آئندہ لوک سبھا انتخابات: جے ڈی یو اور شیوسینا کے لیے چیلنج؛ دونوں کے سامنے اہم سوال، بی جے پی کا سامنا کریں یا خودسپردگی؟

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 2nd June 2018, 11:25 PM | ملکی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

نئی دہلی،02؍جون (ایس او نیوز/ آئی این ایس انڈیا ) شیوسیناسربراہ ادھو ٹھاکرے اور جے ڈی یو چیف نتیش کمار دونوں اس وقت این ڈی اے سے غیر مطمئن نظر آرہے ہیں۔ جس طرح سے اس باربی جے پی کا اثر ورسوخ بڑھا ہے، اس سے دونوں جماعتیں خود کو غیر محفوظ سمجھ رہی ہیں۔خاص بات یہ ہے کہ ان میں سے ایک بی جے پی کے ساتھ اقتدار میں حصہ داری نبھا رہی ہے اور دوسری خودبی جے پی کی حمایت سے حکومت چلا رہی ہے ۔ لیکن دونوں اس بات کو لے کر کشمکش میں ہیں کہ اگلے چناؤ تک کیا صورت حال ہو گی۔ کیا وہ بی جے پی کے ساتھ رہ پائیں گے یا نہیں۔

کانگریس اور این سی پی دونوں نسبتاشیوسینا کے ساتھ مطمئن ہیں کیونکہ شیوسینا کا ہندوتو بی جے پی کے ایجنڈے کو روکنے کے لیے کافی اہم ہے۔شیوسینا نے تو جیسے بی جے پی کے خلاف جنگ چھیڑ دی ہے اور جے ڈی یو بھی دوبارہ بی جے پی سے جڑنے کے بعد بہت زیادہ اطمینان محسوس نہیں کر رہی ہے۔لیکن اب حالات کافی بدل چکے ہیں۔شیوسینا جو کہ بالا صاحب ٹھاکرے کے وقت میں مہاراشٹر میں کبھی بڑے بھائی کا کردار ادا کرتی تھی، وہی اب بی جے پی کی جونیئر یعنی کہ معاون کے طور پر کام کر رہی ہے۔

2014 میں جب بی جے پی نے شیوسینا کے ساتھ اتحاد کو توڑ دیا تھا، تب شیوسینا کو مجبوراََاکیلے اسمبلی الیکشن لڑنا پڑا تھا۔دوسری طرف، 2015 کے اسمبلی انتخابات میں نتیش کمار نے بی جے پی کوشکست دینے کے لیے لالو پرساد یادو کے ساتھ ہاتھ ملا لیا تھا۔ لیکن مسلسل اختلافات کے باوجود شیوسینا اور جے ڈی یو دونوں پارٹیوں کے پاس اب ایک ہی راستہ ہے کہ وہ یا تو بی جے پی کے شاگرد کی طرح کام کریں اور یا تو بی جے پی کا مقابلہ کریں۔لیکن جس طرح سے پنجاب اسمبلی انتخابات کے دوران بی جے پی اور کانگریس دونوں عام آدمی پارٹی کو اپنا دشمن مان رہی تھیں اسی طرح سے یہاں مہاراشٹر میں بھی این سی پی، کانگریس، ایم این ایس اور شیو سینا بی جے پی سے خطرہ محسوس کر رہی ہیں اس لئے یہ پارٹیاں ایک ساتھ ہاتھ ملا سکتی ہیں۔

کانگریس اور این سی پی دونوں نسبتا شیوسینا کے ساتھ مطمئن ہیں کیونکہ شیوسینا کا ہندوتو بی جے پی کے ایجنڈے کو روکنے کے لئے کافی اہم ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایم این ایس چیف راج ٹھاکرے پہلے ہی 'مودی مکت بھارت' کا نعرہ دے چکے ہیں۔تو آخر اینٹی بی جے پی فرنٹ سے مہاراشٹر میں کس کو سب سے زیادہ فائدہ ہو گا۔ بی جے پی بھی مہاراشٹر سے آنے والے اس خطرہ کو بھانپ رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق شیوسینا کی ترجیح ہو گی کہ وہ بی جے پی کو کسی بھی طریقے سے روک سکے۔

پالگھر لوک سبھا ضمنی انتخاب کے دوران ادھو ٹھاکرے کا یہ کہنا کہ تمام جماعتوں کو ایک ساتھ ہو جانا چاہئے، ظاہر کرتا ہے کہ شیوسینا بی جے پی کو روکنے کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتی ہے۔لیکن نتیش کے پاس متبادل کم ہیں کیونکہ انہوں نے کانگریس کے ساتھ اپنا رشتہ ختم کر لیا ہے اور جس طرح سے انہوں نے لالو سے اپنا راستہ الگ کر لیا ہے، اس کے بعد ان سے جڑنا تھوڑا مشکل ہے۔ نتیش کے ساتھ ایک اور مسئلہ ہے کہ وہ کبھی اپنے دم پر حکومت نہیں بنا سکے۔ بی جے پی بھی یہ محسوس کررہی ہے کہ اگر اسے بہار میں اپنی پہنچ بڑھانی ہے تو اسے جے ڈی یو کو کمزور کرنا ہو گا یا اپنے بعد اسے دوسرے مقام پر لانا ہو گا۔

ایک نظر اس پر بھی

حلال آمدنی کے نام پر سرمایہ کاروں کو ٹھگنے کا الزام۔ہیرا گولڈ کی چیف نوہیرا شیخ حیدرآباد میں گرفتار۔ سرمایہ کاروں میں تشویش کی لہر

کئی برسوں سے ’ہیرا گولڈ‘ کے نام سے کمپنی چلانے اور حلال آمدنی کا وعدہ کرکے ہزاروں افراد سے سرمایہ کاری کروانے والی عالمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ کو حیدرآباد پولیس نے سرمایہ کاروں کو ٹھگنے الزام میں گرفتار کرلیا ہے۔

دگ وجے سنگھ کی تقریر سے ووٹ کٹتے ہیں،وائرل ویڈیو میں اظہارخیال

مدھیہ پردیش میں اسمبلی انتخابات سے قبل سابق وزیر اعلیٰ اور کانگریس جنرل سکریٹری دگ وجے سنگھ کاایک ویڈیو وائرل ہو رہا ہے ، جس میں وہ مبینہ طور پر یہ کہتے ہوئے سنائی دے رہے ہیں کہ ان کی تقریر کرنے سے ووٹ کٹتے ہیں۔

مہاراشٹرا: محکمہ تعلیمات کی کتاب میں حضرت محمدؐ کی خیا لی تصویر سے ہنگامہ

حکومت مہاراشٹرا کے محکمہ تعلیمات کی جانب سے ’سر وشکشا ابھیان‘ کے بک لیٹ ’ آدرش گوشٹھی‘ ( بمعنی مثالی کہانیاں ) میں حضر ت محمدؐ کی خیا لی تصویر شائع کیے جانے پر مسلمانوں کے جذبات شدید مجروح ہوئے ہیں۔

ہوٹل میں سابق بی ایس پی رہنما کے بیٹے کی غنڈہ گردی سے پارٹی نے جھاڑا پلہ

دہلی کے پانچ ستارہ ہوٹل حیات میں ایک شخص نے سرعام غنڈہ گردی کی۔پستول لے کر لڑکی اور اس کے دوست کودھمکاتے ہوئے اس کا ویڈیو وائرل ہوا۔ملزم یوپی کے امبیڈکر نگر سے بی ایس پی کے سابق ممبر پارلیمنٹ راکیش پانڈے کابیٹاہے۔

ملک کے موجودہ حالات اور دینی سرحدوں کی حفاظت ....... بقلم : محمد حارث اکرمی ندوی

   ملک کے موجودہ حالات ملت اسلامیہ ھندیہ کےلیے کچھ نئے حالات نہیں ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ صبر آزما حالات اس ملک اور خاص کر ملت اسلامیہ ھندیہ پر آچکے ہیں . افسوس اس بات پر ہے اتنے سنگین حالات کے باوجود ہم کچھ سبق حاصل نہیں کر رہے ہیں یہ سوچنے کی بات ہے. آج ہمارے سامنے اسلام کی بقا ...

پارلیمانی انتخابات سے قبل مسلم سیاسی جماعتوں کا وجود؛ کیا ان جماعتوں سے مسلمانوں کا بھلا ہوگا ؟

لوک سبھا انتخابات یا اسمبلی انتخابات قریب آتے ہی مسلم سیاسی پارٹیاں منظرعام  پرآجاتی ہیں، لیکن انتخابات کےعین وقت پروہ منظرعام سےغائب ہوجاتی ہیں یا پھران کا اپنا سیاسی مطلب حل ہوجاتا ہے۔ اورجو پارٹیاں الیکشن میں حصہ لیتی ہیں ایک دو پارٹیوں کو چھوڑکرکوئی بھی اپنے وجود کو ...

بھٹکل میں سواریوں کی  من چاہی پارکنگ پرمحکمہ پولس نے لگایا روک؛ سواریوں کو کیا جائے گا لاک؛ قانون کی خلاف ورزی پر جرمانہ لازمی

اترکنڑا ضلع میں بھٹکل جتنی تیز رفتاری سے ترقی کی طرف گامزن ہے اس کے ساتھ ساتھ کئی مسائل بھی جنم لے رہے ہیں، ان میں ایک طرف گنجان  ٹرافک  کا مسئلہ بڑھتا ہی جارہا ہے تو  دوسری طرف پارکنگ کی کہانی الگ ہے۔ اس دوران محکمہ پولس نے ٹرافک نظام میں بہتری لانے کے لئے  بیک وقت کئی محاذوں ...

غیر اعلان شدہ ایمرجنسی کا کالا سایہ .... ایڈیٹوریل :وارتا بھارتی ........... ترجمہ: ڈاکٹر محمد حنیف شباب

ہٹلرکے زمانے میں جرمنی کے جو دن تھے وہ بھارت میں لوٹ آئے ہیں۔ انسانی حقوق کے لئے جد وجہد کرنے والے، صحافیوں، شاعروں ادیبوں اور وکیلوں پر فاشسٹ حکومت کی ترچھی نظر پڑ گئی ہے۔ان لوگوں نے کسی کو بھی قتل نہیں کیا ہے۔کسی کی بھی جائداد نہیں لوٹی ہے۔ گائے کاگوشت کھانے کا الزام لگاکر بے ...

اسمبلی الیکشن میں فائدہ اٹھانے کے بعد کیا بی جے پی نے’ پریش میستا‘ کو بھلا دیا؟

اسمبلی الیکشن کے موقع پر ریاست کے ساحلی علاقوں میں بہت ہی زیادہ فرقہ وارانہ تناؤ اور خوف وہراس کا سبب بننے والی پریش میستا کی مشکوک موت کو جسے سنگھ پریوار قتل قرار دے رہا تھا،پورے ۹ مہینے گزر گئے۔ مگرسی بی آئی کو تحقیقات سونپنے کے بعد بھی اب تک اس معاملے کے اصل ملزمین کا پتہ چل ...

گوگل رازداری سے دیکھ رہا ہے آپ کا مستقبل؛ گوگل صرف آپ کا لوکیشن ہی نہیں آپ کے ڈیٹا سےآپ کے مستقبل کا بھی اندازہ لگاتا ہے

ان دنوں، یورپ کے  ایک ملک میں اجتماعی  عصمت دری کی وارداتیں بڑھ گئی تھیں. حکومت فکر مند تھی. حکومت نے ایسے لوگوں کی جانکاری  Google سے مانگی  جو لگاتار اجتماعی  عصمت دری سے متعلق مواد تلاش کررہے تھے. دراصل، حکومت اس طرح ایسے لوگوں کی پہچان  کرنے کی کوشش کر رہی تھی. ایسا اصل ...