بیلتنگڈی، 4 ؍ جون (ایس او نیوز) شہر کے کوکاڈا میں واقع ساوتڈکا مندر روڈ پر وشواہندو پریشد ، بجرنگ دل اور ہندو جاگرن ویدیکے کی طرف سے ایک بورڈ آویزاں کیا گیا جس میں لکھا ہے کہ غیر ہندووں کے ذریعے چلائے جا رہے آٹو رکشہ ، ٹیکسی اور دوسری موٹر گاڑیوں کا داخلہ اس علاقہ میں ممنوع رہے گا ۔
اس بینر نما بورڈ میں لکھا ہے کہ " جیسا کہ معلوم ہوا ہے ، دوسرے مذہب کے لوگ ہندووں کے لئے مقدس ساوتڈکا مندر احاطہ میں داخل ہو کر ہندو لڑکیوں کے ساتھ 'لَو جہاد' کے علاوہ دوسری مجرمانہ زیادتیاں انجام دی ہیں ۔ اس لئے مندر کی طرف جانے والے روڈ غیر ہندووں کے ذریعے چلائے جانے والے آٹو رکشہ اور ٹیکسی سمیت تمام موٹر گاڑیوں کا داخلہ ممنوع رہے گا ۔"
بتایا جاتا ہے کہ ایک مسلم ڈرائیور کے رکشہ پر بیٹھ اس مندر میں مسلسل حاضری دینے والی ہندو لڑکی نے پچھلے کچھ دنوں قبل اس ڈرائیور سے شادی کر لی ہے ۔ اس کے بعد ہندو تنظیموں نے اس کے خلاف محاذ بنایا ہے اور اس طرح کا بورڈ آویزاں کیا ہے ۔
مندر کی انتظامیہ کمیٹی نے مذکورہ واقعہ کے پس منظر میں اس طرح کا بینر لگائے جانے کی توثیق کرتے ہوئے کہا کہ ہندو تنظیموں کی جانب سے لگائے گئے اس بینر کا مندر انتظامیہ کے ساتھ کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔
سوشیل میڈیا پر اس بینر کے وائرل ہونے اور گرما گرم بحث شروع ہونے کے بعد کوکاڈا پنچایت کی طرف سے بینر ہٹایا گیا مگر کسی کے خلاف کوئی شکایت درج نہیں کروائی گئی ۔ اس کے علاوہ بیلتنگڈی سرکل پولیس انسپکٹر شیواکمار ، دھرمستھلا سب انسپکٹر کرشنا کانت ، کوکاڈا پی ڈی او راج وغیرہ نے موقع پر پہنچ کر جائزہ لیا ۔