پاکستان میں ہندوؤں کے خلاف تضحیک آمیز بیان دینے پر پنجاب کے وزیر مستعفی

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 6th March 2019, 7:02 PM | عالمی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

اسلام آبا د6مارچ ( آئی این ایس انڈیا/ایس او نیوز ) ہندوؤں کے خلاف تضحیک آمیز بیان دینے پر پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور صوبہ پنجاب کے وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان سے استعفیٰ لے لیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ان کا استعفیٰ منظور کر لیا ہے۔دارالحکومت لاہور میں گردش کرنے والی افواہوں کے مطابق ممبر صوبائی اسمبلی صمصام بخاری کو چوہان کی جگہ پنجاب کا نیا وزیر اطلاعات بنایا جا رہا ہے جو امکاناً بدھ کو اپنے عہدے کا حلف اٹھا سکتے ہیں۔ ایسی افواہوں کی البتہ سرکاری ذرائع سے تصدیق فی الحال نہیں ہو سکی ہے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب کے ترجمان ڈاکٹر شہباز گل کی طرف سے منگل کی شام جاری کیے جانے والے ایک ویڈیو پیغام میں کہا گیا ہے کہ فیاض الحسن چوہان کا ہندو مذہب کے ماننے والوں کے بارے میں دیا گیا بیان حکومت کی پالیسی سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اس بیان کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔ بیان سے مکمل طور پر لا تعلقی اختیار کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس بیان پر پنجاب کے وزیر اعلیٰ بہت رنجیدہ ہیں اور انہیں دلی طور پر دکھ اور افسوس ہوا ہے۔ ڈاکٹر شہباز گل کے مطابق وزیر اعلیٰ بزدار نے منگل کے روز فیاض الحسن چوہان سے ملاقات کر کے انہیں اپنی ناخوشی سے آگاہ کیا تھا۔ اس کے بعد چوہان نے استعفیٰ دیا، جسے وزیر اعلیٰ پنجاب نے منظور کر لیا۔

وزیر اعلیٰ پنجاب کے ترجمان کے مطابق پنجاب حکومت اقلیتی مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے اور ان کو پہنچنے والے صدمے پر ان سے معذرت خواہ ہے۔ قبل ازیں فیاض الحسن چوہان نے بھی اپنے ایک وضاحتی بیان میں ہندو برادری سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے خطاب میں پاکستان کی ہندو کمیونٹی کو مخاطب نہیں کیا بلکہ ان کا ہدف بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی، بھارتی میڈیا اور افواج تھے۔فیاض الحسن چوہان بعد ازاں اپنے استعفیٰ کی منظوری کے بعد الحمرا میں سرکاری اہلکاروں سے الوداعی ملاقاتیں کر کے واپس راوالپنڈی روانہ ہو گئے۔ چوہان راولپنڈی سے پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ وہ اپنے متنازعہ بیانات کی وجہ سے کئی مرتبہ تنقید کی زد میں رہے ہیں۔ تحریک انصاف میں شمولیت سے پہلے وہ جماعت اسلامی کا حصہ تھے اور اپنی تعلیم کے دور میں وہ اسلامی جمعیۃ الطلبہ سے بھی منسلک رہے۔پاکستان میں اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے ہندو کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے پنجاب یونیورسٹی کے استاد اور ممتاز محقق اشوک کمار کھتری نے کہا کہ صوبائی حکومت کا اقلیتوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کا یہ قدم قابل تحسین ہے۔ ان کے بقول اس سے ملک میں بسنے والی اقلیتوں کو ایک اچھا پیغام پہنچا۔

ایک نظر اس پر بھی

سری لنکا: مسلم مخالف فسادات میں ایک شخص ہلاک، مساجد کو نقصان

حکومتی وزیر رؤف حکیم کے مطابق مسلم مخالف فسادات میں ایک مسلمان ہلاک ہو گیا ہے جبکہ مسلمانوں کی املاک کو بھی نذر آتش کرنے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ رؤف حکیم کا تعلق مسلم کانگریس نامی سیاسی جماعت سے ہے۔ یہ سیاسی پارٹی حکومتی اتحاد میں شامل ہے۔ حکیم کے مطابق مشتعل افراد نے پیر تیرہ ...

بنگلور میں 23/ مئی کو ووٹوں کی گنتی کے دوران امتناعی احکامات نافذ

23 مئی کو لوک سبھاانتخابات کے نتائج کا اعلان ہورہا ہے۔ انتخابات کے نتائج ظاہر ہونے کے مرحلے میں کوئی ناخوشگوار صورتحال پیدا نہ ہونے پائے اس کے لئے شہر کے پولیس کمشنر سنیل کمار نے 23مئی کی صبح چھ بجے سے شہر بھر میں امتناعی احکامات نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

بلدی انتخابات کے لئے 5945 نامزدگیاں داخل

ریاست بھر کے بلدی اداروں کے لئے 29 مئی کو ہونے والے انتخابات میں حصہ لینے کے لئے نامزدگیوں کے اندراج کی تاریخ کل ختم ہونے کے بعد جملہ 5945 نامزدگیاں داخل کی گئی ہیں۔

مودی کی اقتدار میں واپسی کے تمام راستے بند: راہل گاندھی

 کانگریس کے صدر راہل گاندھی نے حزب اختلاف کے طور پر کانگریس کی کارکردگی کو کامیاب بتاتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران پارٹی نے مؤثر طریقہ سے عوام کے مسائل کو اٹھایا ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی کو دوبارہ اقتدار میں آنے سے روکنے کے لئے ان کے تمام راستے بند کر دئے گئے ...