بنگلورو، یکم جنوری (ایس او نیوز)سابق وزیر اعلیٰ اور ریاستی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر سدارامیا نے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کی طرف سے کانگریس اور جنتا دل(ایس) پرکرپشن کے الزامات پر طنز کرتے ہوئے کہا ہے کہ عہدہ وزیر اعلیٰ کو 2000کروڑ روپے میں فروخت کے لئے پیش کرنے والے بیوپاری امیت شاہ کی باتوں سے کرپشن کی بات ایک مذاق لگتا ہے۔
بی جے پی کے جن سنکلپ پروگرام میں وزیر داخلہ کی طرف سے کانگریس اور جنتا دل(ایس) کو نشانہ بنائے جانے پر سلسلہ وار ٹویٹ کرتے ہوئے سدارامیا نے کہا کہ کھلے عام 40کمیشن خوری کرنے والی بی جے پی حکومت سے ریاست کے عوام اُوب چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمتوں میں بھرتی، تبادلوں، گرانٹس کی تقسیم، ترقیاتی کاموں اور بلوں کی ادائیگی میں 40فیصد کمیشن میں ڈوبے ہوئے بی جے پی کے ریاستی رہنماؤں کو بازو میں بٹھا کر کانگریس پر کرپشن کے الزامات لگاتے ہوئے امیت شاہ کو شرم آنی چاہئے۔ سدارامیا نے کہا کہ وزیر داخلہ امیت شاہ کی اس بے شرمی کو شاباشی دینے کا جی چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ حکومت جس کی بنیادہی آپریشن کنول جیسے کرپشن پر کھڑی ہے،اس نے جس دن سے اقتدار سنبھالا کرناٹک میں غریب عوام کے لئے مو ت کا فرمان لکھ دیا گیا۔ بیلگاوی کے سنتوش پاٹل سے لے کر دیودرگا کے ٹی این پرساد کی خود کشی تک اس حکومت کی 40فیصد کمیشن کی داستا ن موجود ہے۔ سدارامیا نے کہا کہ ان دو کے علاوہ اور دیگر بہت سارے لوگوں کی 40فیصد کمیشن خوری کی وجہ سے اموات ہوئی ہیں، کیا امیت شاہ ان لوگوں کو انصاف دے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کی زیادتی کی وجہ سے کرناٹک معاشی بحران کا شکار ہے۔ ریاست کو جی ایس ٹی کے بقایاجات کی جو رقم ملنی ہے وہ نہیں دی جا رہی ہے۔
سیلاب، خشک سالی، فصلوں کی تباہی سے پریشان کسانوں کو حکو ت کی طرف سے معاوضہ نہیں دیا جا رہا ہے۔کورونا کے دور میں جب انسانیت ترس رہی تھی، آکسیجن کی قلت سے لوگ پریشان تھے۔ ایک ایک سانس کے لئے لوگ اپنی جان دے رہے تھے،ایسے میں بی جے پی حکومت کے وُزراء اس فکر میں تھے کہ کمیشن خوری کیسے کی جائے۔جب کورونا کو قابو میں کرنے کی باری آئی تو اپنی ناکامی کو چھپانے کے لئے لوگوں سے کہا گیا کہ دیا جلاؤ، تالی بجاؤ، لوگ اس کو نہیں بھولے ہیں۔