کرناٹکا اسمبلی انتخابات؛ بھٹکل اور کمٹہ سمیت دکشن کنڑا کے سبھی کانگریس اُمیدوار انتخابی نتائج پر غیر مطمئن؛ الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر کیا شکوک و شبہات کا اظہار ،الیکشن آفسر سے شکایت

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 15th May 2018, 7:41 PM | ساحلی خبریں | ریاستی خبریں |

بھٹکل 15/مئی (ایس او نیوز)  آج منگل کو کرناٹکا اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بعد ضلع اُترکنڑا کےبھٹکل اور کمٹہ اسمبلی حلقہ سمیت پڑوسی ضلع دکشن کنڑا کے ہارنے والے سبھی سات کانگریس اُمیدواروں نے  الیکٹرونک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے الیکشن آفسران سے شکایت  کی ہے اور مشینوں کی جانچ کرانے اور وی وی پیاٹ کے ذریعے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

مینگلور ساوتھ کے کانگریسی اُمیدوار جے آر لوبو جنہوں نے پچھلے انتخابات میں جیت درج کی تھی، اس بار بی جے پی کے  ویدا ویاس کامتھ کے ہاتھوں شکست کھاگئے ہیں، اسی طرح مینگلور نارتھ کے محی الدین باوا کو بی جے پی کے بھرت شٹی نے شکست دی ہے۔ اُدھر بنٹوال کے کانگریسی اُمیدوار اور سابق ریاستی وزیر جنہیں کانگریس  کے سنئیر لیڈر کی حیثیت حاصل ہے، اس بار بی جے پی کے راجیش نائک کے ہاتھوں ہار کا سامنا کرنا پڑا ہے۔اسی طرح پتور کی ٹی شکنتلا شٹی، موڈبیدری کے ابھے چندراجین، بیلتنگڈی کے وسنت بنگیرا اور سولیا کے بی رگھو نے بھی الیکشن رٹرننگ آفسر سے مشینوں کی شفافیت پر سوالات اُٹھاتے ہوئے  وی وی پیاٹ کے ذریعے ووٹوں کی گنتی کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

اسی طرح کی شکایت بھٹکل اور کمٹہ کے  کانگریسی اُمیدوار بالترتیب منکال وئیدیا اور شاردا شٹی  نے بھی اپنے اپنے متعلقہ الیکشن ریٹرننگ آفسر سے کی ہے۔ اپنی شکست پر حیران اور پریشان ان سبھی اُمیدواروں نے ای وی ایم مشینوں پر ہی سوالات کھڑے کئے ہیں اور  کہا ہے کہ مشینوں میں گڑبڑی کی وجہ سے ہی اُن کی شکست ممکن ہے۔ ایک طرف رماناتھ رائے نے اخبارنویسوں کو بتایا کہ  انہوں نے کافی  ترقیاتی کام کئے ہیں، اسی طرح پوری ریاست میں بھی  سدرامیا کے زیر اقتدار  کانگریس حکومت نے  کافی ترقیاتی کام کئے ہیں، مگر ان سب کے بائوجود  زیادہ تر حلقوں میں کانگریس کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے تو  شکوک وشبہات پیداہورہے ہیں کہ کہیں مشینوں میں گڑبڑی کی گئی ہو، جس کی وجہ سے  کانگریس کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

بھٹکل کے کانگریسی اُمیدوار منکال وئیدیا نے بتایا کہ اُنہیں جن پولنگ بوتھوں پر ووٹ ملنے چاہئے تھے، وہاں ووٹ اُن کو ملنے کے بجائے مخالف پارٹی کو چلے گئے ہیں، منکال کے مطابق چند پولنگ بوتھ ایسے ہیں جہاں خالص اقلیتی ووٹ ہیں، مگر وہاں بھی کافی ووٹ مخالف پارٹی کے کھاتے میں گئے ہیں جس سے اُنہیں شک ہورہا ہے کہ مشینوں میں گڑبڑی کی گئی ہوگی۔ اُدھر کمٹہ میں کانگریسی اُمیدوار شاردا موہن شٹی نے بھی الیکشن آفسر سے شکایت کی ہے کہ اُنہیں ووٹنگ مشینوں پر شک ہے کہ کہیں کوئی گڑبڑی ہوئی ہے، لہٰذا ای وی ایم مشینوں کی جانچ کرائی  جائے اور وی وی پیاٹ کے ذریعے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کرائی جائے۔

خیال رہے کہ اُترکنڑا میں گذشتہ انتخابات میں صرف سرسی میں بی جے پی اُمیدوار کو جیت ہوئی تھی، دیگر چار اسمبلی حلقوں میں کانگریس اور ایک بھٹکل حلقہ میں آزاد اُمیدوار کو کامیابی حاصل ہوئی تھی، مگر اس بار چھ اسمبلی حلقوں میں صرف دو میں کانگریس کو جیت حاصل ہوئی ہے اور باقی چار پر بی جے پی قبضہ ہوگیا ہے۔

پڑوسی ضلع  اُڈپی اورضلع دکشن کنڑا میں بھی اس بار کانگریس کا صفایا ہوگیا ہے، صرف مینگلور کی اُلال سیٹ کانگریس بچانے میں کامیاب رہی ہے، جہاں یو ٹی قادر کو جیت حاصل ہوئی ہے، بقیہ سبھی سیٹوں پر بی جے پی قابض ہوگئی ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

اُڈپی:مذاہب کے تقابلی مطالعہ میں  ماہر نہال احمد اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیاکرناٹکا  (SIO) کے ریاستی صدر منتخب

گلبرگہ کے ہدایت سنٹر میں منعقدہ اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا کرناٹکا کے اسٹیٹ ایڈوائزی کونسل کی انتخابی  نشست میں  اُڈپی ضلع  سے تعلق رکھنے والے ایس آئی اؤ کے فعال و متحرک ممبر نہا ل احمد کدیور کو ایس آئی اؤ کی اگلی میقات 20196-2020کے لئے ریاستی صدر کی حیثیت سے منتخب ...

بھٹکل میں کنٹیروا فرینڈ س کے زیراہتمام خوبصورت کبڈی ٹورنامنٹ : میزبان ٹیم نے ہی جیتا خطاب

مٹھلی گرام پنچایت حدود والے  تلاند کے کٹے ویرا مہاستی میدان میں کنٹیروا فرینڈس کے زیراہتمام منعقدہ تعلقہ سطح کے 55کلو   کبڈی ٹورنامنٹ میں میزبان  کنٹیرو فرینڈس  نے فائنل  میں مہاستی منونڈو ٹیم کو شکست دیتے ہوئے خطاب جیت لیا ۔

بھٹکل میں 1009آخری رسومات امداد کی عرضیاں  باقی : دوبرسوں سے عوام امداد کے انتظار میں

آخری رسومات منصوبے کے تحت اترکنڑا ضلع کو سال 2018-2019میں 38.10لاکھ روپئے کی امداد منظور کی گئی ہے، تیسری قسط کے طورپر 20.30لاکھ روپئے منظور کئے جارہے ہیں، کل 1009عرضیوں کو معاشی امداد  باقی رہنے کی ریاست کے وزیر تحصیل آر وی دیش پانڈے نے  سرمائی اجلاس کے دوران تحریری جانکاری دی ہے۔

کرناٹکا سے گوا کے لئے  مچھلی سپلائی پابندی میں ڈھیل:چھوٹی سواریوں کے ذریعے مچھلی سپلائی کی اجازت: دیشپانڈے کی کوشش رنگ لائی  

ریاست سے گوا کوچار پہیہ سواری سمیت چھوٹی سواریوں کےذریعے مچھلی   سپلائی پر کوئی پابندی نہیں ہونے کی ریاستی کابینہ کے اسکل ڈیولپمنٹ اور تحصیل وزیر آر وی دیش پانڈے نے جانکاری دی ہے۔

مینگلور میں سابق وزیر پلّم راجو نے کیا ریفائیل معاہدے کے سلسلے میں جوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی کے ذریعے تحقیقات کا مطالبہ

سابق مرکزی وزیر پلّم راجو نے منگلورو میں میڈیا سے بات چیت کے دوران مطالبہ کیا کہ جنگی ہوائی جہاز ریفائیل کی خریداری میں ہوئی بدعنوانی کے تعلق سے تحقیقات کے لئے جوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی تشکیل دی جانی چاہیے ۔

ریاستی حکومت اقلیتوں کی ترقی کی پابند: کمارسوامی، بجٹ میں اقلیتوں کے گرانٹس میں پانچ سو کروڑ کے اضافے کا اعلان

ریاست کی مخلوط حکومت کا منشاء ہے کہ اقلیتوں کو اس قدر تعلیمی ، سماجی اور معاشی طور پر مضبوط کیا جائے کہ وہ ملک کے دیگر طبقوں کے شانہ بہ شانہ ملک کی ترقی کے حصے دار بنیں۔

چھٹویں پے کمیشن کی سفارشات زیر غور: کمار سوامی

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں پر نظر ثانی کے متعلق ریاستی حکومت کو چھٹویں پے کمیشن کی جو رپورٹ پیش کی گئی ہے اس کی پہلی اور دوسری جلد میں شامل سفارشات پر حکومت سنجیدگی سے غور کررہی ہے،

کابینہ میں توسیع کے ساتھ وزارت میں ردوبدل بھی ممکن، پانچ تا چھ وزراء کو ہٹانے پر غور: دنیش گنڈو راؤ

رناٹکا پردیش کانگریس کمیٹی صدر دنیش گنڈو راؤ نے آج اشارہ دیا کہ ریاستی کابینہ کی 22 دسمبر کو توسیع کے مرحلے میں وزارت میں بڑے پیمانے پر ردوبدل بھی ہوسکتی ہے اور ردوبدل کے مرحلے میں پانچ چھ وزراء کو ہٹایا بھی جاسکتا ہے۔

ریاست کرناٹک میں22 دسمبر کو کابینہ توسیع 

کرناٹک میں ایچ کمار سوامی کی قیادت والے کابینہ میں توسیع 22 دسمبر کی جائے گی ۔ کابینہ میں توسیع نہ ہونے سے پارٹی کے اندر کافی عدم اطمینان کی افواہیں گردش کر رہی ہیں ۔