کاروار 20 / دسمبر (ایس او نیوز) اتر کنڑا ڈپٹی کمشنر لکشمی پریا نے اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ مرڈیشور ساحل کی جانب سیاحوں کے داخلے پر جو پابندی لگی ہے اسے چند دنوں میں ہٹا دیا جائے گا اور ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لئے وہاں پر اضافی لائف گارڈز کا تقرر کیا جائے گا ۔
انہوں نے بتایا کہ ٹورازم سوسائٹی کی جانب سے مرڈیشور میں 6 لائف گارڈز تعینات کیے گئے ہیں ۔ اس کے علاوہ اسکوبا ڈائیونگ ٹینڈر سے 6 لائف گارڈز تعینات کیے گئے ہیں ۔ لیکن چھٹی کے دنوں میں ساحل پر ہزاروں کی تعداد میں سیاحوں کی آمد کے موقع پر 12 لائف گارڈز اور پولیس کے ساتھ مل کر انتظام سنبھالنا ممکن نہیں ہوتا ۔ اس ضمن میں اقدامات کے لئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کی قیادت میں ایک نئی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے ۔
اس کمیٹی میں محکمہ پولیس، ریوینیو، ٹورازم، فاریسٹ اور کوسٹل سیکیوریٹی پولیس کے نمائندے شامل ہیں ۔ یہ کمیٹی سیاحوں کے تحفظ کے لئے درکار اقدامات کے سلسلے میں سفارشات پر مبنی اپنی رپورٹ پیش کرے گی ۔ اسکوبا ڈائیونگ سمیت دیگر ٹینڈرس کے ذریعے جو آمدنی ہوتی ہے اس کا استعمال کرتے ہوئے اضافی لائف گارڈز تعینات کیے جائیں گے ۔
ڈی سی نے کہا کہ نئے لائف گارڈز کی تعینانی میں ابھی دو تین مہینے کا عرصہ لگے گا ۔ تب ساحل کو سیاحوں کے لئے بند رکھنا درست نہیں ہے ۔ اس لئے ہم نے محکمہ ماہی گیری، لائف گارڈز اور مقامی ماہی گیروں سے کہا ہے کہ وہ سوئمنگ ژون اور نان سوئمنگ ژون علاقے کی نشاندہی کریں ۔ تقریباً ایک سو سے ایک سو پچاس میٹر تک کے محفوظ علاقے کی نشاندہی کرتے ہوئے وہاں پر سیاحوں کو تیرنے کا موقع فراہم کیا جائے گا ۔ ایک دو دن کے اندر محفوظ علاقے کی نشاندہی کر لی جائے گی ۔ ایک ہفتے کے اندر سیاحوں کو ساحل پر جانے اور لطف اندوز ہونے موقع فراہم کیا جائے گا ۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ انتظام صرف مرڈیشور ہی میں نہیں بلکہ دوسرے ساحلی مراکز پر لاگو کرتے ہوئے سیاحوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا ۔
ڈپٹی کمشنر لکشمی پریا نے بھٹکل میں اسکولی پکنگ پر آئے ہوئے ایک طالب علم کی کنویں میں گرنے سے ہوئی موت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس حادثے کو ذہن میں رکھتے ہوئے ضلع میں جہاں کہیں بھی بغیر کمپاونڈ کے کھلے کنویں ہیں ان سب کو ڈھانپنے کی کارروائی کی جا رہی ہے ۔ سرکاری طور پر کھودے گئے کنویں جہاں کہیں کھلے پڑے تھے تو انہیں ڈھانپنے کا کام کیا گیا ہے ۔ فی الحال ضلع میں کہیں بھی کوئی سرکاری کنواں کھلا نہیں پڑا ہے ۔ البتہ بھٹکل میں جو حادثہ ہوا وہ نجی ملکیت والی زمین پر ہے ۔ اس لئے جس کسی کی نجی زمین پر کھلے موجود ہیں تو انہیں ان کنووں کو ڈھانپنے کی طرف فوری توجہ دلائی جا رہی ہے ۔