ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / بہار،یوپی میں بارش سے حالات خراب ، مدھیہ پردیش کے لیے اگلے 48گھنٹے سنگین 

بہار،یوپی میں بارش سے حالات خراب ، مدھیہ پردیش کے لیے اگلے 48گھنٹے سنگین 

Fri, 19 Aug 2016 21:17:13    S.O. News Service

نئی دہلی، 19؍اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)مدھیہ پردیش کے مغربی حصے میں اگلے 24سے 48گھنٹوں میں موسلادھار بارش کا اندیشہ ہے۔محکمہ موسمیات نے مغربی مدھیہ پردیش کے لیے 20؍اگست تک کے لیے ریڈ الرٹ جاری کر دیا ہے۔ادھر، دوسری طرف ڈیپ ڈپریشن جھارکھنڈ سے آگے بڑھ کر جنوبی اتر پردیش اور شمال مشرقی مدھیہ پردیش سے گزر تا ہوا مغربی مدھیہ پردیش پہنچ رہا ہے۔اس موسمیاتی نظام کی وجہ سے گزشتہ 24گھنٹوں میں شمال مشرقی مدھیہ پردیش اور جنوبی یوپی میں کئی مقامات پر بھاری بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔محکمہ موسمیات کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24گھنٹوں میں مدھیہ پردیش کے نو گاوں میں21سینٹی میٹر، کھجوراہو اور ریوا میں 14-14سینٹی میٹر، ستنا میں 13سینٹی میٹر، سدھی میں 10سینٹی میٹر، ٹیکم گڑھ اور امبیکا پور میں 7-7سینٹی میٹر کی موسلادھار بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس دوران اترپردیش کے چرک میں 11سینٹی میٹر، جھانسی اور وارانسی میں 5سینٹی میٹر کی بھاری بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ایسا اندازہ ہے کہ اگلے 24گھنٹوں تک جنوبی اتر پردیش اور شمال مشرقی مدھیہ پردیش میں کئی مقامات پر رک رک کر بارش ہوتی رہے گی۔ادھر، دوسری طرف مانسون کا مرکز امرتسر، کرنال، علی گڑھ، جمشید پور، دیگھا ہوتا ہوا تریپورہ تک جا رہا ہے۔اس وجہ سے شمال مشرقی ہندوستان میں بارش تھوڑی کم ہو رہی ہے،لیکن محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ یہ صورت حال اگلے تین دنوں میں بدل جائے گی۔شمال مشرقی ہندوستان کے تمام علاقوں میں ایک بار پھر بارش تیزی پکڑے گی ۔جہاں ایک طرف مغربی مدھیہ پردیش میں موسلادھار بارش کا امکان ہے تو وہیں دوسری طرف راجستھان کے مشرقی حصے میں بھاری بارش کا سلسلہ اگلے 24گھنٹے میں ایک بار پھر سے شروع ہو جائے گا۔اسی کے ساتھ مدھیہ پردیش سے ملحق گجرات کے تمام علاقوں میں اگلے تین دنوں تک اوسط سے بھاری بارش ہونے کا امکان بھی ظاہر کیا جارہا ہے۔ان سب کے درمیان خلیج بنگال میں ایک دوسرا کم دباؤ کا علاقہ بھی اگلے 48گھنٹوں میں بننے جا رہا ہے۔یہ کم دباؤ کا علاقہ بھی ڈیپ ڈپریشن میں تبدیل ہو کر مشرقی ہندوستان سے لے کر مشرقی ہندوستان تک بارش کا سبب بن سکتا ہے۔ایسے میں محکمہ موسمیات اس موسمیاتی نظام کے بننے پر قریب سے نظر رکھے ہوئے ہے۔


Share: