واشنگٹن ،۹/جون (آئی این ایس انڈیا)امریکہ میں تقریباً دو ہفتوں سے لوگ سڑکوں پر نکل رہے ہیں اور ان کا احتجاج امریکہ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے افریقی امریکیوں کے خلاف نسلی امتیاز کے خلاف ہے۔ اور پولیس کے محکمے کی فنڈنگ روکنے کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔اس احتجاج کا آغاز گذشتہ ماہ کے آخر میں اس وقت ہوا جب امریکی ریاست منی سوٹا کے شہر منی ایپلس میں ایک سیاہ فام شہری کو گرفتار کرتے ہوئے پولیس نے ایسی طاقت استعمال کی کہ اس کی موت واقع ہو گئی۔
ہزاروں کی تعداد میں لوگ امریکہ کے چھوٹے بڑے تمام شہروں میں اس واقعے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ افریقی امریکیوں کے خلاف پولیس کی جانبدارانہ کاروائیوں اور نسلی امتیاز کو ختم کیا جائے۔ اس احتجاج میں ہر رنگ و نسل کے لوگ شریک ہوئے ہیں۔ اتوار کے روز منی ایپلس کی سٹی کونسل نے اس وقت سب کو حیران کر دیا جب اس کے 12 میں سے 9 ارکان نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ شہر کے پولیس کے محکمے کو ختم کر کے اس کی از سرِ نو تعمیر کی جائے گی۔ سٹی کونسل کے اس فیصلے کو ویٹو بھی نہیں کیا جا سکتا، نہ ہی ریاست کی اسمبلی میں اسے چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ اس بارے میں ہیوسٹن، ٹیکساس کے اٹارنی آف لاء اور کمشنر ہیوسٹن پلاننگ اینڈ ہیوسٹن ائیر پورٹس، ظفر طاہر کہتے ہیں کہ یہ ایک غیر معمولی اقدام ہے اور اس کا مقصد صرف اصلاح نہیں بلکہ پولیس کے محکمے کو مکمل طور پر ختم کر کے اس کی تعمیر از سر نو کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک ایسا منصوبہ ہے جس پر فی الفور عمل ممکن نہیں ہے کیونکہ پولیس کے تحت مختلف امور کی تکمیل ضروری ہے۔ اس لئے اس میں وقت لگ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعمیرِ نو اور اصلاحات میں فرق ہے۔ پہلے سے موجود ڈھانچے میں ردو بدل کا نام اصلاح ہے، مگر یہاں بات ہو رہی ہے ایک مکمل نئی فورس کی تشکیل کی۔امریکہ میں احتجاجی مظاہرین کا بڑا مطالبہ ملکی پولیس فورس میں اصلاح اور اس کے وسیع اختیارات پر نظرِ ثانی کے ساتھ پولیس کی نئی کھیپ کی ٹریننگ کے طریقہ کار کو تبدیل کرنا بھی ہے۔ ایک مطالبہ پولیس کی فنڈنگ روک دینے کا بھی کیا جا رہا ہے۔منی ایپلس کے میئر جیکب فرے نے سٹی کونسل کے فیصلے کی حمایت نہیں کی، تاہم وہ کہتے ہیں کہ وہ نظام کی تبدیلی، منظم نسلی امتیاز اور پولیس کے ڈھانچے میں اصلاحات کیلئے کام کرتے رہیں گے، مگر وہ اس کے حق میں نہیں ہیں کہ پولیس کو مکمل طور پر ختم کر کے دوبارہ قائم کیا جائے۔