نریندرمودی حکومت کے 100 دن: ڈوب گئے سرمایہ کاروں کے 12.5 لاکھ کروڑ روپے

Source: S.O. News Service | Published on 10th September 2019, 10:03 PM | ملکی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

نئی دہلی،10ستمبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) 30 مئی، 2019 کو وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کا دوسرا دورشروع ہونے کے بعد پہلے 100 دن کے اندرسرمایہ کار 12.5 لاکھ کروڑ روپے گنوا چکے ہیں۔پیر کو بازار بند ہونے کے وقت بامبے اسٹاک ایکسچینج (بی ایس ای) میں لسٹیڈ کمپنیوں کی مارکیٹ سرمایہ یا ان کی بازار قیمت 1,41,15,316.39کروڑ روپے تھی، جبکہ مودی حکومت کے اقتدار سنبھالنے سے ایک دن پہلے یہ بازاری قیمت 1,53,62,936.40کروڑ روپے تھا۔30 مئی سے اب تک بی ایس ای کا سینسیکس 5.96 فیصد، یا 2,357پوائنٹس لڑھک چکا ہے، جبکہ نیشنل اسٹاک ایکسچینج کے نفٹی 50 میں 30 مئی سے اب تک 7.23 فیصد، یا 858 پوائنٹس کی کمی درج کی گئی ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق شیئربازاروں میں کمی کی وجوہات میں اقتصادی ترقی کی سست رفتار کے علاوہ غیر ملکی فنڈز کا ملک سے باہر جانا اور کارپوریٹ کی کم آمدنی بھی شامل ہے۔ بھارتی بازاروں میں غیر ملکی سرمایہ کار بکوال ہو گئے ہیں۔بکوالی کا دباؤ اس وقت بڑھا، جب وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے جولائی میں پیش کئے گئے این ڈی اے سرکار کی دوسری مدت کے پہلے بجٹ میں غیر ملکی سرمایہ کاروں پر بھی سپر رچ ٹیکس نافذ کر دیاحالانکہ اس ٹیکس کو تقریبا ایک ماہ بعد واپس لے لیا گیا تھا۔نیشنل سکیورٹیز ڈیپازیٹری لمیٹڈ (این ایس ڈی ایل) کے ذریعہ جمع کئے گئے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کار (ایف پی آئی) حکومت بننے کے بعد سے اب تک 28,260.50کروڑ روپے کے شیئرفروخت کرچکے ہیں۔آئی ڈی بی آئی کیپٹل میں ریسرچ سربراہ اے پربھاکر نے بتایاکہ بازاروں میں کمی کی شروعات وزیر اعظم نریندر مودی کے دوسرا دور شروع ہونے سے کافی پہلے ہی ہو گیا تھا۔فروری، 2018 کے بجٹ میں طویل مدتی کیپٹل گینس ٹیکس اور ڈیوڈنٹ ڈسٹریبوشن ٹیکس نافذکئے جانے کے بعد ہی شیئر بازار میں کمی شروع ہو گئی تھی اور بنیادی ڈھانچے کے بحران کے بعد بازاروں میں مندی او بڑھ گئی۔

ایک نظر اس پر بھی

دہلی میں جماعت اسلامی ہند کا یک روزہ ورکشاپ۔ امیر جماعت نے کہا؛ ہر زمانے میں سخت اور چیلنجنگ حالات میں ہی دعوت دین کا کام انجام دیا گیا ہے

 جماعت اسلامی ہند حلقہ دہلی کا یک روزہ ورکشاپ برائے ذمہ دران حلقہ،انڈین انسٹی ٹیوٹ آف اسلامی اسٹڈیز ابو الفضل انکلیو، اوکھلا میں منعقد ہوا۔ ورکشاپ میں نئی میقات 2019تا2023کی پالیسی پروگرام کی تفہیم کرائی گئی۔ صبح 10  بجے  سے شام تک چلے اس ورکشاپ میں جماعت اسلامی ہند دہلی کے ...

ایک قوم‘ایک زبان معاملہ: سیاسی قائدین کی جانب سے شدید رد عمل کا اظہار

اداکار سے سیاست داں بنے جنوبی ہند چینائی کے کمل ہاسن نے ایک قوم ایک زبان کے معاملہ میں بی جے پی قومی صدر امیت شاہ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان 1950ء میں کثرت وحدت کے وعدے کے ساتھ جمہوریہ بناتھا اور اب کوئی شاہ یا سلطان اس سے انکار نہیں کرسکتا ہے۔

بی جے پی حکومت کی اُلٹی گنتی شروع: کماری شیلجہ

ہریانہ کانگریس کی ریاستی صدر اور رکن پارلیمنٹ کماری شیلجہ نے آج دعوی کیا کہ ریاست کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جےپی) حکومت کی الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے کیونکہ عوام اس حکومت کی بدنظمی سے تنگ آچکے ہیں۔

جموں و کشمیر کے سابق سی ایم فاروق عبداللہ کو پی ایس اے کے تحت حراست میں لیا گیا

جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ کی حراست لیا گیا ہے۔ان کے حراست کو لے کر سپریم کورٹ میں داخل عرضی پر سماعت کے دوران عدالت نے مرکزی حکومت کو ایک ہفتے کا نوٹس دے کر جواب دینے کے لئے کہا گیا ہے۔

سولیا: پہاڑی مہم جو ٹیم کا ایک رکن ہوگیا لاپتہ۔قریبی جنگلات میں جاری ہے تلاشی مہم 

بنگلورو کی ایک کمپنی کے ملازمین کی ٹیم سبرامنیا میں واقع پہاڑی ’کمارا پروتا‘ کو سر کرنے کی مہم پر نکلی تھی۔ لیکن واپسی کے وقت ٹیم کا ایک رکن جنگلات میں اچانک لاپتہ ہوگیا ہے، جس کی شناخت سنتوش (25سال) کے طور پر کی گئی ہے۔

 ای۔ ٹکٹ میں جعلسازی کے ذریعے منگلورو ایئر پورٹ پر غیر مجاز شخص کا داخلہ۔ ملزم گرفتار

بینہ طور پر ای۔ ٹکٹ میں جعلسازی کرتے ہوئے اپنا نام داخل کرکے منگلورو انٹرنیشنل ایئر پورٹ کے اندر ایک غیر مجاز شخص کے داخل ہونے کا معاملہ سامنے آیا ہے جس کے بعد سنٹرل انڈسٹریل سیکیوریٹی فورس کے افسران نے مذکورہ شخص کو حراست لے کر پولیس کے حوالے کردیا ہے۔