بھٹکل :دنیا  گواہ ہے  کہ ٹیپو سلطان سائنس و ٹکنالوجی کے ماہر،مذہبی روادار اور مجاہدِ آزادی تھے :ٹیپو جینتی کے موقع پر ماہرین کا خطاب

Source: S.O. News Service | By Abu Aisha | Published on 10th November 2017, 7:36 PM | ساحلی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

بھٹکل:10/ نومبر (ایس اؤنیوز) شیر میسور،مجاہدِ آزادی ،سائنس و ٹکنالوجی کے ماہر حضرت ٹیپو سلطا ن ؒ کے یوم ِ پیدا ئش کے موقع پر 10نومبر بروز جمعہ صبح رابطہ ہال میں بھٹکل تعلقہ انتظامیہ کے زیراہتمام منعقدہ ٹیپو جینتی پروگرام کا اترکنڑا ضلع پنچایت صدر جئے شری موگیر نے دیا سلائی کے ذریعے افتتاح کیا۔

افتتاح کے بعد خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ٹیپو جینتی سرکاری سرپرستی میں منعقد کی جارہی ہے، ہندو اور مسلمان یک جہتی کے طورپر پروگرام میں شرکت کرنا مسرت کی بات ہے۔ بھٹکل اسسٹنٹ کمشنر ایم این منجوناتھ نے افتتاحی کلمات پیش کرتے ہوئے کہاکہ انگریزوں کے خلاف ملک کی آزادی کے لئے سب سے پہلے لڑائی کرنے والے حضرت ٹیپو سلطان تھے۔ انہوں نے کرناٹکا ریاست کے لئے ریشم، راکٹ ٹکنالوجی سمیت کئی ایک میدانوں سے متعارف کراتے ہوئے کئی ایک سماجی خدمات کا انجام دیا ہے۔ شرنگیری مٹھ سمیت مختلف مندروں کو انہوں نے عطیہ جات عطاکرتے ہوئے وہ مذہبی روادار حکمران ہونا ثابت کئے ۔

پروگرام میں انجمن ڈگری کالج کے موظف پرنسپال اور کنڑا کے شاعر و ادیب ڈاکٹر ضمیر اللہ شریف نے ٹیپو سلطان بحیثیت سلطان ریاست اور دنیا کو کیادین ہے اور کیوں موجودہ نئی نسل کے سامنے ان کے دور کی خصوصیات کس لئے پیش کرنا چاہئے تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہاکہ حالیہ دنوں میں عوام سے آزادی کو چھین لینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ آج ٹیپو کے جو کوئی مخالفین ہیں وہ سب دشمن انگریزوں کی لکھی ہوئی کتابوں سے مطالعہ کرکے مخالفت کررہے ہیں یہ صحیح نہیں ہے۔انہوں نے ٹیپو کے مذہبی رواداری کی مثال دیتے ہوئے کہاکہ شرنگیری مٹھ کے علاوہ کولور کی موکامبیکا دیوی مندر میں ٹیپو جینتی کے موقع پر 7دن تک پوجا ہوتی ہے ۔ ایسے کئی مندر ہیں جہاں ان کے عطیہ جات کو یاد کرتے ہوئے مختلف قسم کے پوجا و رسم ادا کئے جاتےہیں۔ کورگ اور منگلورو میں اس زمانے میں جوکچھ ہوا اس کی غلط تشریح کی جارہی ہے۔ جو زمیندار تھے ان کے ظلم و ستم کو توڑنے کے لئے انہوں نے ایک راجا کے طورپر اس وقت جو مناسب قدم ہوسکتاتھا وہ اٹھایا۔

ضمیر اللہ نے بتایاکہ عام طورپر دشمن کی موت کے بعد اس کی دھن دولت کو لوٹا جاتاہے لیکن انگریزوں نے جب ٹیپو سلطان کے موت کی خبرسنی تو اس کے بعد انہوں نے دھن دولت سے زیادہ ان کے دورِ حکمرانی کے 700راکٹ اور اسداللہ کی نقش کندہ تلوار لے گئے۔ انگریزوں نے ٹیپو سلطان کی ٹکنالوجی کا نپولین بوناپارٹ کے خلاف استعمال کیا۔ اور آج وہاں کے ٹکنالوجی کے ماہرین دنیا کے مختلف مقامات پر سمیناروں وغیرہ میں شرکت کرتے ہوئے ان کی تلوار اور راکٹ کا سائنسی مطالعہ کرنے کے بعد گواہی دے رہے ہیں کہ ٹیپو سلطان انگریزوں سے زیادہ ذہین و فطین تھے۔ انگریز سائنس دانوں نے ٹیپو کی تلوار میں نیانو ٹکنالوجی کا پتہ لگایا ہے۔ ذات، دھرم کی بنیاد پر اس کی مخالفت کرنے میں کوئی مطلب نہیں ہے بلکہ بطور ایک حکمران انہوں نے کیا کچھ ترقی کے لئے قربانیاں دی ہیں اپنے ملک کے لئے کیا کچھ کیا ہے اس کی بنیاد پر اگر تجزیہ کریں گے تو معلوم ہوگا کہ ٹیپو سلطان سے بڑھ کر کسی نے بھی ایسی ترقی نہیں کی ہے۔

مولانا ابوالحسن علی میاں اکیڈمی کے جنرل سکریٹری مولانا محمد الیاس جاکٹی ندوی نے اس موقع پر خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہاکہ صرف سیاسی مقاصد کی خاطر ٹیپو جینتی کی مخالفت کی جارہی ہے ، وہی لوگ جوکل تک ٹیپو کی تعریف میں رطب اللسان تھے آج مخالفت کرتے ہیں تو سب کچھ سمجھ میں آجانا چاہئے۔

انہوں نے کہاکہ ٹیپو جینتی منانے کا سب سے زیادہ حق بھٹکل والوں کا ہے، کیونکہ ٹیپو سلطان کا بھٹکل سے خاندانی تعلق رہاہے۔ مخالفین کی لکھی ہوئی کتابوں سے انہیں بدنام کرنے سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں ہے ، ملک اور دنیا بھر میں ایسے کئی ہندو اور دیگر طبقات کے ماہر ہیں جنہوں نے ٹیپوسلطان کو ایک روادارحکمران ، جنگ آزادی کامجاہد اور بہترین سائنسی ماہر تسلیم کیا ہے۔ہندوستان میں ٹیپو سلطان نے مندروں کی تعمیر کے لئے جتنی دل کھول کر مدد کی ہے اتنی کسی اور نے نہیں کی ہے۔ٹیپو نے ہی ملک میں سب سے پہلے پنچایت نظام شروع کیا ۔ دشمن کی چالوں کو سمجھنا ضروری ہے، دشمن ہندوستان کو سپریم پاور بننے سے روکنے کے لئے نت نئی سازشیں چل رہاہے ، طاقت کے بل پر وہ توڑ نہیں سکتا اسی لئے ہمیں آپس میں لڑا کر کمزور کرنا چاہتاہے ، مگر ہم دشمن کو کہنا چاہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہندو ستان ٹکڑے ہوچکا ہے اب قیامت تک ٹکڑے نہیں ہوگا۔ اس کی رواداری کی سب سے بڑی مثال اس کے محل سے متصل رنگناتھ مندر ہے جو آ ج تک وہاں قائم ہے۔ جب ٹیپو شہید ہوئے تو نعشوں کو جمع کیا گیا تو سب سے ہندو عورتوں کی نعشیں ملیں ، یعنی ہندو خواتین نے ان کے لئے اپنی جانیں قربان کیں۔ دنیا میں ہندوستان کی حیثیت تاج محل سے زیادہ ٹیپو سلطان کی وجہ سے ہے۔مولانا نے کہاکہ مذہبی اور دیندار ہونے سے کوئی اینٹی نیشنل نہیں بن جاتا بلکہ وہ اپنے مذہب پر عمل کرتے ہوئے اس ملک کا سچا وفادار ہوتاہے یہی ہمیں ٹیپو سلطان کی سیرت سے پیغام ملتاہے۔ پروگرام میں مجلس اصلاح وتنظیم کے جنرل سکریٹری محی الطاف کھروری نے بھی اپنے خیالات کااظہار کیا۔ جب کہ بھٹکل بلدیہ صد رمحمد صادق نے صدارتی خطاب کیا۔

تحصیلدار وی این باڈکر نے استقبال کیا تو استاد شری دھر شیٹھ نے نظامت کی۔ ڈائس پر جالی پنچایت کے صدر عبدالرحیم شیخ، بھٹکل بلدیہ کے نائب صدر کے ایم اشفاق، مہابلیشور نائک، پنچایت آفیسر سی ٹی نائک وغیرہ موجود تھے۔ نیو انگلش ہائی اسکول اور سرکاری ہائی اسکول سونارکیری کی طالبات نے قومی ترانہ اور ترانہ کرناٹکا پیش کیا۔ پروگرام میں ٹیپو جینتی کے موقع پر منعقد کئے گئے کنڑا اور اردو زبان کے مضمون نویسی مقابلہ جات میں شرکت کئے طلبا کے درمیان انعامات کی تقسیم کی گئی ۔

ایک نظر اس پر بھی

کاروار:ضلع میں اب تک کل 6امیدوار وں نے پرچہ نامزدگی داخل کی

اترکنڑا ضلع کے مختلف ودھان سبھا حلقوں سے جمعہ کے دن کل 6امیدواروں نے اپنا پرچہ نامزدگی داخل کیا۔ ضلع میں بی جےپی کی طرف سے 1، کانگریس 1اور جے ڈی ایس کی طر ف سے 1امیدوار نے اپنی نامزدگی کا پرچہ داخل کیاہے تو 3آزاد امیدواروں نے انتخاب لڑنے کےلئے پرچہ داخل کیا ہے۔

کاروار: انتخابات کے لئے نامزد عملہ کے لئے 22اپریل کو تربیت گاہ : شرکت لازمی ورنہ کارروائی : ڈی سی

ریاستی ودھان سبھا انتخابات2018 کے پیش نظرپولنگ بوتھ عملے کی نشاندہی کرتے ہوئے انہیں تقررنامہ ارسال کیاگیا ہے۔تقررشدہ افسران اور عملے کے لئے 22اپریل کو متعلقہ تعلقہ جات کےمراکز میں انتخابی تربیت گاہ میں حاضری لازمی قرار دی گئی ہے۔ اس سلسلے میں کوئی بھی عملہ غفلت نہ کرنے کی تاکید ...

بغاوت کی شدت کے دوران بی جے پی نے کمٹہ میں دیا دینکر شٹی کو ٹکٹ ؛ کمٹہ بی جے پی امیدوار کا مسئلہ بن گیا تھا اننت کمار کے پاؤں کی زنجیر

بھارتیہ جنتا پارٹی کے اندراسمبلی ٹکٹ کے مسئلے پر جو اندرونی بغاوت ہے وہ ضلع شمالی کینرا میں اب سڑک پر اترتی دکھائی دے رہی ہے۔ ضلع میں اپنی پسند کے امیدواروں کو ٹکٹ دلانے اور اپنی قیادت کا پرچم لہرانے کا منصوبہ بنائے ہوئے مرکزی وزیر اننت کمار ہیگڈے کے لئے کمٹہ اسمبلی سیٹ کا ...

بھٹکل ودھان سبھا حلقہ سے ایرا درگپا نائک نے آزادامیدوار کےطورپر پرچہ داخل کیا

20اپریل بروز جمعہ کو بھٹکل ودھان سبھا حلقہ سے چوتھنی کے مکین ایر ا درگپا نائک نے آزاد امیدوار کی حیثیت سے پرچہ نامزدگی داخل کئے۔ امیدوار ایرا نائک کی طرف سے اے سی دفتر میں داخل کئے افی ڈیوٹ کے مطابق تجارت سے منسلک ہیں اور ایس ایس ایل سی تک تعلیم حاصل کی ہے۔

بھٹکل: ایل ایس نائک نے لگایا کانگریس پر نظر اندازی کا الزام :پریس کانفرنس کے فوری بعد یوٹرن

گذشتہ کئی سالوں سے ہم لوگ کانگریس کے وفادار سپاہی کی طرف پارٹی استحکام میں جٹے ہوئے ہیں مگر حالیہ دنوں میں ہمیں نظر انداز کرتے ہوئے کام کئے جانے کا تعلقہ پنچایت سابق صدر ایل ایس نائک نے الزام لگایا ہے۔

امیت شاہ کا باربار دورہ ،ریاست نہیں سیاست کیلئے بی جے پی صدر کو کرناٹک کے بارے میں معلومات ہی نہیں : کے جے جارج

بنگلورو ترقیات وزیر کے جے جارج نے کہاکہ بھارتیہ جنتاپارٹی( بی جے پی) کے قومی صدر امیت شاہ باربار کرناٹک کاجودورہ کرنے لگے ہیں وہ ریاست سے محبت اورلگاؤنہیں بلکہ جھوٹی سیاست کرنے کے مقصد سے آرہے ہیں۔

یوپی:باندہ میں آبروریزی کے جرم میں سات سال کی قید

یوپی میں باندہ کی ایک عدالت نے آبروریزی کے جرم میں ایک شخص کو سات برس کی قید اور جرمانے کی سزا سنائی ہے۔استغاثہ کے مطابق بدوسہ علاقہ کے ایک گاؤں کی رہنے والی خاتون 24نومبر 2015کو اپنے گھر میں سو رہی تھی۔

کیرالہ:کٹھوعہ ریپ کیس پر کارٹون بنانے والی درگا ملاٹھی کے گھر پر ہوئی پتھر بازی

کیرالہ کے پلکڑ کی رہائشی آرٹسٹ درگا ملاٹھی کے گھر میں کچھ نامعلوم افراد کے پتھر پھینکنے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔رپورٹس کے مطابق درگا نے کٹھوا ریپ کیس معاملے میں دو قابل اعتراض پینٹنگ بنا کر ہندو دیوی دیوتاؤں کو اس واقعہ کے لئے ذمہ دار بتایا تھا۔اس سے پہلے فیس بک پر بھی درگا کو ...

بھٹکل: ایل ایس نائک نے لگایا کانگریس پر نظر اندازی کا الزام :پریس کانفرنس کے فوری بعد یوٹرن

گذشتہ کئی سالوں سے ہم لوگ کانگریس کے وفادار سپاہی کی طرف پارٹی استحکام میں جٹے ہوئے ہیں مگر حالیہ دنوں میں ہمیں نظر انداز کرتے ہوئے کام کئے جانے کا تعلقہ پنچایت سابق صدر ایل ایس نائک نے الزام لگایا ہے۔