انقرہ،22/ اگست (آئی این ایس انڈیا) ترک صدر رجب طیب اردوان نے ایک ہفتے قبل قوم کو خوش خبری سنانے کا کیا گیا وعدہ پورا کرتے ہوئے بحیرہ اسود میں ترک ساحل کے قریب قدرتی گیس کے ذخائر دریافت کرنے کا اعلان کردیا۔
ترک خبر ایجنسی اناطولو کی رپورٹ کے مطابق طیب اردوان نے استنبول کے تاریخی دولماباغچہ محل میں اپنے خطاب میں کہا کہ ترکی کو بحیرہ اسود میں قدرتی گیس کے بڑے ذخائر ملے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گیس کی تلاش کرنے والے جہاز فاتح نے 11.3 کھرب کیوبک فٹ قدرتی گیس دریافت کرلی ہے۔
طیب اردوان نے ایک ہفتہ قبل قوم سے وعدہ کیا تھا کہ جلد ہی اچھی خبر ملے گی اور جمعے کو اچھی خبر قدرتی گیس کے ذخائر کی دریافت کے حوالے سے سامنے آئی۔
ان کا کہنا تھا کہ بحیرہ اسود کے اطراف کے خطے میں قدرتی گیس ملنے کے امکانات تھے اور یہ گیس عام شہریوں کے استعمال کے لیے 2023 میں دستیاب ہوگی۔
ترک صدر نے کہا کہ بحیرہ اسود کے قریبی صوبے میں گیس دریافت ہونے والے علاقے میں ٹیونا ون ذخیرے کی ٹیسٹنگ، جائزہ اور انجینئر نگ تحقیق کے تمام مراحل مکمل کرلیے گئے ہیں، اور اب اس منصوبے کو سکاریا گیس فیلڈ کا نیا نام دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں دریافت ہونے والے ذخائر کا یہ واحد خطہ ہے جو قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اور امید ہے کہ ترکی کو بحیرہ روم سے بھی مزید خوشخبریاں ملیں گی۔
رپورٹ کے مطابق ڈرلنگ جہاز فاتح نے گیس کی تلاش کا کام رواں برس 20 جولائی کو شروع کیا تھا۔
فاتح کے 103 میٹر اونچے ٹاور کو باسفورس کے پل سے باآسانی گزارنے کے لیے الگ کردیا گیا اور جہاز استنبول سے 29 مئی کو روانہ ہوا تھا اور 6 جون کو اپنی منزل میں پہنچ گیا تھا۔
ترک صدر نے گیس اور تیل کے مزید ذخائر کی تلاش جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ فاتح اور یوریز ڈرلنگ جہازوں نے بحیرہ اسود اور بحیرہ روم میں گہرے پانی میں 9 مقامات پر ڈرلنگ کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ترکی بحیرہ روم میں رواں برس کے اختتام پر کام شروع کرے گا اور اس کے لیے ڈرلنگ جہاز کنونی کو استعمال کیا جائے گا جو اس وقت تیار ہو رہا ہے۔
ترک صدر نے کہا کہ ترکی اس وقت تک آرام سے نہیں بیٹھے گا جب تک تیل اور گیس برآمد کرنے والا خطے کا بڑا ملک نہیں بنتا۔طیب اردوان نے کہا کہ ہم نے گیس اور تیل کی ڈرلنگ اور تحقیق کا کام بیرونی طاقتوں کے مدد کے بغیر اپنے بل بوتے پر مکمل کیا ہے۔
واضح رہے کہ یونان اور مصر کی جانب سے حدود بندی کے متنازع معاہدے کے بعد گزشتہ ہفتے ہی ترکی نے مشرقی بحیرہ روم میں تیل کی تلاش کا کام شروع کردیا تھا۔