ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بنگلورو جئے نگر اسمبلی حلقہ کے انتخابی نتیجہ پر تنازع

بنگلورو جئے نگر اسمبلی حلقہ کے انتخابی نتیجہ پر تنازع

Sun, 14 May 2023 11:00:42    S.O. News Service

بنگلورو،14/ مئی (ایس او نیوز) بنگلورو مہانگر پالیکے (بی بی ایم پی) کی حدود میں آنے والا جئے نگر اسمبلی حلقہ کے انتخابی نتیجہ کااعلان رات 9:30بجے بھی نہیں کیا گیا تھا جس کے کئی وجوہات ہیں۔ حالانکہ دیگر حلقوں کی ووٹوں کی گنتی کے ساتھ اس حلقہ کے ووٹوں کی گنتی کا آغاز ہوگیا تھا۔ دوپہر 2بجے ہی ٹی وی چینلوں پر یہ اعلان کردیا گیا کہ کانگریس امیدوار سومیا ریڈی اس حلقہ سے اپنے حریف بی جے پی امیدوار سی کے رام مورتی کو 294رووٹوں کے فرقہ سے ہراکر دوسری مرتبہ کامیاب ہوئی ہیں۔

الیکشن کمیشن نے بھی یہ تصدیق کی کہ سومیا ریڈی نے کل 57591ووٹ حاصل کئے ہیں،جبکہ رام مورتی کو 57297ووٹ ملے ہیں۔ اس نتیجہ کے ظاہر ہونے کے بعد بی جے پی امیدوار اور ان کے طرفداروں نے اس نتیجہ کو ماننے سے انکار کردیا اور دوبارہ ووٹوں کی گنتی کرنے کا مطالبہ کرنے لگے۔ جب دوسری مرتبہ ووٹوں کی گنتی کی گئی تو اس گنتی میں رام مورتی صرف 17ووٹوں کے فرق سے جیت گئے۔ سومیا ریڈی ان کے والد رام لنگا ریڈی اور ان کے پرستاروں نے اس نتیجہ کوماننے سے انکار کرتے ہوئے پھر تیسری مرتبہ ووٹوں کی گنتی کرنے کا مطالبہ کردیا۔ ستیسری مرتبہ جب ووٹوں کی گنتی کی گئی تو سومیا ریڈی اس میں کامیاب قرار دی گئیں پھر بی جے پی نے اس نتیجہ کو ماننے سے انکار کردیا تو یہاں سے گڑبڑ شروع ہوگئی۔گنتی کے مرکز کے باہر انتظار کررہے دونوں امیدواروں کے طرفداروں اور دونوں پارٹیوں کے ورکرس کے درمیان لفظی جھڑپیں،نعرے بازی شروع ہوگئی اور مشتعل ہجوم کو پولیس نے وہاں سے منتشر کیا لیکن اس مرکز سے باہر گڑبڑ نہیں رکی۔ اس کو دیکھتے ہوئے رٹرننگ افسر نے نتیجہ کے اعلان کو روک دیا، اس کے بعد رام لنگا ریڈی مرکز سے نکل کر باہر آگئے۔کچھ دیر بعد وہ کے پی سی سی صدر ڈی کے شیوکمار کے ساتھ واپس لوٹ آئے۔دونوں گنتی کے مرکز میں داخل ہوکر متعلقہ افسروں کے ساتھ کافی دیر تک گفتگو کی اس وقت گنتی کے مرکز میں بی جے پی امیدوار کے ساتھ بنگلور ساؤتھ پارلیمانی حلقہ کے ایم پی تیجسوی سوریا بھی موجود تھے۔ شب 9:50بجے تک یہ تنازع حل نہیں ہوا تھا۔

مسلم علاقے نظر انداز: کہا جارہا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس مرتبہ کئی وجوہات کی بنا پر صد فی صد مسلمانوں نے کانگریس ہی کی تائیدکی ہے،ورنہ کانگریس کو اتنی بھاری اکثریت ملنا ممکن نہیں تھا۔ جئے نگر حلقہ میں بھی مسلمانوں نے کانگریس ہی کی تائیدکی۔ووٹوں کو بھی تقسیم ہونے نہیں دیا گیا۔ اگر کانگریس امیدوار سومیا ریڈی مسلم علاقوں پر مزید توجہ دے کر پولنگ فی صد بڑھاسکتی تھیں۔ پولنگ فیصد بڑھانے کے لئے ان علاقوں میں ووٹ کی اہمیت اور ووٹ کیوں دینا ضروری ہے اس سے متعلق بیداری پیدا۔کی جاتی تو پولنگ فی صد بڑھ سکتا تھا اور سومیا ریڈی کو اس طرح کی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ اس حلقہ میں سومیا ریڈی نے مسلم علاقوں کے ووٹ اپنے حق میں حاصل کرنے جن لوگوں پر انحصار کیا انہوں نے بھی ان کی صحیح رہنمائی نہیں کی۔


Share: