ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / وزیر اعظم مودی کو کرناٹکا انتخابات کے بجائے تشدد سے متاثرہ منی پور کی خبر لینی چاہیے ۔ کانگریس پارٹی کا مشورہ 

وزیر اعظم مودی کو کرناٹکا انتخابات کے بجائے تشدد سے متاثرہ منی پور کی خبر لینی چاہیے ۔ کانگریس پارٹی کا مشورہ 

Sat, 06 May 2023 20:05:11    S.O. News Service

نئی دہلی،6 / مئی (ایس او نیوز) کانگریس پارٹی نے وزیر اعظم مودی کو یاد دلایا ہے کہ وہ اس ملک کے منتخب وزر اعظم ہیں اور انہیں اس وقت کرناٹکا کی انتخابی تشہیر کے بجائے ہولناک خونریزی اور تشدد سے متاثرہ منی پور کی فکر کرنی چاہیے۔
    
کانگریس کی ترجمان سپریا شریناتے نے منی پور میں صدر راج کے نفاذ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا : "مودی جی آپ اس ملک کے منتخب وزیر اعظم ہو اور کرناٹکا کے عوام بھی منی پور میں جو کچھ ہو رہا ہے اس پر پوری طرح نظر بنائے ہوئے ہیں ۔ اور وہ چاہتے ہیں کہ پہلے آپ کو جلتے ہوئے منی پور کو بچانا چاہیے اور وہاں امن و امان بحال کرنا چاہیے ۔ اس کے بجائے کرناٹکا میں ووٹ مانگتے پھرنا آپ کے فراض منصبی کے خلاف ہے ۔ ہم آپ کو یاد دلانا چاہتے ہیں کہ منی پور کو بچانا آپ کی ڈیوٹی ہے ۔" 
    
سپریا نے اس سے پہلے ہوئے آسام پولیس فورس اور میزورم پولیس کے درمیان ہوئے تصادم اور مہاراشٹرا - کرناٹکا سرحدی تنازعہ کا حوالہ سے وزیر داخلہ پوری طرح ناکام قرار پوچھا کہ : " ایسے میں آپ کو اس عہدے پر بنے کا کیا حق بنتا ہے ۔ گزشتہ چار دن سے منی پور جل رہا ہے ۔ قتل و غارت گیری اور لوٹ مار مچائی جا رہی ۔ حالات اتنے خراب ہوئے ہیں کہ انٹرنیٹ سروسس بند کردی گئی ہیں ۔ منی پور کے اراکین اسمبلی اور وزراء وزیر اعظم سے مانگ کر رہے ہیں کہ جلتے ہوئے منی پور کو بچایا جائے ۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ منی پور جل کر خاک ہوجائے تب بھی انہیں اس کی پروا نہیں ہے ۔ ان کے لئے بس کرناٹکا کی انتخابی تشہیر اہم ہے ۔ درحقیقت منی پور میں دستور کی دفعہ 356 کے تحت صدر راج نافذ کرکے امن و امان بحال کرنا چاہیے ۔ "

آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے جنرل سیکریٹری رندیپ سرجے والا ایک سرکاری حکم نامہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انگریزی حکومت کی طرح مودی حکومت ہی اپنے حکم نامہ میں ایسی ڈریکولائی زبان استعمال کرسکتی ہے جس میں لکھا گیا ہے کہ  سرکار دیکھتے ہی گولی مار دینے (شوٹ ایٹ سائٹ) کا حکم دیتے ہوئے خوشی محسوس کرتی ہے ۔ منی پور میں سرکاری مشینری پوری طرح ناکام ہو چکی ہے اور وزیر داخلہ امیت شاہ کا اس معاملہ پر استعفیٰ دینا ہی مناسب ہے ۔" 


Share: