثانوی تعلیمات تنویر سیٹھ نے ان الزامات کی تردید کی ہے کہ تعلیمی نصاب پر نظر ثانی اس لئے کی جارہی ہے کہ اہندا سے جڑے امور کو نصاب کا حصہ بنایا جائے۔ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ تعلیمی نصاب میں جو خامیاں ہیں انہیں دور کرنے کیلئے نصاب بدلا جارہاہے ، اسے کسی سیاسی نظریہ سے ہم آہنگ کرنے کیلئے یہ قدم نہیں اٹھایا جارہاہے۔ وزیر اعلیٰ سدرامیا کی سرکاری رہائش گاہ کاویری میں انہوں نے اخباری نمائندوں کو بتایاکہ پروفیسر برگور رامچندرپا کمیٹی کو تعلیمی نصاب میں خامیوں کی نشاندہی کرکے اسے دور کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی، اسے یہ ذمہ داری قطعاً نہیں دی گئی کہ نصاب میں اہندا سے جڑے عناصر شامل کئے جائیں۔ انہوں نے کہاکہ تعلیمی نصاب میں اہندا سے جڑے امور کو زیادہ جگہ ملنے کے الزامات درست نہیں۔ انہوں نے کہاکہ قومی سطح پر جو تعلیمی نصاب کے معیارات ہیں ان کواپنا کر حکومت نے اعلیٰ معیاری تعلیمی نصاب مرتب کرنے کی طرف توجہ دی ہے۔ انہوں نے کہاکہ بی جے پی کی طرف سے تعلیمی نصاب پر نظر ثانی کو غیر ضروری طور پر سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی جارہی ہے جو درست نہیں۔انہوں نے کہاکہ بی جے پی کے دور اقتدار میں تعلیمی نصاب میں تحریک کرکے جن خامیوں کو شامل کیاگیاتھا حکومت انہیں درست کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ 15 جنوری تک پروفیسر رام چندرپا اپنی تفصیلی رپورٹ حکومت کو پیش کردیں گے، جس کے بعد اگلے تعلیمی سال سے ہی نظر ثانی شدہ نصاب رائج کردیا جائے گا۔

پی یو لکچرارس کا مسئلہ:اس سے قبل وزیر اعلیٰ سدرامیا کی صدارت میں پی یو سی لکچرارس کی تنخواہوں کے مسئلے پر بحث کی گئی ۔ ریاستی حکومت نے سرکاری پی یو کالجوں میں 2013 کے دوران مقرر کئے گئے لکچرارس کو بی ایڈ ڈگری حاصل کرنے کیلئے رہائش کے ساتھ چھٹی دینے یا آدھی تنخواہ دینے کے متعلق بات چیت کی ہے، اور یہ طے کیاگیا کہ ریاستی کابینہ میں تبادلۂ خیال کے بعد اس سلسے میں حکومت اپنا موقف ظاہر کرے گی۔وزیر اعلیٰ سدرامیا نے اس موقع پر تنویر سیٹھ کو ہدایت دی کہ اس سلسلے میں تفصیلی رپورٹ کابینہ کے سامنے لائی جائے۔وزیر اعلیٰ سے ملاقات کے بعد تنویر سیٹھ نے بتایاکہ 2013میں مقرر کئے گئے پی یو سی لکچرارس میں سے 700 سے زائد نے بی ایڈ ڈگری نہیں کی ہے۔انہیں بی ایڈ ڈگری کرنے کی سہولت فراہم کرنے کیلئے دو سال چھٹی مع تنخواہ دینے لکچرارس کی انجمن نے مطالبہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں غور وخوض کے بعد کابینہ کے روبرو مسئلہ لایا جائے گا۔ نئے ضوابط کے مطابق پی یوسی لکچرارس کو بی ایڈ کرنالازمی قرار دیا گیاہے، جس کی وجہ سے لکچرارس کی انجمن نے ایسے لکچرار س کو چھٹی مع تنخواہ دینے کا مطالبہ کیاہے۔ اس سلسلے میں حکومت یہ طے کرے گی کہ انہیں چھٹی دی جائے یا آدھی تنخواہ دی جائے۔بہت جلد اس سلسلے میں و ہ لکچرارس کی انجمن کے عہدیداروں سے تبادلۂ خیال کریں گے۔


Share: