نئی دہلی، 7/مئی (ایس او نیوز/ایجنسی) دہلی پولیس ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا (آر ایف آئی) کے سربراہ برج بھوشن شرن سنگھ سے ان کے خلاف درج دو ایف آئی آر معاملے میں اب تک پوچھ تاچھ تک نہیں کر پائی ہے۔ دونوں ایف آئی آر 21 اپریل کو درج کی گئی تھیں اور یہ سنگین جرائم سے جڑی ہوئی ہیں جس میں بچوں کے خلاف جنسی جرائم سے تحفظ (پاکسو) قانون شامل ہے۔
ذرائع کے مطابق 14 دن پہلے درج کی گئی ایف آئی آر کے باوجود پولیس نے ابھی تک برج بھوشن سنگھ کو نہیں بلایا ہے۔ حالانکہ ایک پولیس ذرائع نے کہا کہ سات پہلوانوں کے بیاج درج کر لیے گئے ہیں اور برج بھوشن کو جلد ہی سمن بھیجا جائے گا۔ پولیس کے مطابق ان کے خلاف درج معاملوں میں سے ایک تعزیرات ہند کی دفعہ 354 (خاتون کی عزت خراب کرنے کے ارادے سے اس پر حملہ یا مجرمانہ طاقت کا استعمال)، 354 اے (جنسی استحصال) اور 354 ڈی (پیچھا کرنا) سے متعلق ہے جبکہ دوسرا پاکسو قانون کی دفعہ 10 سے متعلق ہے۔
دیکھا جائے تو برج بھوشن کی گرفتاری کا مطالبہ تین غیر ضمانتی اور سنگین جرائم سے جڑا ہے۔ قانون میں موجود التزام اور سپریم کورٹ کی ہدایت اس معاملے میں وضاحت فراہم رکتا ہے۔ تعزیرات ہند کی دفعہ 41 اے اور سپریم کورٹ کے مختلف فیصلوں کے مطابق اگر جرم کے لیے مقرر زیادہ سے زیادہ سزا 7 سال سے کم ہے تو ملزم کی گرفتاری لازمی نہیں ہے۔ سپریم کورٹ کے وکیل ونیت جندل کا کہنا ہے کہ گرفتاری کا فیصلہ پوری طرح سے پولیس افسران پر منحصر ہے۔ حالانکہ سنگین جرائم سے جڑے معاملوں میں عام طور پر گرفتاری کرنے کا پیمانہ مانا جاتا ہے۔ جندل نے کہا کہ ’’خاص طور سے پاکسو ایکٹ کے تحت جرائم کو غیر ضمانتی کی شکل میں درجہ بند کیا گیا ہے۔ اس لیے اگر جائز جانچ کی ضرورت ہے تو کارروائی کی شکل میں گرفتاری کا امکان زیادہ ہے۔‘‘
سپریم کورٹ کے دیگر وکیل رودر وکرم سنگھ نے کہا کہ ’’برج بھوشن کی گرفتاری میں تاخیر ہو رہی ہے، تو یہ معاملے میں ابتدائی جانچ کی وجہ سے ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’چونکہ پاکسو ایکٹ کے تحت جرم اور مبینہ طور سے کیے گئے دیگر اعمال میں 7 سال تک کی سزا ہوتی ہے، اس لیے ان صورت حال میں جانچ افسر دفعہ 41 اور سی آر پی سی کی دفعہ 41 اے کے التزامات کو سامنے رکھتے ہوئے کارروائی کر سکتا ہے، جیسا کہ سپریم کورٹ کے ذریعہ بتایا گیا ہے۔ امریش کمار بنام بہار ریاست معاملے میں اگر برج بھوشن سنگھ جانچ میں ’جانچ افسر‘ کے ساتھ تعاون نہیں کرتے ہیں تو پولیس انھیں گرفتار کر سکتی ہے۔‘‘