بنگلورو،28/فروری (ایس او نیوز/ایجنسی) عام آدمی پارٹی (عآپ ) کے کرنا ٹک یونٹ نے دہلی کے ڈپٹی چیف منسٹر منیش سسودیا کی آبکاری پالیسی اسکام میں سی بی آئی کے ہاتھوں گرفتاری کی شدید مذمت کی۔
میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے ریاستی تر جمان پرتھوی ریڈی نے کہا کہ دہلی کی آبکاری پالیسی میں کچھ غلط نہیں۔ یہ بات قابل غور ہے کہ نئی آبکاری پالیسی دہلی میں ابھی نافذ نہیں ہوئی جبکہ یہی پالیسی کئی ریاستوں میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر چیکہ مرکزی حکومت کی ایجنسیاں ایک سال سے سسودیا کو نشانہ بنارہی ہیں ، مگر ان الزامات کی تائید میں ایک چھوٹا سا ثبوت بھی پیش نہیں کر سکیں۔ نقد رقم یا کوئی غیر قانونی دستاویزات نہیں پائے گئے۔
اس بات کا اچھی طرح احساس ہونے کے بعد کہ صرف عآپ کے پاس ہی بی جے پی کا سامنا کرنے کی طاقت ہے اور چوں کہ وہ سیاسی طور پر ہم سے مقابلہ نہیں کرسکتی، اس طرح پریشان کرنے اختیارات کا بیجا استعمال کر رہی ہے۔عآپ کرنا ٹک سمیت پورے ملک میں پھیل رہی ہے۔ بی جے پی عآپ کو ملنے والی عوامی حمایت برداشت نہیں کر سکتی۔
منیش سسودیا کو مرکزی حکومت نے سی بی آئی کے ذریعہ اس ڈر سے گرفتار کروایا کہ وہ یہاں (کرناٹک میں ) انتخابی مہم کے دوران موجود سرکاری اسکولوں کی حالت پر سوال اٹھا سکتے ہیں۔ ہم ملک اور عوام کی خاطر نہ صرف گرفتار ہونے بلکہ اپنی جانوں کی قربانی دینے بھی تیار ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ قومی دارالحکومت کے سرکاری اسکولوں میں عآپ کی جانب سے تعلیم میں انقلاب کی کئی بیرونی ملکوں نے ستائش کی ہے۔ مگر بی جے پی اسے برداشت نہیں کر سکتی۔ بطور وزیر تعلیم منیش سسودیا نے 25 ہزار عصری اسکول رومس کی تعمیر کی اور 120لا کھ طلباء کے مستقبل کی مضبوط بنیاد رکھی۔ یہ لائق ملامت ہے کہ بی جے پی منیش سسود یا جیسے افراد کے خلاف اتنا نیچے گر چکی ہے۔