بھٹکل یکم جنوری (ایس او نیوز) قومی تعلیمی ادارہ انجمن حامئی مسلمین بھٹکل کے صد سالہ جشن کی اختتامی تقریب آج اتوار یکم جنوری کو انجمن آباد میدان میں منعقد ہوئی جس میں مہمان خصوصی کے طور پر تشریف فرما سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے کہا کہ ملک ہندوستان کو اگر چلانا ہے اور ترقی کی طرف لے جانا ہے تو ایک ہی طریقہ ہے کہ کسی کے ساتھ بھید بھاو نہ کیا جائے اور سبھی کو برابر عزت دی جائے، اگر ایسا نہیں کیا گیا توپھر یہ ملک ٹوٹ جائے گا۔
77 سالہ جسٹس کاٹجو نےکہا کہ ہندوستان اور چین کی آبادی کم و بیش یکساں یعنی 140 کروڑ ہے۔ لیکن دونوں ملکوں کا موازنہ کیا جائے تو پتہ چلے گا کہ 90 فیصد چائنیس ایک ہی نسل کے ہیں جن کو ہانس کہتے ہیں۔ ان کی زبان مینڈنن ہے۔ لیکن ہندوستان زبردست ڈائیورسٹی والا ملک ہے۔ یہاں اتنے سارے مذاہب، اتنی ساری ذات، اتنی ساری بھاشائیں، اتنی نسلیں، اتنے کلچرس ہیں کہ اس ملک کا تقابل کسی اور ملک کے ساتھ نہیں کیا جاسکتا۔ یہ اس لئے ہیں کہ ہندوستان میں ہمارے اور آپ کے باپ دادا یہاں کے نہیں ہیں، ہم سب لوگ دس ہزار سال پہلے باہر سے آکر یہاں بسے ہیں اور ہم سب مہاجر ہیں۔
جسٹس کاٹجو نے کہا کہ لوگوں نے دوسری جگہوں سے اس ملک کا انتخاب اس لئے کیا کہ یہ راحت کی جگہ ہے، یہاں کی آب و ہوا، یہاں کا موسم سازگار ہے، یہاں کی زمین ہموار ہے، یہاں ندیاںِ، تالاب سب کچھ ہیں، یہاں کی زمین ایسی زرخیز ہے کہ کاشتکاری کے لئے معاون ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس ملک کی 94/95 فیصد آبادی مہاجر ہیں اور زیادہ تر نورتھ ویسٹ علاقوں سے یہاں آکر بسے ہیں، اس ملک کے اصلی لوگ صرف چھ فیصد ہیں اور یہ پرے ڈرویڈین ٹرائبلس ہیں۔ انہوں نے فراق گورکھپوری کا مشہور شعر
سر زمین ہند پر اقوام عالم کے فراقؔ قافلے بستے گئے ہندوستاں بنتا گیا
پیش کرتے ہوئے بہت ہی بہترین انداز میں کہاکہ اس ملک کی 140 کروڑ کی آبادی یہ نہیں جانتی کہ ہندوستان کی سچائی کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملک مہاجرین کا ملک ہے یہاں ہر قسم کے لوگ رہتے ہیں، سبھی کو ساتھ لے کرچلنا ہے تو یہاں جمہوری نظام سے ہی چلنا ممکن ہے، انہوں نے ملک کی گودی میڈیا پرسخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف ہندو مسلم کہنے میں لگا ہوا ہے۔ انہوں نے مغل بادشا اکبر کی تعریف کرتے ہوئے اُسے آزادی سے پہلے کا فادر آف دی نیشن قرار دیا۔ انہوں نے شیر میسور حضرت ٹیپو سلطان کی بھی تعریف کرتے ہوئے بتایا کہ وہ 156 مندروں کو سالانہ گرانٹ بھیجتے تھے جس میں سب سے بڑا شینگیری مٹھ بھی شامل ہے، مگر اُن کے تعلق سے جھوٹ پھیلایاجارہا ہے کہ وہ ظالم بادشاہ تھا۔ جسٹس کٹجو نے ذمہ داران پر زور دیا کہ آج ملک کی جو حالت ہے، اُسے اگر ٹوٹنے سے بچانا ہے تو پھر سچائی کو عام کرنا ہوگا، جو لوگ جھوٹ کےذریعے نفرت پھیلا رہے ہیں اُنہیں سچ بتانا ہوگا اور عوام میں پھیلی غلط فہمیوں کو دور کرنا ہوگا۔
کانگریس لیڈر بی کے ہری پرساد نے اپنے خطاب میں بتایا کہ ملک کی آزادی کے وقت ملک میں خواندگی کی شرح صرف 11 سے 13 فیصد تھی، اب ملک کی خواندگی 75 فیصد سے تجاوز کرچکی ہے۔ انہوں نے کوالٹی آف ایجوکیشن پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صرف ڈگری حاصل کرنا کافی نہیں ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آج کرناٹک کے ہر ضلع میں کم ازکم ایک میڈیکل کالج ہے، ہرسال کرناٹک میں انجینرنگ کی ایک لاکھ سیٹیں دی جاتی ہے، اس تعلیمی ترقی میں انجمن تعلیمی ادارہ کا بھی بہت بڑا رول ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ملک میں رام اور رحیم کے درمیان پھوٹ ڈالنےکی جو کوشش ہورہی ہے، اگریہاں کے لوگ تعلیم یافتہ ہوں گے تو اُن کی پھوٹ ڈالنے کی کوشش کبھی کامیاب نہیں ہوگی۔ انہوں نے پڑوسی ریاست کیرالہ کی مثال پیش کرتے ہوئے پورے وثوق کے ساتھ بتایا کہ اگر لوگ تعلیم یافتہ ہوں گے تو نفرت پھیلانے کا کام کامیاب نہیں ہوگا۔
سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی نے کہا کہ پہلے مسلمان سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں سب سے آگے تھے، آج مسلمان پیچھے چلایا گیا ہے تو اس کی وجوہات کا پتہ لگانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ قران مجید میں حضرت محمدﷺ کا تذکرہ پانچ بار آیا ہے، لیکن علم حاصل کرنے کا تذکرہ 750 بار ہے۔ لیکن اس کے باوجود مسلمان تعلیم کے میدان میں پچھڑا ہوا ہے۔
جمعیۃ العلماء اُترپردیش کے صدرمولانا اشہد رشیدی نے کہا آج جس طرح مسلم سماج کو عالم، حافظ، حدیث پڑھانےوالے اورمفتی کی ضرورت ہے، اسی طرح مسلم سماج کو مسلم ڈاکٹر، مسلم پروفیسر، مسلم سائنسدان اور علوم عصریہ میں مہارت رکھنے والوں کی بھی ضرورت ہے اور انجمن اسی تگ و دو میں لگا ہوا ہے۔
کرناٹکا مینارٹی کمیشن کے چیرمین عبدالعظیم نے اپنے خطاب میں انجمن والوں کو مشورہ دیا کہ بھٹکل میں میڈیکل کالج قائم کرنی چاہئے، بھٹکل رکن اسمبلی سنیل نائک نے میڈیکل کالج کے قیام کے لئے اپنی جانب سے ہرممکن تعاون کا یقین دلایا۔ اسی کے ساتھ سنیل نائک جنہوں نے اسی انجمن کالج سے تعلیم مکمل کی تھی، نے اپنے خطاب میں کہا کہ ملک میں اکثر تعلیمی ادارے تجارت کی غرض سے قائم کئے جاتے ہیں جن کا مقصد پیسہ کمانا ہے، مگرانجمن ایسا تعلیمی ادارہ ہے جو تجارت کے لئے نہیں بلکہ گھرگھر تعلیم کی روشنی پھیلانے کے لئے بنایا گیا ہے۔
پروگرام کاآغاز حافظ عُمیر بن عبدالباسط کی تلاوت کلام پاک مع ترجمہ سے ہوا، جناب سید عبدالرحمن باطن کا لکھا ہوا انجمن کا ترانہ محمد اکرام، احمد مُزیّن اور محمد محتشم نے پڑھ کر سنایا۔ صدسالہ جشن کی تقریب کے کنوینر تنویر کاسرکوڈ نےمہمانوں کا تعارف پیش کیا اور والنٹئیرس کے ذریعے گلدستہ پیش کرتے ہوئے انہیں اسٹیج پر مدعو کیا۔ انجمن کے جنرل سکریٹری صدیق اسماعیل نے مہمانوں اور حاضرین کا استقبال کرتے ہوئے انجمن کی رپورٹ پیش کی جس میں انہوں نے بتایا کہ قوم نوائط کے مایہ ناز اساتذہ کرام محترم عثمان حسن جوباپو، سید عبدالرحمن باطن، شبیرماسٹر، ابوبکر غنی ماسٹر، شمس الدین جعفر ایس ایم، کوٹیشور ماسٹر، محترم خیال ماسٹر، مومن ماسٹر، کریم ماسٹر، زُبیر چمپا ماسٹر، محترمہ رشیدہ باشہ، محترمہ رابعہ عثمان حسن جوباپو کے بعد انجمن کو میں تدریسی خدمات کے لئے سخت تگ و دو کرنی پڑتی تھی، مگر اب ہمیں کسی حد تک راحت ملی ہے کیونکہ آج ہمارے قوم کے کئی افراد انجمن کے اداروں میں بطور پرنسپل، نائب پرنسپل وغیرہ کے عہدوں پر فائز ہیں جو بچوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ انجمن کی ترقی کے لئے بھی کوشاں ہیں۔
مولانا اشہد رشیدی کے ہاتھوں مولانا شفیع قاسمی ملپا کی لکھی انجمن حامئی مسلمین بھٹکل کے سوسال کتاب کا اجراء کیا گیا،اسی طرح انجمن کی سونئیراور دوسری ایک کتاب کا بھی اجراء کیا گیا۔
انجمن صدر مزمل قاضیاء نے پروگرام کی صدارت کی۔انجمن کے نائب صدر محمد صادق پلور نے آخر میں کلمہ تشکر پیش کیا۔ پروگرام کی نظامت یاسین عسکری اور آفتاب حُسین کولا نے کی۔