گوا میں ہوئے ہندو تنظیموں کے اجلاس کے بعد مرکزی حکومت کو دھمکی ۔۔۔۔۔ اعتماد کا اداریہ

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 19th June 2017, 12:31 PM | ملکی خبریں | مہمان اداریہ |

گوا میں ہوئے ہندو تنظیموں کے اجلاس میں مرکزی حکومت کو دھمکی دی گئی ہے کہ اگر وہ 2023تک ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر نہیں کروائے گی تو ہندو تنظیمیں خود وہاں مندر تعمیر کرلیں گے کوئی قانون یا عدالت کا پاس و لحاظ نہیں رکھا جائے گا اس کے علاوہ اس اجلاس میں گائے کو قومی جانور قرار دینے کا بھی مطالبہ کیا گیا بڑے جانوروں کے ذبیحہ پر مکمل پابندی تبدیلی مذہب پر مکمل امتناع سے متعلق قرار دادتیں بھی منظور کی گئی۔ چہارشنبہ کو شروع ہوئے اس چار روزہ ہند وکنویشن میں 132دائیں باوز ہندو تنظیموں کے 300سے زائد نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں ہندو تنظیموں کے نمائندوں نے اس بات کی شکایت کی کہ حکومت ان افراد کے مطالبات کو تسلیم نہیں کررہی ہے جنہوں نے اس حکومت کو ووٹ دیا۔ 

اجلاس میں اس بات کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ یکساں سیول کوڈ کے نفاذ ، رام مندر کی تعمیر، تبدیلی مذہب پر روک تھام کے مطالبات کو لے کر مہم میں شدت پیدا کی جائے گی۔ آئندہ ماہ 45ضلع سطح اور 10ریاستی سطح کے اجلاس طلب کئے جائیں گے۔ مختلف ہندو تنظیموں نے بی جے پی کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ آج اس اقتدار ان ہندو تنظیموں کی وجہ سے ہی ملاہے۔ ان تنظیموں کی خواہشات اور امیدوں کو پورا کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ یہ بھی شکایت کی گئی کہ حکومت بنگلہ دیشی افراد کو ان کے ملک واپس بھیجنے میں ناکام ہوچکی ہے جبکہ بی جے پی نے انتخابات سے قبل اس کا وعدہ کیا تھا۔ 

اس ہندو کنویشن کی شروعات ہی شر انگیزی سے ہوئی۔ مدھیہ پردیش کی ایک سادھوی نے تقریر کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ جو لوگ گائے کا گوشت کھاتے ہیں انہیں پھانسی دی جائے حکومت اس سلسلہ میں ایک قانون بنائے ۔ سادھوی نے ہندوں سے یہ بھی کہا کہ وہ خود کے دفاع کیلئے اپنے پاس ہتھیار رکھیں۔ اس شرانگیزی اور نفرت پر مبنی تقریر کے باوجود گوا کی بی جے پی حکومت نے سادھوی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جبکہ اپوزیشن کانگریس نے فوری مقدمہ درج کرنے کی مانگ کی تھی۔ گوا میں ان دائیں بازو ہندو تنظیموں کا س طرح کا اجلاس ملک میں دستور اور قانون کی حکمرانی کیلئے ایک چیالنج ہے۔ پہلے اجلاس منعقد کرنے کی اجازت دی گئی اور اجلاس کے بعد مرکزی وریاستی حکومتوں کی جانب سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی جس سے شرپسند اور شر انگیز عناصر کے حوصلے مزید بلند ہورہے ہیں۔ ملک کی بین الاقوامی سطح پر بدنامی ہورہی ہے۔ مصبرین نے دریافت کیا ہے کہ اگر کوئی ماوسٹ اس طرح کا اجلاس رکھتے اور اور ملک کو تبدیل کرنے کی بات کرتے تو کیا ان کے خلاف کارروائی نہیں کی جاتی ؟ ہندوستان ایک سیکولر جمہوری مملکت ہے۔ اس کو ہندو مملکت بنانے کا مطالبہ کرنا ایک جرم ہے۔ 

حیرت کی بات یہ ہے کہ ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی ان تمام سرگرمیوں پر خاموش ہیں۔ ایک امریکی صحافی کے ٹویٹ سے متعلق مودی معلومات رکھتے ہیں لیکن ان کی ناک کے نیچے مخصوص طبقے کے افراد کو برسر عام پیٹ پیٹ کر ہلاک کیا جارہا ہے۔ مسلسل دائیں بازو ہندوتنظیموں سے تعلق رکھنے والے عناصر شرانگیزی کررہے ہیں اس کے باوجود نریندر مودی خاموش ہیں۔ 

وزیر قانون روی شنکر پرساد نے اب بیان دیا ہے کہ اس طرح کے عناصر اور گاء رکھشکوں کے خلاف کارروائی ہوگی لیکن تا حال کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ اخلاق ، نعمان، زائد کے قاتل ضمانت پر رہا ہوگئے ۔ان عناصر کے خلاف حکومت غنڈہ ایکٹ اور قومی سلامتی کا قانون لگاتے ہوئے انہیں جیل میں بند کرسکتی تھی لیکن افسوس ایسا نہیں کیا گیا۔ 

بشکریہ:  اعتماد، حیدرآباد

(مہمان اداریہ کے اس کالم میں دوسرے اخبارات کے ادارئے اوراُن کے خیالات کو پیش کیا جاتا ہے ،  جس کا ساحل آن لائن کے ادارئے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے)

ایک نظر اس پر بھی

پنجابی دوشیزہ کی عصمت دری، ناگپاڑہ پولس نے ملزم کو سی سی ٹی وی کی مدد سے کیا گرفتار

نجاب سے تعلق رکھنے والی 18 سالہ دوشیزہ جو اپنے گھر سے بھاگ کر ممبئی پہنچی تھی اس کی عروس البلاد ممبئی کے سرخ بتی والے علاقہ کماٹی پورہ میں عصمت دری کی گئی بعد میں مقامی ناگپاڑہ پولس اسٹیشن نے عصمت دری کے ملزم اختر ریاض الدین قریشی کو کماٹی پورہ میں نصب شدہ خفیہ سی سی ٹی وی کے ...

کانگریس این سی پی چھوڑ کر جانے والے لیڈران کی گھر واپسی کے سلسلے کا آغاز

مہاراشٹر میں انتخابات سے قبل کانگریس اور این سی پی کے میونسپل کونسلرز ، اراکین اسمبلی اور لیڈران نے ایک طرح سے بی جے پی اور شیوسینا میں شامل ہو کر جس طرح سے بھگوا سیاسی جماعتوں کو طاقت دی تھی اب وہی لیڈران ریاست میں بی جے پی سینا حکومت کے قائم نہیں ہونے کے آثار سے کانگریس این سی ...

دہلی میں جماعت اسلامی ہند کی جانب سےمیڈیا میں خواتین کے موضوع پرمذاکرہ؛ میڈیا سے وابستہ خواتین کی صلاحیتوں کا استعمال بے حد کم ہونے پر تشویش

جماعت اسلامی حلقہ دہلی کی شعبہ خواتین نے میڈیا میں خواتین کے موضوع پر ایک مباحثہ کا انعقاد  مرکز جماعت اسلامی ہند، ابولفضل انکلیو، اوکھلا میں منعقد کیا۔ جس میں مختلف میڈیا میں کام کر رہی خواتین جرنلسٹ کے علاوہ میڈیا میں زیر تعلیم طالبات اور دیگر خواتین نے بھی حصہ لیا۔ پروگرام ...

چنمیانند کو جھٹکا، متاثرہ کے ’بیان کی کاپی‘ استعمال کرنے کے فیصلہ پر روک

 الہ آباد ہائی کورٹ کے اس حکم پر سپریم کورٹ نے اسٹے لگا دیا ہے جس میں سابق مرکزی وزیر چنمیانند کو شاہجہان پور کی قانون کی طالبہ کے ذریعہ درج کرائے گئے بیان کی مصدقہ کاپی استعمال کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔

اے پی سی آر ۔ حق کی لڑائی میں نیا کاروان ۔۔۔۔ ازقلم: مدثر احمد

ہندوستان میں جمہوری نظام اور مسلمانوں کے مسائل پر قانونی کارروائی کرنے والی تین تنظیمیں ہیں ان میں جمیعت العلماء ہند ، اے پی سی آر اور پاپولر فرنٹ آف انڈیا ہر طرح سے مسلمانوں کے قانونی مسائل پر لڑائی لڑنے کے پابند ہیں ، ان میں سب سے زیادہ سرگرم تنظیمیں جمیعت العلماء ہند اور ...

اس بار مسلمان ناکام کیوں؟ کہاں ہے1985کا پرسنل لاء بورڈ،جس کی حکمت عملی نے حکومت وقت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا تھا ؟ (روزنامہ سالار کی خصوصی رپورٹ)

مودی حکومت کی ہٹ دھرمی، سیاسی چال بازی اور مسلم پرسنل لاء بورڈ کی سیاسی غیرشعوری، مسلم تنظیموں کی غیر دانشمندی اور پورے مسلمانوں کی نااہلی و آپسی نااتفاقی کی وجہ سے ایک نشست میں تین طلاق کا بل راجیہ سبھا سے بھی منظور ہوگیا-اب اسے صدر ہند کے پاس رسمی طور پر بھیجاجائے گا جہاں ...

آر ایس ایس کی طرح کوئی مسلم تنظیم کیوں نہیں؟ از: ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز

مسٹر نریندر مودی کی تاریخ ساز کامیابی پر بحث جاری ہے۔ کامیابی کا سب کو یقین تھا مگر اتنی بھاری اکثریت سے وہ دوبارہ برسر اقتدار آئیں گے اس کا شاید کسی کو اندازہ نہیں تھا۔ دنیا چڑھتے سورج کی پجاری ہے۔ کل ٹائم میگزین نے ٹائٹل اسٹوری مودی پر دی تھی جس کی سرخی تھی ”India’s Divider in Chief“۔

گاندھی سے گوڈسے کی طرف پھسلتے ہوئے انتخابی نتائج   ۔۔۔۔    اداریہ: کنڑاروزنامہ ’وارتا بھارتی‘  

لوک سبھا انتخابات کے نتائج ظاہر ہونے  اور بی جے پی کو تاریخ سازکامیابی حاصل ہونے پر مینگلور اور بنگلور سے ایک ساتھ شائع ہونے والے کنڑا روزنامہ وارتھا بھارتی نے  بے باک  اداریہ لکھا ہے، جس کا اُردو ترجمہ بھٹکل کے معروف صحافی ڈاکٹر محمد حنیف شباب صاحب نے کیا ہے،  ساحل ا ٓن لائن ...

اتر پردیش میں لاقانونیت: بلند شہر میں پولیس پر حملہ۔منظم طور پر گؤ رکھشکوں کے بڑھائے گئے حوصلوں کا نتیجہ۔۔۔(ٹائمز آف انڈیا کا اداریہ )

اتر پردیش کے بلند شہر ضلع میں مبینہ طور پر گؤ کشی کے خلاف احتجاجی ہجوم کی جانب سے پولیس پر دہشت انگیز حملہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ گؤ رکھشکوں کے حوصلے کس حد تک بلند ہوگئے ہیں۔

زندہ قومیں شکایت نہیں کرتی ہیں، بلکہ پہاڑ کھود کر راستے بنا لیتی ہیں ..... آز: ڈاکٹر ظفر الاسلام خان

بہت عرصہ قبل میں نے ایک انگریز مفکر کا مقولہ پڑھا تھا کہ جب تک میری قوم میں ایسے سر پھرے موجود ہیں جو کسی نظریے کو ثابت کرنے کے لئے اپنا گھر بار داؤ پر لگاکر اس کی تحقیق کرتے رہیں، کسی چیز کی تلاش میں صحراؤں میں گھومتے رہیں اور پہاڑوں کی اونچی چوٹیوں کو سر کرنے کی جد وجہد کرتے ...