نئی دہلی، 30/جنوری(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)یوپی کے وزیر اعلی اکھلیش یادو کو دو رہائش گاہوں کے الاٹمنٹ کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ اس معاملے پر یوپی انتخابات کے بعد سماعت کی جائے گی۔کورٹ نے درخواست گزار سے پوچھا کہ وزیر اعلی کے پاس دو بنگلے رہیں،تو اس میں کیا حرج ہے؟ کورٹ نے کہا کہ وزیر اعلی کے پاس بہت سارے کام ہوتے ہیں، بہت سارے لوگ ملنے کے لیے آتے ہیں،اس لیے اگر دفتر کے کام کاج کے لیے دوسرا بنگلہ لیا گیا ہے،تو اس میں غلط کیا ہے؟ اس طرح تو ججوں کے پاس بھی دو حصے ہوتے ہے، ایک سکریٹریٹ اور ایک رہائش گاہ۔لوک پرہری نامی این جی او نے عرضی دائر کرکے مطالبہ کیا ہے کہ وزیر اعلی اکھلیش یادو کو الاٹ کئے گئے دوسرے بنگلہ کی منظوری کو منسوخ کیا جائے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ قانون کے مطابق، اتر پردیش کے وزیر اعلی کو ایک ہی رہائش گاہ ملنی چاہیے۔درخواست گزار نے دلیل دی کہ مذکورہ قانون میں اسی سال ترمیم کرتے ہوئے یہ الاٹمنٹ اس لیے بھی کیا گیا ہے تاکہ وزیر اعلی کے عہدے سے ہٹنے کے بعد بھی بنگلہ ان کے پاس رہے۔وہیں یوپی حکومت کا کہنا تھا کہ 1985سے ہی ریاست میں وزیر اعلی کو دو بنگلے الاٹ کئے جانے کی روایت چلی آ رہی ہے۔