لاک ڈاون سے بہت جلد بھٹکل کے عوام کو مل سکتی ہے راحت؛ تعلقہ انتظامیہ نے ذمہ داران کے ساتھ رکھی میٹنگ؛ ضلعی انتظامیہ کرے گی حتمی فیصلہ

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 26th May 2020, 12:13 AM | ساحلی خبریں |

بھٹکل25/مئی (ایس او نیوز) کویڈ.19 وباء کے خلاف لڑی گئی جنگ کے بعد اب چونکہ  بھٹکل میں ایک حد تک اس وباء پر قابو پالیا گیا ہے اور خوش آئند بات یہ ہے کہ  کورونا سے متاثرہ تمام لوگ بھی صحت یاب ہوکر اسپتال سے ڈسچارج ہورہے ہیں، بھٹکل میں اب گذشتہ دو ماہ سے چل رہے لاک ڈاون میں  راحت دئے جانے کے آثار صاف ہوگئے ہیں۔ یہ بات طئے مانی جارہی ہے کہ یکم جون سے بھٹکل سے لاک ڈاون ہٹایا جانا یقینی ہے، مگر لاک ڈاون کو ایک ساتھ ہٹایا جانا چاہئے   یا وقفے وقفے سے بتدریج ہٹایا جانا چاہئے اس تعلق سے  ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ہدایات ملنے کے بعد ہی حتمی فیصلہ لیا جاسکتا ہے۔

آج پیر کو بھٹکل اے سی دفتر میں تعلقہ انتظامیہ کی جانب سے بلائی گئی میٹنگ میں   شہر کے مختلف اداروں کے ذمہ داران سے   لاک ڈاون  میں چھوٹ دینے کے تعلق سے صلاح و مشورے لئے گئے۔

میٹنگ میں یہ بات طئے پائی کہ  ہوٹل،  سیلون، سوئمنگ پولس، سوپر مارکٹ اور ایسے تمام مراکز جس میں عوام کی بھیڑ جمع ہوتی ہو  اور ایک دوسرے سے فاصلہ رکھنا ممکن نہیں ہوتا ہو،  اُنہیں کھولنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، البتہ ضلعی انتظامیہ کی منظوری اگر ملتی ہے تو پھر  شہر کی دیگر تمام دکانوں کو ایک مقررہ وقت طئے کرکے کھولنے کی اجازت دی جائے گی۔ اس بات کی تجویز دی گئی کہ دکانوں کو صبح نو بجے سے دوپہر دو بجے تک کھولنے کی اجازت دی جائے۔  مگر دکانداروں کے لئے یہ بات لازمی رکھی جائے  کہ دکاندار خود   گاہکوں میں  سوشیل ڈیسٹنسنگ (فاصلہ) برقرار رکھنے اور بھیڑ جمع نہ ہونے دینے کو یقینی بنائے ساتھ ساتھ    ہرکسی کو ماسک پہنے کا پابند بنایا جائے، اگر کسی دکان میں ان قوانین پر عمل نہ ہوتا ہوا دیکھا جائے  تو پھر اُس دکاندار کے خلاف قانونی کاروائی کرنے کے ساتھ اُس کے  دکان  کھولنے کے  اجازت نامے کو  منسوخ کیا جائے۔اب چونکہ بارش کا موسم سر پر ہے، کئی لوگوں کے گھروں کا کام باقی ہے، چھت کی مرمت کرنے کے لئے مزدوروں کی ضرورت ہوتی ہے، ایسے میں اس بات کی بھی تجویز دی گئی کہ  مزدوروں کو  کام کرنے کی اجازت دی جائے۔

بھٹکل میں دو ماہ تک چلے لمبے لاک ڈاون کے بعد ایسا لگ رہا ہے کہ  حکام کورونا پر قابو پانے میں کچھ حد تک  کامیاب ہوچکے ہیں، لیکن لاک ڈاون سے بھٹکل کے عوام کو کافی مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے، ایک وقت تھا جب ضلع بھر میں تمام معاملات صرف بھٹکل سے سامنے آرہے تھے، مگر آج معاملہ اُلٹ چکا  ہے، آج بھٹکل کو چھوڑ کر دیگر تعلقہ جات سے تقریباً ہر روز کورونا پوزیٹو کے معاملات سامنے آرہے ہیں۔اس تعلق سے ذمہ داران نے آفسران کی  توجہ اس جانب مبذول کرائی کہ بھٹکل میں جب کورونا سے متاثرہ لوگ ملے تھے تو پورے شہر کو لاک ڈاون کردیا گیا تھا، مگر آج ضلع کے دیگر تعلقوں میں کورونا کے مریض مل رہے ہیں تو   اُن مخصوص علاقوں کو ہی لاک ڈاون کیا جارہا ہے اور دیگر  علاقوں میں چھوٹ دی جارہی ہے۔ اس موقع پر اے سی نے بتایا کہ کرناٹک میں کورونا کے معاملات میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے، ابتدا میں   کورونا سے متاثرہ لوگوں  کی    ہزار کی تعداد کو پار کرنے کے لئے دو ماہ کا عرصہ لگا تھا، مگر اگلے  ہزار کا اکڑا صرف دس دن کے اندر  پار ہو گیا ہے اور کرناٹک میں کورونا سے متاثرہ لوگوں کی تعداد دو ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔ ملک بھر میں کورونا کے بڑھتے معاملات کو دیکھتے ہوئے اب مرکزی حکومت اور ریاستی حکومت کی جانب سے بھی لاک ڈاون  قوانین میں تبدیلیاں کی جارہی ہیں ۔

میٹنگ میں یہ بات بھی رکھی گئی کہ جو لوگ دیگر ریاستوں سے بھٹکل آتے ہیں تو انہیں ہوم کورنٹائن کرنے کی صورت میں  پاس پڑوس کے لوگ اُن پر نظر رکھیں اور اگر کوئی گھر سے باہر نکلتا ہوتو اس بات کو سمجھیں کہ اُس سے آس پاس کے لوگوں کے لئے ہی خطرہ ہے، اس بنا پر ہوم کورنٹائن کی خلاف ورزی کرنے کے تعلق سے کسی کو  کچھ معلوم ہوتو وہ اس کی جانکاری آفسران کو دیں اس  تعلق سے اس بات پر بھی غور کیا گیا کہ ہر ہر علاقہ کی پولس بیٹ سسٹم کے اہلکاروں کو ذمہ داری سونپی جانی چاہئے، سرکاری آفسران نے عوام الناس پر زور دیا کہ وہ اگر اس تعلق سے  بیدار رہیں تو اس پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

میٹنگ میں اسسٹنٹ کمشنر بھرت اور اے ایس پی نکھل نے اس بات کو مانا کہ بھٹکل کے عوام نے کورونا وباء پر قابو پانے کے لئے انتظامیہ کو  بھرپور تعاون دیا اور لاک ڈاون کو کامیاب بنایا۔ انہوں نے ذمہ داران کو بتایا کہ آج میٹنگ میں ذمہ داران کی طرف سے جو بھی  تجاویز پیش کی گئی ہیں، ان تماموں کو ضلعی انتظامیہ کے رو برو  پیش کیا جائے گا اور حتمی فیصلہ ضلع کے ڈپٹی کمشنر اور ضلع کے ایس پی ہی کریں گے۔

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل کا نوجوان اُدیاور میں ہوئے سڑک حادثہ میں شدید زخمی؛ علاج کے لئے مالی تعاون کی اپیل

بھٹکل مخدوم کالونی کا ایک نوجوان اُڈپی کے اُدیاور میں سڑک حادثہ میں شدید زخمی ہوا ہے اور اسے منی پال کستوربا اسپتال شفٹ کیا گیا ہے، نوجوان کی مالی حالت کمزور ہونے  کی وجہ سے علاج کے لئے  قریب تین لاکھ  روپیوں کی فوری ضرورت ہے۔ نوجوان کی شناخت سمیرسوکیری (34) کی حیثیت سے کی گئی ...

دبئی میں ایک سواری نے ایک شخص کو رونڈ ڈالا؛ مہلوک ایشیائی شخص کی شناخت ہنوز نہیں ہوپائی؛ پولس نے عوام سے کی تعاون کی اپیل

یہاں ایک سواری کی ٹکر میں ایک شخص ہلاک ہوگیا مگر اُس شخص کی شناخت ابھی تک معمہ بنی ہوئی ہے اور یہ کون ہے، کس ملک یا کس  شہر سے ہے کچھ پتہ نہیں چل پایا ہے۔ پولس کا کہنا ہے کہ یہ ایشیاء کے  کسی ملک سے تعلق رکھتا ہے۔

دبئی :شیرورگرین ویلی اسکول کے صدر ڈاکٹر سید حسن کی دختر دانیا کو ملا شیخہ فاطمہ بنت مبارک ایوارڈ آف ایکسلینس‘

عرب امارات میں بہترین ہمہ جہتی تعلیمی کارکردگی کے لئے طالب علموں کو دیا جانے والا ’’ہَرہا ئنیس شیخہ فاطمہ بنت مبارک ایوارڈ آف ایکسلینس“ امسال دانیا حسن کو تفویض کیا گیا ہے جس کا تعلق  بھٹکل کے پڑوسی علاقہ شرور سے ہے۔

بھٹکل میں الحاج محی الدین مُنیری کے نام سے موسوم ہائی ٹیک ایمبولنس کا خوبصورت افتتاح

   یہاں نوائط کالونی میں  دبئی کے معروف تاجر جناب عتیق الرحمن  مُنیری کی طرف سے ان کے والد مرحوم الحاج محی الدین مُنیری کے نام سے منسوب ایک ہائی ٹیک ایمبولنس کا خوبصورت افتتاح عمل میں آیا جس میں بھٹکل کی سرکردہ شخصیات سمیت علماء و عمائدین   موجود تھے۔