انتشار اور لاقانونیت پرقابو پانا ہے تو امن پسندوں کو زبان کھولنی ہوگی : بھٹکل میں منعقدہ قومی یک جہتی اجلاس میں شری رام ریڈی کا خطاب

Source: S.O. News Service | By Abu Aisha | Published on 11th October 2017, 10:26 PM | ساحلی خبریں | ریاستی خبریں |

بھٹکل:11 اکتوبر (ایس اؤنیوز) بنگلور میں ریاست کے روشن خیال مفکرین ، ادباء، سوامی جی سمیت تمام متحد ہوکر عوام کو بھائی چارگی اور یک جہتی کا پیغام دے رہے تھے کہ اُس کے دوگھنٹوں کے اندر ہی ملک کی مشہور صحافی گوری لنکیش کا قتل کردیا  گیا۔ آج ملک میں  بھائی چارگی کا پیغام دینے والوں پر حملے کئے جارہے ہیں اور  بیماروں کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں پر حملہ کرنے والوں کو وزارت سونپی جارہی ہے۔ ضلع اُترکنڑا کے جس ایم پی کو وزیر بنایا گیا ہے انہوں نے حال ہی میں بیان دیا ہے کہ ملک میں ہندئوں کا قتل کیا جارہا ہے، میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ صرف ہندوئوں کے وزیر ہیں یا اس ملک کے وزیر ہیں ؟ میں یہ بھی پوچھنا چاہتا ہوں کہ   ہندو دھرم سے ہی تعلق رکھنے والے مہیش پجاری، ہریش پجاری، ونایک بالیگا کا قتل کس نے اور کیوں کیا ؟ ان سب  باتوں کا اظہار  سابق رکن اسمبلی  اور سی پی آئی (ایم ) لیڈر شری رام ریڈی نے کیا۔ وہ یہاں بدھ کی صبح اربن بینک ہال میں منعقدہ سوہاردا کرناٹکا سماویش میں شرکت کرتے ہوئے خطاب کررہے تھے۔ شری رام ریڈی نے اپنے خطاب میں  آر ایس ایس کا مفہوم سمجھاتے ہوئے کہا کہ یہ   راشٹریہ  سروناش سنگھا ہے جو خود قتل کرتے ہیں اور   الزام دوسروں پر تھوپتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ انتشار اور لاقانونیت پرقابو پانا ہے تو امن پسندوں کو زبان کھولنی ہوگی، آواز بلند کرنی ہوگی اور ایسی تنظیموں اور اداروں کے خلاف کھڑا ہونا ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ سال 2014کے لوک سبھا انتخابات کے بعد عوام کے بنیادی حقوق کو چھین لینے کی کوششیں زوروں پر  جاری ہیں، وزیراعظم نریندر مودی کی تنقید کرنےپر فلمی اداکار پرکاش رائی کے خلاف سیاہ پٹی کی تشہیر بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ انہوں نے بھارت کے رواداری کی مثال پیش کرتے ہوئے کہاکہ ہمارا ملک شنکراچاریہ ، مدھواچاریہ کو ہی نہیں ، چارواک کو بھی بنیاد فراہم کیا ہے۔ سوال کرنے والے عوام کا منہ بند کرنا ہٹلر کے فاشسزم کی پالیسی ہے، مختلف تہذیبوں ، الگ الگ زبانوں ، کئی ایک ذاتوں اور دھرموں والے بھارت کو آج خطرہ درپیش ہوگیاہے۔ آج داڑھی رکھنے والوں کو دہشت گرد کہا جارہاہے، انہوں نے متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ  بھارت کسی ایک کی جائیداد نہیں ہے اس بات کو وہ لوگ  جتنا جلد سمجھ لیں اُن کے لئے  بہترہوگا، انہوں نے مزید کہا کہ دیش بھگتی کا مطلب ملک میں موجود پہاڑوں ،چٹانوں کی پوجا کرنا نہیں ہے، فوجیوں کی تعریف کی حد تک بھی نہیں ہے ، دیش بھگتی کا مطلب دیش کے شہریوں کی فکر کرنا ہے۔ بھارت میں قومیت کا لفظ انگریزوں کے زمانےکا ہے ، آزادی کی جدوجہد میں شریک ہوئے بغیر، انگریزوں کے ساتھ شامل ہوئے لوگ آج ہمیں دیش بھگتی کا سبق سکھانا شروع کیاہے، ملک میں غیر مساویانہ برتاؤ میں اضافہ ہورہا ہے۔

شری رام ریڈی نے بتایا کہ خوف سے نجات والے کرناٹکا کی تعمیر کے لئےیکساں ذہنیت والے اداروں اورتنظیموں نے فیصلہ کیاہے کہ یک جہتی کی بنیاد پرریاست گیر کرناٹکا  میں انسانی زنجیر باندھی جائے گی جس کے ذریعے امن، بھائی چارگی ، مساوات، رواداری کے لئے ایک نئے کرناٹکا کی تعمیر کا راستہ کھوجا جائے گا۔ انہوں نے بتایاکہ 30اکتوبر کو بوس ناڈا کے کلیان سے چامراج نگر تک انسانی زنجیر تعمیر کرتے ہوئے ایک نئے یک جہتی والے کرناٹکا کو بنیاد فراہم کی جائے گی۔

شرالی جنتا ودیا لیہ کے پرنسپال اے بی رام رتھ نے خطاب کرتےہوئے کہاکہ ملک اور ریاست میں انتشار، لاقانونیت اور ہنگامہ خیزی پیداکرنے یہاں ایک گروہ بہت سرگرم ہے ، انہوں نے  اپنے بچوں کو ایسے لوگوں سے دوررکھنے کی صلاح دی۔ صحافی ایم آرمانوی نے  گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ملک کو آگ میں جھونکنےکی کوششیں زوروں پر ہیں، ہمیں آگ کو ٹھنڈا کرکے امن کو قائم کرنے کاکام کرناہے ، سوشیل میڈیاپر فرقہ پرست متحرک رہتےہوئے ملک میں انتشار پیدا کرنا چاہتے ہیں انہوں نے زور دیا کہہمیں امن کے قیام کا مقصد لے کر جواب دینا چاہئے۔

کرناٹکا پرانت رعیت سنگھ کے ضلعی صدر شانتارام نایک نے پروگرام کی صدارت کی۔ جے ڈی ایس لیڈر عنایت اللہ شاہ بندری، جماعت اسلامی ہند کے ضلعی ناظم محمد طلحہ سدی باپا نے بھی موقع کی مناسبت سے خطاب کیا۔ سی پی آئی (ایم ) کے ضلع سکریٹری یمونا گاؤنکر نے افتتاحی کلمات پیش کرتے ہوئے نظامت کی۔ انجمن ڈگری کالج بھٹکل کے شعبہ کنڑا کے صدر پروفیسرآر ایس نایک نے استقبال کیا تو صحافی محمد رضا مانوی نے آخر میں  شکریہ اداکیا۔

ایک نظر اس پر بھی

بی جے پی اور سنگھ پریوار کے احتجاج اور تشدد کے چلتے بالاخر کرناٹک سرکار کا ہوناور کے پریش میستا کی موت کا معاملہ سی بی آئی کے حوالے کرنے کا اعلان

ریاست میں کافی بحث کا موضوع بنے ہوناور کے پریش میستا کی موت کی گتھی سلجھانے کے لئے بالاخر اب ریاستی حکومت نے   اس  معاملے کو سی بی آئی کے ذریعہ تحقیق کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اخبارنویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرداخلہ رام لنگا ریڈی  نے کہا کہ سچائی کو منظر عام پر لانے کے لئے ...

ضلع اُتر کنڑا میں وہاٹس ایپ پر اشتعال انگیزپیغامات پوسٹ کرنے پر 28 معاملات درج

ہوناور میں ایک نوجوان کی ہلاکت کے بعدبی جے پی اور سنگھ پریوار کی حمایت میں  اور بالخصوص مسلمانوں کے خلاف سوشیل میڈیا پر اشتعال انگیز پیغامات روانہ کئے جارہے تھے، ساتھ ساتھ سوشیل میڈیا کے ذریعے مختلف علاقوں میں بند منائے جانے اور احتجاج کے پیغامات پھیلائے جارہے تھے، جس پر ...

ہوناور پریش میستا کی موت کا معاملہ؛ وہاٹس ایپ پراشتعال انگیز افواہیں پھیلانے کے الزام میں ہائی اسکول ٹیچر گرفتار

ہوناور فساد کے پس منظر میں سوشیل میڈیا اور خاص کر وہاٹس ایپ پر افواہیں پھیلا کر ماحول خراب کرنے کے الزام میں کاروار کے ایک ہائی اسکول ٹیچر کو پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔

پریش میستا کے پوسٹ مارٹم کی فائنل رپورٹ ابھی نہیں ملی ۔ دیشپانڈے

ہوناور میں فرقہ وارانہ فسادات کا سلسلہ شروع ہونے کے بعد پریش میستا نامی نوجوان کی جو لاش دستیاب ہوئی تھی اور اس سے پورے ضلع میں نفرت کی آگ بھڑکائی گئی تھی، اس تعلق سے ضلع انچارج وزیر دیشپانڈے نے کہا ہے کہ پریش کے پوسٹ مارٹم کی قطعی رپورٹ ابھی نہیں آئی ہے۔

پریش میستا قتل معاملہ کی این آئی اے سے تحقیقات کا مطالبہ، منصفانہ جانچ نہیں ہوئی تو ساحلی علاقہ جل اٹھے گا: شو بھا کرند لاجے کا انتباہ

بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی ) کی ریاستی جنرل سکریٹری ورکن پارلیمان شو بھا کرند لاجے نے خبردار کیا ہے کہ اگر ہوناور کے پریش میستا قتل کی تحقیقات ریاستی حکومت مناسب طریقہ سے نہیں کرے گی تو ساحلی علاقہ جل اٹھے گا۔

ہوناور فرقہ وارانہ فسادات اورپریش میستا کی موت کا معاملہ ؛ فورنسک رپورٹ سے بی جے پی اور سنگھ پریوار کو زبردست جھٹکا

ہوناور میں معمولی سڑک حادثے سے شروع ہونے والا جھگڑا باقاعدہ فرقہ وارانہ فساد میں بدلنے اور اطراف کے علاقوں تک تشدد پھیل جانے کے پس منظر میں پریش میستا نامی نوجوان کی ہلاکت کو مسلم دہشت گردی سے جوڑنے کی جو سازش اور کوشش بی جے پی اور سنگھ پریوار کے لیڈروں کی طرف سے کی گئی تھی، اسے ...

خواتین کو اقتصادی اور سیاسی شعبوں میں آگے لانا ضروری۔ نوہیرا مہیلا امپاورمنٹ پارٹی کی کرناٹک یونٹ کے افتتاح کے موقع پر پارٹی صدر کا خطاب

آل انڈیا مہیلا امپاورمنٹ پارٹی (ایم ای پی) کی صدر وہیرا گروپ کی چیف ایکزی کیٹیو افسر ڈاکٹر نوہیرا شیخ نے کہاکہ خواتین میں خود اعتمادی پیدا کرتے ہوئے انہیں سیاسی،معاشی اور اقتصادی شعبوں میں مضبوط اور مستحکم بنانے کی اشد ضرورت ہے۔