نیویارک،16/جون(آئی این ایس انڈیا) اقوامِ متحدہ نے افغانستان کو ملک میں جاری خانہ جنگی کے باعث مسلسل پانچویں سال بچوں کے لیے خطرناک ترین ملک قرار دیا ہے۔
اقوامِ متحدہ نے پیر کو مسلح تنازعات میں گھرے بچوں سے متعلق اپنی سالانہ رپورٹ جاری کی جس میں کہا گیا ہے کہ 2019 کے دوران افغانستان میں تین ہزار سے زائد بچے مارے گئے اور لگ بھگ اتنے ہی زخمی ہونے کے بعد ہمیشہ کے لیے معذور ہو گئے۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق یہ تمام بچے افغانستان میں جاری خانہ جنگی کے دوران بم دھماکوں اور حملوں کا نشانہ بنے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والے 1200 سے زائد بچے طالبان کے حملوں کا نشانہ بنے جب کہ لگ بھگ ایک ہزار بچے حکومتی فورسز کی کارروائیوں کے دوران مارے گئے۔
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی بچوں کے لیے نمائندہ خصوصی ورجینیا گامبا نے رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال چوں کہ افغانستان میں انتخابات تھے، اس لیے حملوں اور تشدد میں اضافے کے باعث بچوں کی زیادہ ہلاکتیں ہوئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ افغانستان اب بھی بچوں کے لیے خطرناک ترین ملک ہے، لیکن 2018 کے مقابلے میں گزشتہ سال کم ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں۔
ورجینیا گامبا نے کہا کہ افغانستان میں مقامی اور بین الاقوامی فورسز نے بچوں کی زندگیوں کے تحفظ کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں اور اب افغانستان میں امن عمل بھی جاری ہے۔ لہٰذا انہیں امید ہے کہ آنے والے دنوں میں افغانستان میں بچوں کی اموات میں نمایاں کمی آئے گی۔
بچوں کے لیے سب سے زیادہ خطرناک ممالک کی فہرست میں افغانستان کے بعد شام دوسرے اور یمن تیسرے نمبر پر ہے۔
رپورٹ کے مطابق شام میں گزشتہ سال 1454 بچے مختلف حملوں میں ہلاک اور معذور ہوئے۔ یمن میں 2019 کے دوران 1400 سے زائد بچے زمینی اور فضائی حملوں کا نشانہ بن کر یا تو جان سے ہاتھ دھو بیٹھے یا ہمیشہ کے لیے معذور ہو گئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ سال یمن میں اسکولوں پر 20 حملے ہوئے۔ ہلاک ہونے والے 313 بچے حوثی باغیوں کے حملوں کا نشانہ بنے جب کہ 222 بچے سعودی عرب کی اتحادی فورسز کے حملوں کا شکار ہوئے۔