ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل میں پورے جوش وخروش کے ساتھ منائی گئی عید الفطر

بھٹکل میں پورے جوش وخروش کے ساتھ منائی گئی عید الفطر

Sat, 22 Apr 2023 22:05:32    S.O. News Service

بھٹکل 22 اپریل (ایس او نیوز) رمضان کے پورے تیس روزے مکمل کرنے کے بعد آج سنیچر کو بھٹکل میں روایتی جوش وخروش کے ساتھ عید الفطر منائی گئی۔ اس موقع پرعید گاہ میں مسلمانوں کے جم غفیر سے مخاطب ہوتے ہوئے جامع مسجد کے خطیب مولانا عبدالعلیم خطیب ندوی نے پورے یقین کے ساتھ کہا کہ ظلم اور تشدد زیادہ دن چلنے والا نہیں ہے، آج جو کوئی بھی طاقتیں اور حکومتیں ظلم کررہی ہیں، اُس کا بھی وہی انجام ہوگا جو فرعون، قارون اور نمرود کا ہوا تھا۔ مولانا نے کہا کہ ملک میں جو تعصب، تنگ نظری، تشدد اور ایک فرقہ اورایک مذہب کے خلاف ظلم و ستم ڈھایا جارہا ہے مسلمانوں کو چاہئے کہ اس پر صبرکریں، اپنے آپ کو کنٹرول میں رکھیں، رمضان اور عید ہمیں اسی صبر اوربرداشت کا پیغام دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ  مسلمانوں کو حالات سے مایوس ہونے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے، اللہ جو پہلے تھے،آج بھی وہی ہے، تاریخ شاہد ہے کہ ظلم زیادہ دن نہیں چلتا، نفرت اور دشمنی اللہ کو پسند نہیں ہے اوراللہ کا فیصلہ آکر رہے گا۔

حسب اعلان صبح ٹھیک پاونے سات بجے جامع مسجد سے عید گاہ کے لئے جلوس نکلا، ابتدا میں لوگ کافی کم تھے، لیکن جیسے جیسے جلوس آگے بڑھتا گیا، لوگ جلوس کےساتھ جُڑتے چلے گئے اور جب جلوس عید گاہ میں داخل ہوا تو عید گاہ پہلے ہی نمازیوں سے بھرچکا تھا، حسب سابق اس باربھی عید گاہ میدان بھرنے کے بعد لوگ عیدگاہ کے باہر اور پڑوس میں واقع اسکول گراونڈ کے ساتھ ساتھ عیدگاہ جانے والے راستوں پر بھی کھڑے تھے۔ ٹھیک سوا سات بجے مولانا عبدالعلیم خطیب ندوی نے عید کی دوگانہ پڑھائی۔

عیدگاہ میں نور حلقہ کی طرف سے نمازیوں کے لئے مناسب سہولتیں فراہم کی گئی تھیں، عید گاہ کے اندرصفائی اور دھلائی کے ساتھ ساتھ صف کوسیدھا اوردرست رکھنے کے لئے اسکول گراونڈ سمیت راستوں پربھی لکیریں کھینچ کر نمازیوں کےلئے بہتر رہنمائی کی گئی تھیں اور واضح کیا گیا تھا کہ کن کن جگہوں پر نماز پڑھی جاسکتی ہے۔ چونکہ شہر میں گرمی سے لوگوں کا بہت بُرا حال ہے، نورحلقہ کی طرف سے نمازیوں کے لئے پینے کے پانی کا بھی مناسب انتظام کیا گیا تھا۔

رمضان بازارمیں جمعرات دیررات کو ہوئی گڑبڑی کے ایک واقعے کے بعد شہرمیں پولس کا مناسب انتظام کیا گیا تھا اورجگہ جگہ پولس پہرہ دے رہی تھی۔ پڑوسی علاقوں سے بھی پولس کی زائد فورس منگوائی گئی تھیں۔

 


Share: