بھٹکل، یکم جنوری (ایس او نیوز) کرسمس کی چھٹیوں اور نئے سال کی آمد کے موقع پر مشہور سیاحتی مقام مرڈیشور میں اس وقت سیاحوں کا ہجوم امڈ رہا ہے ۔ یہاں روزانہ ہزاروں کی تعداد میں ملک کی مختلف ریاستوں اور دور دراز مقامات کے علاوہ بیرون ممالک سے بھی سیاح تشریف لاتے ہیں مگر تشویش کی بات یہ ہے کہ مقامی ماہی گیروں اور لائف گارڈس کی وارننگ کے باوجود اکثر سیاح گہرے سمندر میں اترنے کو ترجیح دیتے ہیں جس کی وجہ سے اکثر یہاں غرقابی کے حادثات پیش آتے ہیں اور قیمتی جانیں ضائع ہوتی ہیں ۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سمندری علاقے سے دور بسنے والے سیاح جب مرڈیشور میں ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کو اتنے قریب سے دیکھتے ہیں تو وہ خوشی اور جوش کے مارے سمندر کے پانی میں موج مستی کرنے میں مگن ہوجاتے ہیں ۔ ان میں سے بیشتر سیاح یہاں سمندر کی گہرائی کا اندازہ نہیں لگا پاتے اور اپنی غفلت اور بے پروائی کی وجہ سے حادثہ کاشکار ہوجاتے ہیں ۔ حالانکہ پانی گہرا ہونے اور غرقابی میں جان جانے کا خطرہ ہونے کے تعلق سے مائکروفون کے ذریعہ لائف گارڈس کی طرف سے سیاحوں کو بار بار وارننگ دی جاتی ہے ، مگر کچھ ضدی قسم کے لوگ اس کی بالکل پرواہ نہیں کرتے ۔
لائف گارڈس کا کہنا ہے کہ سیاحوں کی غرقابی کے واقعات روزانہ پیش آتے رہتے ہیں ۔ یہاں آنے والے ہر سیاح کو ہم پانی کی گہرائی اور جان جوکھم میں نہ ڈالنے کے تعلق سے آگاہ کرتے ہِیں ۔ مگر کئی مرتبہ لوگ ہماری بات نہیں مانتے ۔ ہم سے الجھ پڑتے ہیں اور کبھی کبھی ہم پر حملہ بھی کرتے ہیں ۔ جب سیاحوں کے ڈوبنے کا معاملہ پیش آتا ہے تو ہم لوگ اور مقامی ماہی گیرانہیں کو بچانے کے لئے دوڑ پڑتے ہیں اور اس میں کامیاب ہوتے ہیں مگر کئی بار ہم ناکام بھی ہو جاتے ہیں اور موج و مستی کرنے والے سیاحوں کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے ۔
ڈوبتے سیاحوں کو بچانے کی کوشش کرنے والے ایک مقامی شخص کا کہنا ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں آنے والے سیاحوں کو قابو میں رکھنا اور انہیں سمندر میں اترنے سے باز رکھنا عملاً ممکن نہیں ہوتا ۔ خود سیاحوں کو وارننگ پر دھیان دینا چاہیے اور انہیں خود ہی اپنی اور اپنے گھر والوں کی جان کی فکر کرنی چاہیے ۔
محکمہ سیاحت کے ڈپٹی ڈائریکٹر جینت کہتے ہیں کہ ضلع میں سب سے زیادہ لائف گارڈس مرڈیشور ساحل پر تعینات کیے گئے ہیں ۔ 6 لائف گارڈس کے علاوہ سیاحوں کی حفاظت کے لئے تمام ضروری ساز و سامان محکمہ سیاحت کی طرف سے فراہم کیا گیا ہے ۔ بیک وقت ہزاروں سیاح جب امڈ پڑتے ہیں تو پھر انہیں قابو میں رکھنا مشکل ہوجاتا ہے ۔ عوام کو چاہیے کہ وہ لائف گارڈس کے ساتھ تعاون کریں ۔ اپنی جان کی قیمت سمجھیں ۔ محکمہ پولیس کو بھی چاہیے کہ وہاں اپنی نگرانی سخت رکھے اور وارننگ پر توجہ نہ دینے والوں کو قابو میں رکھنے کی کوشش کرے ۔ اس ضمن میں ضلع ڈپٹی کمشنر سے بات ہوئی ہے اور ان کے توسط سے متعلقہ محکمہ کو ہدایت جاری کی گئی ہے ۔