آسام، 5؍مئی (ایس او نیوز؍ایجنسی) تشدد کی آگ میں جل رہے منی پور میں فوج اور آسام رائفلز نے جمعہ کو تیسرے دن بھی کئی بدامن ضلعوں میں فلیگ مارچ کیا، لیکن اس کے باوجود مختلف علاقوں سے یکا دوکّا تشدد کی وارداتیں پیش آئیں۔ ان حالات میں اب لوگ اپنی جان بچانے کے لیے ندی پار کرکے پڑوسی ریاست آسام میں پناہ لینے کے لئے مجبور ہوگئے ہیں۔
میڈیا رپورٹوں کے مطابق ہزاروں لوگ جدوجہد کرتے ہوئےمنی پور کی سرحد پار کر آسام کے کچھار ضلع میں پہنچ کر پناہ لے رہے ہیں۔
کچھار ضلع انتظامیہ نے بتایا کہ جمعرات کی شام سے منی پور فساد شدہ علاقوں کے لوگ ندی کو پار کر بڑی تعداد میں پناہ لینے کے لیے پہنچ رہے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ منی پور کے 1000 سے زیادہ لوگ آسام کے کچھار ضلع میں داخل ہو چکے ہیں۔ انھوں نے ضلع کے مختلف حصوں میں پناہ لی ہے۔ ہم نے لکھی پور ڈویژنل علاقہ کے کچھ سرکاری اسکولوں میں عارضی پناہ گاہ کا انتظام کیا ہے۔ ضلع انتظامیہ نے ان کے لیے سبھی انتظامات کیے ہیں اور انھیں کھانے، پینے وغیرہ کی سہولت فراہم کی ہے۔
کچھار ضلع کے ایس پی نومل مہٹا نے کہا کہ منی پور کے 1000 سے زیادہ لوگ ضلع کے مختلف حصوں میں پناہ لے رہے ہیں۔ ہم نے کچھ اسکولوں اور دیگر مقامات پر ان کے لیے سبھی انتظامات کیے ہیں۔ ہم حالات پر نظر رکھ رہے ہیں۔ آسام رائفلز، سی آر پی ایف نے بھی ہمارا ساتھ دیا ہے۔ مقامی لوگ بھی منی پور کے تشدد متاثرہ علاقوں سے آنے والے لوگوں کی مدد کر رہے ہیں۔
اس درمیان آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے جمعہ کی صبح ٹوئٹر پرلکھا کہ منی پور میں حال کے واقعات سے متاثر کئی کنبوں نے آسام میں پناہ مانگی ہے۔ میں نے کچھار کی ضلع انتظامیہ سے ان کنبوں کی دیکھ بھال کی گزارش کی ہے۔ سرما نے کہا کہ وہ منی پور میں اپنے ہم منصب این بیرین سنگھ کے ساتھ لگاتار رابطے میں ہیں اور ہم نے بحران کے اس وقت میں آسام حکومت کو پوری حمایت دینے کا وعدہ کیا ہے۔
حالات کے تعلق سے لکھی پور کے رکن اسمبلی کوشک رائے نے کہا کہ ہم ان سبھی لوگوں کی دیکھ بھال کر رہے ہیں جو تشدد متاثرہ منی پور سے کچھار ضلع میں پناہ لے رہے ہیں۔ کئی لوگ لکھی پور علاقے میں اپنے رشتہ داروں کے گھر بھی گئے ہیں۔ دیگر افراد کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔ رائے نے یہ بھی بتایا کہ ریاست کی سرحد پار کرنے والے بیشتر لوگ ککی قبیلہ کے ہیں۔
واضح رہے کہ میتی طبقہ کو درج فہرست قبائل (ایس ٹی) میں شامل کرنے کے مطالبہ کی مخالفت کرنے کے لیے منی پور کے 10 پہاڑی اضلاع میں ’قبائلی اتحاد مارچ‘ میں ہزاروں لوگوں کے شامل ہونے کے بعد بدھ کو پہلی بار تشدد برپا ہوا تھا۔ مارچ کے بعد مختلف طبقات کے درمیان تصادم شروع ہو گئے۔ مختلف اضلاع میں شرپسندوں نے کئی گھروں اور دکانوں کو جلا دیا۔ حالات کو دیکھتے ہوئے ریاست میں پانچ دنوں کے لیے موبائل انٹرنیٹ خدمات کو معطل کر دیا گیا اور امپھال مغرب، بشنوپور، جیریبام، وینوگوپال و چاندپور کے تشدد متاثرہ ضلعوں میں رات کا کرفیو لگا دیا گیا۔