نئی دہلی، 11؍دسمبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا )پارلیمنٹ میں مسلسل جاری رکاوٹ اور کام کاج چلانے کے طور طریقوں کو لے کر لال کرشن اڈوانی کی ناراضگی کا ذکر کرتے ہوئے کانگریس کے سینئر لیڈر دگ وجے سنگھ نے کہا ہے کہ اٹل -اڈوای کی جوڑی کی محنت کا ہی ثمرہ ہے کہ آج مودی جی مکمل اکثریت کی حکومت کے وزیر اعظم بن سکے ہیں لیکن مودی جی جس طرح من مانی کر رہے ہیں، اس سے اڈوانی جی دلبرداشتہ ہیں ۔پارلیمنٹ میں رکاوٹ کو لے کر لوک سبھا میں بی جے پی کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی کی ناراضگی کے بارے میں پوچھے جانے پر سنگھ نے کہا کہ اس ملک میں جہاں تک جن سنگھ سے لے کر جنتا پارٹی کی حکومت اور پھر بی جے پی کی حکومت کا سوال ہے، اڈونی جی کی خدمات کسی سے بھی کم نہیں ہے اور وسیع ہے۔دگ وجے سنگھ نے میڈیا سے بات چیت میں کہاکہ اٹل -اڈوانی کی جوڑی کی محنت کا ہی اثر ہے کہ آج مودی جی مکمل اکثریت کی حکومت کے وزیر اعظم بنے ہیں۔کانگریس کے سینئر لیڈر نے کہا کہ آج ان(اڈوانی)کے ساتھ کس طرح کا سلوک کیا جا رہا ہے،یہ سب کے سامنے ہیں، مودی جی جس طرح من مانے طریقے سے کام کر رہے ہیں اور بغیر کسی سے صلاح و مشورہ کئے فیصلے کر رہے ہیں،اس سے اڈوانی جی دلبرداشتہ دکھائی دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ تو ویسا ہی ہوا کہ میں نے پودا لگایا، پودا تیار ہو گیا اور جب پھل کھانے کا وقت آیا ،تب کہا گیا کہ آپ تو بزرگ ہیں، اس لیے پھل نہیں کھا سکتے،اڈوانی جی کی پریشانی یہی ہے۔قابل ذکر ہے کہ نوٹ بند ی کے معاملے پر پارلیمنٹ میں مسلسل تیسرے ہفتے ہنگامہ جاری رہنے کے درمیان بی جے پی کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی نے بدھ کو لوک سبھا میں ایوان کی کارروائی نہیں چل پانے کو لے کر گہری ناراضگی کا اظہار کیاتھا اور انہیں یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ نہ تو اسپیکر اور نہ ہی پارلیمانی امور کے وزیر ایوان کو چلا پا رہے ہیں۔انتہائی پریشان دکھائی دے رہے اڈوانی کو ایوان میں اپوزیشن کے مسلسل ہنگامے اور اپوزیشن کے کئی ارکان کے نعرے بازی کرتے ہوئے حزب اقتدار کی سیٹوں کے سامنے آ جانے پر پارلیمانی امور کے وزیر اننت کمار سے اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے سنا گیا تھا۔
پارلیمنٹ کی کاروائی میں رکاوٹ کے بارے میں صدر پرنب مکھرجی کے تبصرے کے بارے میں پوچھے جانے پر کانگریس جنرل سکریٹری نے کہاکہ وہ (حکومت)خود ہی نہیں چاہتی ہے کہ نوٹ بند ی پر ایوان میں بحث ہو۔کانگریس کے سینئرلیڈرنے کہا کہ نوٹ بند ی کو لے کر اتنی افراتفری پھیل چکی ہے کہ مودی حکومت اس میں خود ہی پھنس گئی ہے،اس لیے وہ طرح طرح کے بہانے بنا رہے ہیں ، کئی بیانات کی آڑ لے کر بحث کا راستہ میں رکاوٹ کھڑی کی جا رہی ہے ۔دگ وجے سنگھ نے کہاکہ مودی حکومت خود کو نوٹ بند ی میں پھنسا ہوا پا رہی ہے، اس لیے پارلیمنٹ میں ایسے حالات پیدا کر رہی ہے کہ بحث نہیں ہو پائے۔غورطلب ہے کہ پارلیمنٹ میں تعطل کے معاملے پر اپوزیشن کو آڑے ہاتھ لیتے ہوئے صدر پرنب مکھرجی نے کچھ ہی دنوں پہلے ایک پروگرام میں کہا تھا کہ ایوان دھرنے ،مظاہرے اور ایسی رکاوٹ پیدا کرنے کی جگہ نہیں ہے جس میں اقلیت کی طرف سے اکثریت کی آواز دبا دی جائے۔پرنب نے کہا تھا کہ اپوزیشن کا کام ایوان میں خلل ڈالنا نہیں، بلکہ بحث اور کام کاج کرنا ہے۔صدر نے کہا تھاکہ پارلیمانی نظام میں کام کاج میں رکاوٹ ڈالنا پوری طرح نا قا بل قبول ہے۔لوگ اپنے نمائندوں کو بولنے کے لیے بھیجتے ہیں، دھرنے پر بیٹھنے کے لیے نہیں، اور نہ ہی ایوان میں مشکلات پیدا کرنے کے لیے ۔پارلیمنٹ میں تعطل ختم کرنے کے طریقے کے بارے میں پوچھے جانے پر دگ وجے سنگھ نے کہا کہ اس کا حل یہی ہے کہ لوک سبھا میں نوٹ بند ی پر ووٹوں کی تقسیم کی شق والے ضابطے 184کے تحت حکومت بحث کرائے، ایک بار ووٹوں کی تقسیم ہو جائے گا تو پوری صورت حال واضح ہو جائے گی۔انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کے پاس اکثریت ہے، پھر وہ بحث سے کیوں فراراختیارکررہی ہے، ووٹوں کی تقسیم کی شق والے ضابطہ 184کے تحت بحث کرا لیں ، تو تعطل ہی ختم ہو جائے گا۔