سعودی عرب: ایک لاکھ کیلے کے درختوں پر مشتمل زرعی فارم کی مالکن- زلیخہ یحیی الکعبی

Source: S.O. News Service | Published on 21st February 2021, 11:12 PM | خلیجی خبریں |

ریاض،21؍فروری (ایس او نیوز؍ایجنسی) سعودی عرب میں کیلوں کے سب سے بڑے باغ کی مالکن ’زلیخہ یحیی الکعبی‘ نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ ’’میں نے کھیتی باڑی کے شعبے میں زراعت کے مختلف طریقے اپنائے ہیں۔ ان میں سب سے اہم طریقہ ’’آبی زراعت‘‘ کا تھا۔ آبی کاشت پودے اگانے کا ایک ایسا طریقہ ہے جس میں اس کی جڑیں زمین کے بجائے کیمیائی محلولات میں ہوتی ہیں۔۔ زلیخہ سے آبی کاشت سے متعلق اپنے بیرون ملک سفر کے دوران سنا تو انہیں معلوم ہوا کہ اس طریقہ کاشت کے ذریعے بین الاقوامی طور پر ایسے تجربات ہو چکے ہیں جن سے کسانوں کو بے پناہ اقتصادی فوائد ملے۔

انھوں نے بتایا کہ ’’جازان ریجن کسی بھی فصل کی کاشت کے لئے آئیڈیل علاقہ ہے جہاں سے آپ کو بہترین فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔ مجھے لگا کہ اس ریجن کا موسم کیلوں کی کاشت کے لیے انتہائی مناسب ہے کیونکہ جن ملکوں میں کیلوں کی کامیاب کاشت کا تجربہ ہوا وہ بھی جازان سے ملتا جلتا موسم رکھتے ہیں۔ میں نے علاقے میں پہلی مرتبہ ’’سرخ کیلے‘‘ کی کاشت کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔‘‘

منفرد تجربے سے شہرت پانے والی زلیخہ نے بتایا کہ انھوں نے اس راہ میں آنے والی تمام رکاوٹوں کو کامیابی سے پار کیا۔ درپیش مسائل میں سب سے بڑا مسئلہ فارم پر کام کرنے والے افراد اور انہیں دی جانے والی مہنگی اجرت تھی۔ میرے یہاں تمام سعودی شہری ہی کام کرتے ہیں۔ پہلے پہل مجھے تیز ہواؤں سے کیلوں کے پودے بچانے کے لیے تگ ودو کرنا پڑی۔ مہنگی کھاد اور کیڑے مار اداویات کے حصول پر میرا بڑا سرمایہ ختم ہو گیا، لیکن بعد میں میری کاشت کو استحکام نصیب ہوا۔

زلیخہ نے منفرد طریقہ زراعت کی راہ میں درپیش مسائل کا احاطہ کرتے ہوئے بتایا کہ’’پہلے میرے بچے، شوہر، ملازم اور میں مل کر خود پودے لگاتے رہے۔ مجھے اس کے لیے گھر کی چیزیں بھی بیچنا پڑیں۔ میں نے لوگوں سے ایڈوانس ادھار لیا پھر کہیں جا کر اس منصوبے کی تکمیل ہوئی۔ ان دنوں میں اس منصوبے کو وسعت دینے کے لیے کام کر رہی ہوں۔ توسیعی منصوبے میں پیکنگ اور ایکسپورٹ کا ایک یونٹ لگانا چاہتی ہوں تاکہ اپنا مال جدہ، ریاض سمیت ملک کے مشرقی علاقوں تک فروخت کر سکوں۔‘‘

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ زلیخہ آگے چل کر اپنے فارم ہاؤس کو سیاحتی مرکز بنانا چاہتی ہیں جہاں وہ آگاہی مرکز چلائیں اور وہیں جازان میں پیدا ہونے والی اجناس کی پیکنگ بھی کی جا سکے۔ وہ فارم ہاؤس پر کافی، چاول اور کاجو کی کامیاب کاشت کا بھی تجربہ کرنا چاہتی ہیں۔ ان اشیاء کو سستے داموں سیاحوں اور سرمایہ کاروں کو فروخت کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ نیز وہ آنے والوں کا جازان میں سرمایہ کاری کے مواقع سے بھی متعارف کرانا چاہتی ہیں۔

وزارت ماحول، آبپاشی اور زراعت نے الکعبی کے تجربہ کاشت کی اپنے ایک ٹوئٹ میں تعریف کی ہے جس میں ان کا یہ عزم بھی نقل کیا ہے کہ وہ جنوبی امریکا کے ملک ایکواڈور کے ساتھ مقابلہ کرنا چاہتی ہیں۔ یاد رہے کہ ایکواڈور دنیا میں کیلوں کی کاشت کے حوالے سے مشہور ہے۔ فی الوقت الکعبی کے فارم ہاؤس میں ’سرخ کیلے‘ سمیت 20 ٹن کیلا پیدا ہوتا ہے۔ سرخ کیلا انتہائی نادر ہوتا ہے۔ اس کا ذائقہ بیری اور کیلے جیسا ہوتا ہے اور اس کا گودا انتہائی گاڑھا ہوتا ہے جس میں پوٹاشیم اور وٹامن سی بڑی مقدار میں پایا جاتا ہے۔ زلیخہ کے فارم میں اس وقت ایک لاکھ کیلوں کے پودے موجود ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل مسلم اسوسی ایشن ریاض کے لئے عہدیداران کا انتخاب؛ عمار قاضیا صدر اور ذُھیب پیشمام جنرل سکریٹری منتخب

بھٹکل مسلم اسوسی ایشن ریاض (سعودی عربیہ )  کے  لئے  عمار قاضیا صدر اور ذُھیب پیشمام جنرل سکریٹری  کے عہدہ پر منتخب ہوگئے، جبکہ  عقبہ لنکا نائب صدر، ارشاد احمد شیخ  نائب سکریٹری، سید فہد لنکا محاسب و خازن اور  نصیف ائیکری  کو جماعت کے  ترجمان کے طور پر منتخب کیا گیا۔ عہدیداران ...

محفوظ عمرہ ماڈل کے نفاذ کے بعد 1 کروڑ افراد عمرہ ادا کر چکے ہیں : وزارت حج وعمرہ

سعودی وزارت حج و عمرہ کے اعلان کے مطابق محفوظ عمرہ ماڈل کے نفاذ اور عمرہ، نماز اور زیارت کی بتدریج واپسی کے بعد سے اب تک 1 کروڑ افراد کے لیے عمرے کی ادائیگی کو ممکن بنایا گیا۔ سال 1443 ہجری کے عمرہ سیزن کے آغاز کے ساتھ ہی مختلف ممالک کے لیے جاری عمرہ ویزوں کی تعداد 12 ہزار سے تجاوز کر ...

بھٹکل کمیونٹی جدہ کا سالانہ اجلاس؛ پروگرام میں "مرحوم زاہد رکن الدین ، ایک فرد ایک انجمن " کتاب کا بھی اجراء

بھٹکل مسلم کمیونٹی جدہ کا سالانہ اجلاس جمعرات مورخہ  26 اگست کو  جدہ کے گرین لینڈ  ہوٹل میں منعقد ہوا جس میں  جدہ جماعت سمیت بھٹکل مسلم خلیج کونسل کے سابق صدر مرحوم  سی اے زاہد رکن الدین صاحب کے  تعلق سے موصولہ تعزیتی قرار دادوں  اور تعزیتی خطوط پر مشتمل ایک کتاب "مرحوم زاہد ...