ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بنگلورو کے ورتور میں 100کروڑ کی وقف املاک 19کروڑ میں فروخت

بنگلورو کے ورتور میں 100کروڑ کی وقف املاک 19کروڑ میں فروخت

Tue, 14 Mar 2023 12:25:13    S.O. News Service

بنگلورو، 14/ مارچ(ایس او  نیوز)شہر میں تیزی سے ترقی کرنے والے علاقہ ورتور میں جامع مسجد کی ایک وقف املاک جس کا رقبہ دس ایکڑ ہے اور فی الوقت اس کی لاگت 100کروڑر وپیوں کے آس پاس ہے اس کو غیر قانونی طریقہ سے محض 19کروڑ روپیوں میں فروخت کر دینے اور اب فروخت کے خلاف بورڈ اور جامع مسجد ورتور کی طرف سے عدالت میں جو مقدمہ درج کیا گیا ہے اس میں وقف بورڈ کی طرف سے پیروی کرنے والے وکیل کو کیس کی کارروائی میں مقابل فریق کے حق میں موقف اپنانے کیلئے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔

اس سلسلہ میں کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری محمد عبیداللہ شریف نے بتایا کہ وقف بورڈ کی طر ف سے اس کیس کی پیروی کیلئے حنیف نامی ایک وکیل کی خدمات لی گئیں جنہوں نے ورتور میں واقع اراضی کو اس زمین کے متولی کے وارث ہونے کا دعویٰ کرنے والوں کی طرف سے مؤرخہ24فروری2022 اس زمین کوگرانڈ اسکائی انفرا پروجیکٹس مہا دیو پورا کو فروخت کر دیا۔ اس معاملہ میں 11جولائی کو عدالت میں ایک عرضی دائر کر کے اس سے جڑے کیس میں زمین کے خریدار کو بھی فریق بنانے کی عدالت سے گزارش کی گئی اور عدالت نے اسے منظور بھی کر لیا۔ اس کے بعد وقف بورڈچیر مین اور لاء کمیٹی کے چیرمین کی طرف سے بار بار متعلقہ وکیل پر اثر و رسوخ جمانے کی کوشش کی جا رہی ہے،اس کے علاوہ معروف عالم دین شیخ ابو بکر مصلیارکو بھی اس معاملہ میں گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی اور ان کو یہ بتائے بغیر کہ جس املاک کے بارے میں ان کو بتایا جا رہا ہے وہ وقف کی ہے وکیل سے یہ کہا جا رہا ہے کہ قطرمیں مقیم این ایم نوفل نامی ایک صاحب کی مدد کریں۔

نوفل کا دعویٰ ہے کہ وہ گرانڈ اسکائی انفرا پروجیکٹس، مہادیو پورا کے پارٹنر ہیں جو متعلقہ وقف املاک کے خریداروں میں شامل ہو گئے ہیں۔ چیرمین اور لاء کمیٹی چیرمین کی طرف سے بار بار اصرار کیا جا رہا ہے کہ اس رٹ پٹیشن کے سلسلہ میں مزید کوئی اور درخواست داخل نہ کی جائے کیونکہ ایسا کرنے سے این ایم نوفل کے حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔عبید اللہ شریف نے بتایا کہ وقف بورڈ چیرمین اور لاء کمیٹی چیرمین کے انفرادی مفادات کی وجہ سے وقف کے کاذکو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس معاملہ میں وکیل نے کہا ہے کہ اس کیس کی پوری فائل وہ وقف بورڈ کے سبھی ممبروں اور چیف ایگزی کیٹیو آفیسر کی موجودگی میں واپس کرنے تیار ہیں بشرطیکہ وقف بورڈ کے سی ای اس بات کی وضاحت کریں کہ اس کیس کی پیروی کرتے ہوئے ان سے کیا غلطی ہوئی ہے۔


Share: