جئے پور 23/ اکتوبر (ایس او نیوز) درگا دیوی پوجا کے دوران اونچی ذات کی برادری کے دو نوجوانوں پر حملے کے بعد 250 دلت خاندان نے بدھ مت اختیار کر لیا۔
میڈیا رپوٹوں کے مطابق اونچی ذات کی برادری کے مبینہ مظالم سے تنگ آکر باران ضلع میں تقریباً 250 دلت خاندان نے ہندو مذہب کو ترک کر کے بدھ مت اختیار کر لیا۔ بتایا گیا ہے کہ دلت خاندانوں نے اپنے گھروں سے ہندو دیوی دیوتاؤں کی مورتیاں نکال کر دریائے بیتالی میں غرق کر دیں۔
ضلع بیروا مہاسبھا یووا مورچہ کے صدر بالمکند بیروا کے مطابق، 5 اکتوبر کو بھولون گاؤں میں دو دلت نوجوانوں نے دیوی درگا کی آرتی کی تھی۔ اس فعل پر برہم ہو کر سرپنچ کے نمائندوں راہول شرما اور لال چند لودھا نے دلت نوجوانوں کو بے دردی سے مارا پیٹا۔ انہوں نے صدر سے لے کر ضلع انتظامیہ تک انصاف کی التجا کی، لیکن پولیس نے سرپنچ کے نمائندے کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔
انتظامیہ کی لاپرواہی سے ناراض دلت خاندانوں نے جمعہ کو احتجاجی مارچ نکالا اور ہندو دیوی دیوتاؤں کی تصویروں اور مورتیوں کو بیتلی ندی میں غرق کردیا۔ انہوں نے ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کی 22 قسمیں بھی کھائیں اور بدھ مت اپنایا۔
بیروا یوا مہاسبھا کے صدر بالمکند بیروا نے بتایا کہ اس معاملے کے بعد سے دلت خاندان کو مسلسل جان سے مارنے اور گاؤں سے بے دخل کرنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ملزمان کو جلد گرفتار نہیں کیا گیا تو سب ڈویژن آفس پر زبردست مظاہرہ کیا جائے گا۔
اس تعلق سے ڈی ایس پی پوجا نگر نے بتایا کہ "شکایت کنندہ کی جانب سے متعلقہ پولس اسٹیشن میں درج کرائی گئی شکایت میں سرپنچ کے معاونین کے ناموں کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق کوئی اس واقعہ کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کر رہا ہے معاملہ زیر تفتیش ہے۔