ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / اقلیتی کمیشن نے آربی آئی اوردیگربینکوں سے حیدرآباد پرانے شہر میں بھیجی گئی نقد رقم میں معلومات مانگی

اقلیتی کمیشن نے آربی آئی اوردیگربینکوں سے حیدرآباد پرانے شہر میں بھیجی گئی نقد رقم میں معلومات مانگی

Thu, 15 Dec 2016 12:18:22    S.O. News Service

مسلم اکثریتی علاقے میں امتیازی سلوک کئے جانے کی شکایات کے بعداٹھایاگیاقدم
حیدرآباد،14؍دسمبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)ریاستی اقلیتی کمیشن نے آج کہا کہ نوٹ بندی کے بعد حیدرآباد کے پرانے شہر میں نقد رقم بھیجنے کو لے کر امتیاز کی شکایتیں آنے کے بعد اس نے ریزرو بینک آف انڈیا اور مختلف بینکوں سے اس سلسلے میں معلومات مانگی ہے۔کمیشن کے صدر عابد رسول خان نے بتایا کہ ہم نے چار سوال تیار کئے ہیں،کیا شہر کے پرانے اور نئے علاقوں میں واقع بینک شاخوں میں برابر رقم بھیجی جا رہی ہے؟ کیا اے ٹی ایم میں نقد رقم مناسب وقفہ اور مناسب مقدار میں ڈالی جا رہی ہے؟ کتنے اے ٹی ایم کام کر رہے ہیں اور کتنے نہیں اور نئے نوٹوں کے حساب سے کیا انہیں تیار کیا گیا ہے؟ اور آر بی آئی کے دیگر تمام قوانین پر عمل ہو رہا ہے یا نہیں۔انہوں نے کہاکہ ابھی تک چھ بینکوں نے جواب دیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ کوئی تفریق نہیں کی جا رہی ہے اور اے ٹی ایم میں نقد رقم مناسب وقفے پر ڈالی جا رہی ہے۔بینکوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے پرانے شہر کے باشندوں کو نقد رقم دینے کے لئے افسران تعینات کئے ہیں۔کمیشن نے بینکوں سے کہا ہے کہ وہ پرانے شہر کے علاقے میں مذہب کا امتیاز کئے بغیر لوگوں کا خاص خیال رکھیں کیونکہ وہاں زیادہ تر یومیہ کارکنان ہیں۔بینکوں سے موبائل برانچ لگانے کو بھی کہا گیا ہے۔فی الحال ریاستی اقلیتی کمیشن تلنگانہ اور آندھرا پردیش دونوں ریاستوں کے لئے کام کرتا ہے۔اے آئی ایم صدر اسد الدین اویسی نے حال ہی میں دعوی کیا تھا کہ مسلمان اکثریتی علاقوں میں بینک نیٹ ورک بہت کم ہے۔


Share: