ممبئی، 31/جنوری (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)مہاراشٹر میں مراٹھاؤں کے لیے ریزرویشن کے مطالبہ کو لے کر چھڑی گئی تحریک نے اورنگ آباد میں پرتشددشکل اختیارکرلیا ہے۔یہاں مظاہرین نے پولیس کی گاڑیوں پر پتھراؤ کیا، جس میں ایک پولیس انسپکٹر زخمی ہوگیا ہے۔تعلیم اور سرکاری ملازمتوں میں 16فیصد ریزرویشن کے مطالبہ کو لے کر مہاراشٹر میں مراٹھا سماج وقتا فوقتا تحریک چھیڑتا رہا ہے۔اس کے تحت اب تک خاموش تحریک کے ذریعے اپنی بات رکھ رہے تھے، لیکن مطالبہ منظور نہ ہوتا دیکھ کر مظاہرین نے سڑک آمدورفت متاثر کرنے کا فیصلہ کیاہے۔مراٹھا کرانتی مورچہ نامی تنظیم نے 31/جنوری کو مہاراشٹر میں پہیہ جام کا اعلان کیا تھا، جس کے تحت منگل کور یاست گیر پیمانے پر ٹریفک میں رکاوٹ ڈالی گئی۔ممبئی کے تمام ٹول ناکوں کے ساتھ ہی شہر کے اہم چوراہوں پر بھی تحریک کے انعقاد سے ٹریفک نظام متاثر ہواہے۔اس دوران اورنگ آباد میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جھڑپ میں ایک پولیس اہلکار زخمی ہوگیا، جبکہ سرکاری گاڑیوں کو نقصان پہنچانے کے الزام میں 10مظاہرین کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔تحریک کے لیڈر سدھیر ساونت نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تحریک آگے بڑھے گی۔اب 3/مارچ کو اگلی تحریک کا ریاست بھر میں انعقاد کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت ہو یا سابقہ، دونوں حکومتوں نے ہمیشہ سے ریزرویشن کے معاملے پر مراٹھا سماج کو گمراہ کیا ہے۔وہیں مہاراشٹر بی جے پی کے ترجمان مادھو بھنڈاری نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے مراٹھا سماج کو گمراہ کرنے کے الزام کو غلط بتایا ہے۔بھنڈاری کا کہنا ہے کہ حکومت اس معاملے پر سنجیدہ ہے اور اس کا قانونی حل چاہتی ہے، تبھی تو بامبے ہائی کورٹ میں اس معاملے پر حکومت نے عرضی دائر کرکے اپنا موقف رکھا ہے، حکومت کو عدالت سے جلد فیصلے کی امید ہے۔