ہبلی 7/مئی (ایس او نیوز/ایجنسی) کانگریس کی سابق صدر سونیا گاندھی نے ہفتہ کے روز کرناٹک کے ہبلی میں ایک انتخابی جلسہ کو خطاب کرتے ہوئے بی جے پی پر زوردار حملہ کیا۔ اپنی تقریر کے شروع میں انھوں نے جلسہ عام میں موجود لوگوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ مجھے یقین ہے کہ ریاست میں تبدیلی ہوگی اور بہت جلد ہوگی۔ سونیا گاندھی نے کہا کہ جو لوگ ریاست کو لوٹ رہے ہیں انھیں عوام 10 مئی کو جواب دے گی۔
سونیا گاندھی نے جے پی نڈا کے ذریعہ کرناٹک کو پی ایم مودی کے آشیرواد دینے والے بیان کو لے کر حملہ بولتے ہوئے کہا کہ کرناٹک کے لوگ محنتی ہوتے ہیں اور انھیں کسی لیڈر کے آشیرواد کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ریاست کے لوگ اپنی محنت پر بھروسہ کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’بی جے پی کے لیڈر دھمکی دیتے ہیں کہ اگر وہ نہیں جیتے تو کرناٹک کے لوگوں کو پی ایم مودی کا آشیرواد نہیں ملے گا اور فسادات ہوں گے۔ میں بی جے پی کو بتانا چاہتی ہوں کہ کرناٹک کے لوگ کسی کے آشیرواد پر نہیں، اپنی محنت پر بھروسہ کرتے ہیں۔ کرناٹک کے لوگ 10 مئی کو بتائیں گے کہ وہ کس مٹی سے بنے ہیں۔‘‘
کانگریس لیڈر سونیا گاندھی نے لوگوں سے اپیل کی کہ بی جے پی کی ’اندھیر نگری‘ کے خلاف آواز بلند کرنا سب کی ذمہ داری ہے۔ ہم سبھی کا فرض ہے کہ اندھیر نگری کی حکومت کے خلاف آواز بلند کریں۔ انھوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت کے لوٹ-جھوٹ، گھمنڈ اور نفرت نے جس طرح کا ماحول بنایا ہے، اس سے چھٹکارا پائے بغیر نہ کرناٹک ترقی کر سکتا ہے اور نہ ہی ملک کی ترقی ہو سکتی ہے۔
سونیا گاندھی نے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چکمنگلورو کے لوگوں نے اندرا گاندھی جی کی حمایت کی۔ جب میں نے پہلی بار انتخاب لڑا تو بیلاری کے لوگوں نے میری حمایت کی۔ اب ہم سب کو مل کر نفرت پھیلانے والی اس حکومت سے لڑنا ہے۔ ہزاروں لوگوں نے راہل گاندھی کی حمایت کی اور وہ ان کے ساتھ چل پڑے۔ بھارت جوڑو یاترا سے بی جے پی ڈر گئی ہے۔ ڈکیتی بی جے پی کا کام ہے۔ 2019 میں آپ نے انھیں حکومت نہیں بنانے دی، لیکن انھوں نے ڈکیتی کی اور حکومت بنائی۔
سونیا گاندھی نے الزام عائد کیا کہ ’’ڈکیتی ڈالنا اقتدار میں بیٹھے لوگوں کا دھندھا ہو گیا ہے۔ انھوں نے ڈکیتی ڈال کر اقتدار ہتھیا لیا ہے۔ اس کے بعد ان کی 40 فیصد حکومت عوام کو لوٹنے میں لگ گئی ہے۔‘‘ انھوں نے ’بھارت جوڑو یاترا‘ کا تذکرہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’’اس یاترا سے بی جے پی کو اتنی گھبراہٹ ہوئی کہ وہ ہر طرح کے استحصال پر آمادہ ہو گئی ہے۔ ان کے لیڈر کسی سوال اور چٹھی کا جواب نہیں دیتے۔ وہ آئینی اداروں کو اپنی جیب میں سمجھتے ہیں۔‘‘ سونیا گاندھی نے کانگریس امیدواروں کو کامیاب بنانے کی عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ’’کرناٹک کو بی جے پی کی لوٹ سے بچانے کے لیے 10 مئی کو کانگریس کے سبھی امیدواروں کو زبردست اکثریت سے کامیاب بنائیں۔ ایماندار، ترقی کی گارنٹی دینے والی حکومت بنا کر اپنا مستقبل تابناک بنائیں۔‘‘
کانگریس کی سابق صدر نے اپنی تقریر کے دوران یہ بھی کہا کہ کرناٹک بھگوان بسونّا، عظیم شاعر کویمپو کی زمین ہے، لیکن بی جے پی ان سبھی کے جذبات کو روزانہ مجروح کر رہی ہے۔ آپ سیاسی مفاد حاصل کرنے کے لیے کرناٹک اور ملک کو تباہی کے راستے پر مت لے جائیے۔ سماجی خیر سگالی بنائے رکھنے، ترقی، لوٹ پاٹ اور کمیشن سے پاک کرناٹک کے لیے آپ کا واحد بھروسہ کانگریس ہے۔