ضلع اُترکنڑا میں ہوئے 2سرکاری بس حادثات کے بعد دونوں بس ڈرائیور معطل

Source: S.O. News Service | By Abu Aisha | Published on 12th July 2018, 7:41 PM | ساحلی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

کاروار:12/ جولائی (ایس او نیوز) گذشتہ سنیچر کو کمٹہ میں پیش آئے ایک سڑک حادثہ میں  کے ایس آر ٹی سی بس اور ہسکام گریڈ کا بڑا کھمبا لے جانے والی لاری کے درمیان پیش آئی  ٹکر میں  سرکاری  بس ڈرائیور پنڈلک گوڈا کو لاپرواہی سے بس چلانے کے الزام میں معطل کیا گیا ہےاوراسی طرح 24جون کوسرکاری بس کاروار کے بیت کھول کے گڈھے میں گرنے سے کئی مسافر زخمی ہوئے تھے ، اُس حادثے میں بھی  بس ڈرائیور شرنپا بسپا پتّار کو نشے کی حالت میں  بس ڈرائیونگ کرنے کے  الزام میں معطل کردیا گیا ہے۔ اس بات کی جانکاری کے ایس آر ٹی سی زونل آفیسر سدیشورہیبال نے  دی ہے۔

کمٹہ کے قومی شاہراہ پر ہوئے بس اور لاری کی ٹکر  میں 3 مسافر ہلاک اور کئی زخمی ہوئے تھے ، بتایا گیا ہے کہ  اگر ڈرائیور نے غفلت نہ برتی ہوتی تو حادثےسے بچا جاسکتا تھا،  اسی بنیاد پر بس ڈرائیور کو معطل کئے جانے کی بات کہی گئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ آرٹی او نے کمٹہ حادثے میں بس ڈرائیور کی ہی لاپرواہی کو حادثے کے لئے ذمہ دار ٹہرایا ہے۔

خیال رہے کہ  ایک بڑا کھمبا، جس کے دونوں سِروں کا کافی حصہ لاری سے باہر تھا، سرکاری بس سے جاٹکرایا تھا، جس پر سوشیل میڈیا میں  کافی بحث چھڑ گئی تھی کہ ایسے لاریوں کو  آر۔ٹی او ضلع میں داخل ہونے کی اجازت کیسے دیتے ہیں۔ عوام آر۔ٹی او سے سوال کررہے تھے کہ کئی ایک چیک پوسٹ پر گذرنے کے بائوجود اس لاری کو کیوں نہیں روکا گیا تھا، مگر آر۔ٹی۔او نے  حادثے کے لئے بس ڈرائیور کو ہی ذمہ دار ٹہرا دیا ہے، جس پر کاروائی کرتے ہوئے سرکاری بس ڈرائیور کو اپنی نوکری سے معطل کردیا گیا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

اڈپی: شیرور مٹھ لکشمی ورا تیرتھا سوامی منی پال اسپتال میں انتقال کرگئے؛ کھانے میں زہر دے کر مارنے کا شبہ؛ صاف شفاف چھان بین کا مطالبہ

مشہور و معروف شیرور مٹھ کے لکشمی وراتیرتھا سوامی(۵۵سال) منی پالاسپتال میں علاج کے دوران انتقال کرگئے ۔ ان کی موت پر شک و  شبہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ ان کی موت غیرفطری طور پر ہوئی ہے اور شک ہے کہ انہیں زہر دے کر مارا گیا ہے۔

بھٹکل میونسپالٹی میں صفائی کرمچاری پرہاتھ اُٹھانے کا الزام؛ کام بند کرکے کیا گیا احتجاج؛ صلح صفائی کے بعد معاملہ حل

بھٹکل ٹائون میونسپالٹی کے ایک صفائی کرمچاری پر میونسپالٹی کے ہی ایک آفسر کے ذریعے ہاتھ اُٹھانے کا الزام عائد کرتے ہوئے  سبھی صفائی کرمچاریوں نے آج جمعرات کو احتجاج کرتے ہوئے کام کاج بند کردیا۔ مگر قریب تین گھنٹوں بعد  آپسی صلح صفائی کے بعد معاملہ حل کرلیا گیا۔

بھٹکل : کتابوں کا مطالعہ انسان کو اعلیٰ مقام پر لے جاتاہے: بیلکے ہائی اسکول میں شیوانی شانتا رام کا خطاب

کتابیں طلبا کی عقل و شعور کی قوت میں اضافہ کرتی ہیں ، عقل کا بہترین استعمال کرنے میں معاون وممد ہوتی ہیں، کتابوں کے مطالعہ سے انسان اعلیٰ مقام تک پہنچ سکتاہے۔ ان خیالات کااظہار بھٹکل کی صنعت کار شیوانی شانتارام نے کیا۔

منگلورومیسکام مزدوروں کو لگا ہائی ٹینشن وائر کا جھٹکا۔ ایک ہلاک 8شدید زخمی

مارائوور بس اسٹائنڈ  کے قریب  الیکٹرک کا نیا کھمبا نصب کرنے میں مصروف منگلورو الیکٹرک سپلائی کمپنی (میسکام) کے مزدور ہائی ٹینشن وائر کی زد میں آنے سے ایک کی موقع پر ہی موت واقع ہوگئی جبکہ بجلی کے جھٹکے لگنے سے دیگر 8مزدور شدید زخمی ہوگئے ،جنہیں علاج کے لئے نجی اسپتال لے جایا ...

22سالہ بیٹے کے ساتھ50سالہ ٹیکسی ڈرائیور فاروق شیخ نے گریجویشن کی ڈگری حاصل کی

تعلیم حاصل کرنے کی کوئی عمرنہیں ہوتی۔ یہ سچ کرکے دکھایا ہے ممبئی کے50سالہ ٹیکسی ڈرائیور فاروق شیخ نے ۔ فاروق شیخ نے پچاس کی عمر میں اپنے 22 سالہ بیٹے کے ہمراہ کامرس میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کی ہے۔

بھٹکل میونسپالٹی میں صفائی کرمچاری پرہاتھ اُٹھانے کا الزام؛ کام بند کرکے کیا گیا احتجاج؛ صلح صفائی کے بعد معاملہ حل

بھٹکل ٹائون میونسپالٹی کے ایک صفائی کرمچاری پر میونسپالٹی کے ہی ایک آفسر کے ذریعے ہاتھ اُٹھانے کا الزام عائد کرتے ہوئے  سبھی صفائی کرمچاریوں نے آج جمعرات کو احتجاج کرتے ہوئے کام کاج بند کردیا۔ مگر قریب تین گھنٹوں بعد  آپسی صلح صفائی کے بعد معاملہ حل کرلیا گیا۔

منگلورومیسکام مزدوروں کو لگا ہائی ٹینشن وائر کا جھٹکا۔ ایک ہلاک 8شدید زخمی

مارائوور بس اسٹائنڈ  کے قریب  الیکٹرک کا نیا کھمبا نصب کرنے میں مصروف منگلورو الیکٹرک سپلائی کمپنی (میسکام) کے مزدور ہائی ٹینشن وائر کی زد میں آنے سے ایک کی موقع پر ہی موت واقع ہوگئی جبکہ بجلی کے جھٹکے لگنے سے دیگر 8مزدور شدید زخمی ہوگئے ،جنہیں علاج کے لئے نجی اسپتال لے جایا ...

یلاپور میں برقی تار چھونے سے دو کسانوں کی موت

ضلع اُترکنڑا کے یلاپور تعلقہ کے  ڈونڈیان کوپّا میں  دوکسان اُس وقت ہلاک ہوگئے جب وہ  منگل شام کو کھیتوں میں کام کاج نپٹا کر واپس گھر جارہے تھے کہ اچانک راستے پر پڑی برقی تار  پر ان کے قدم پڑ گئے۔