راہل گاندھی کی پارلیمانی رکنیت بحال ہونا ’اِنڈیا‘ کی جیت ’گجرات‘ کی ہار!۔۔۔۔۔۔۔۔ از: اعظم شہاب

Source: S.O. News Service | Published on 9th August 2023, 12:00 PM | ملکی خبریں | اسپیشل رپورٹس | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے | اداریہ |

کُشتی میں ایک داؤ ’دھوبی پچھاڑ‘ ہوا کرتا ہے۔ اس میں مدمقابل کو سر سے بلند کرتے ہوئے پٹخنی دی جاتی ہے۔ اس داؤ کے  بعد مدمقابل چاروں خانے چت ہو جاتا ہے، لیکن کچھ ڈھیٹ قسم کے لوگ اس حالت میں بھی اپنی ٹانگیں اوپر کر لیتے ہیں تاکہ شکست کی ہزیمت کو چھپاسکیں۔ مودی سرنیم معاملے میں راہل گاندھی کی سزا پر روک لگا کر سپریم کورٹ نے بی جے پی کو دھوبی پچھاڑ دے دیا۔ اس ہزیمت کے بعد ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ راہل گاندھی کی رکنیت بحالی کا فیصلہ اسی طرح کر دیا جاتا جس طرح 7 جولائی کو گجرات ہائی کورٹ کے فیصلے کے 24 گھنٹے کے اندر منسوخی کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ لیکن تین دن تک التواء میں رکھ کر مزید رسوائی کا سامان کر لیا گیا۔ اسے کہتے ہیں گرے تو بھی ٹانگیں اوپر۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے اسپیکر سے ملاقات کر کے رکنیت بحالی کا فوراً مطالبہ کیا تھا، لیکن حکم نامے کی موصولی کی بات کہہ کر اسے ملتوی کر دیا گیا۔ لیکن 7 جولائی کو جب سورت کی سیشن عدالت نے راہل گاندھی کو دو سال کی سزا سنائی تو 24 گھنٹے کے اندر یہ فیصلہ نہ صرف جناب اسپیکر کو موصول ہو گیا تھا بلکہ گجراتی زبان میں درج 120 صفحے کے فیصلے کا ترجمہ بھی ہو گیا تھا اور اس پر فورآ عمل درآمد بھی ہو گیا تھا۔ یعنی راہل گاندھی کی رکنیت منسوخ کر دی گئی تھی۔ سزا پر روک کا سپریم کورٹ کا فیصلہ یقینا گجراتی زبان میں نہیں رہا ہوگا کہ اس کا بھی ترجمہ کرایا جاتا۔ پھر بھی یہ فیصلہ اسپیکر صاحب تک پہنچنے اور اس پر عمل ہونے میں تین دن لگ گئے۔

راہل گاندھی کی رکنیت بحالی کو ’نفرت پر محبت کی جیت‘ بتائی جا رہی ہے جس میں کوئی شک بھی نہیں ہونی چاہئے۔ لیکن اسی کے ساتھ یہ ’اِنڈیا‘ کی جیت اور ’گجرات‘ کی ہاربھی ہے۔ اِنڈیا کی جیت اس لحاظ سے کہ راہل گاندھی کو پارلیمنٹ سے دور رکھ کر پورے اپوزیشن کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ اس کی وجہ پارلیمنٹ میں اڈانی سے متعلق وزیر اعظم مودی سے راہل گاندھی کے وہ سوالات تھے، جن کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعظم کا گلا تک خشک ہو گیا تھا۔ انہوں نے 85 منٹ کی اپنی تقریر میں ہر موضوع پر بات کی تھی مگر اڈانی کا نام تک نہیں لیا تھا۔ یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ راہل گاندھی نے وزیر اعظم کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا تھا، جس سے بچنے کے لیے ضروری تھا کہ راہل گاندھی کو پارلیمنٹ سے باہر کر دیا جائے۔ اس کے ذریعے اپوزیشن کو یہ پیغام دیا گیا کہ پردھان سیوک سے سوالات نہ کئے جائیں۔

راہل گاندھی کے خلاف کارروائی سے بی جے پی نے یہ سمجھ لیا تھا کہ اب اپوزیشن کا زور ٹوٹ جائے گا، لیکن اس کے برعکس ہو گیا۔ اپوزیشن کی 26 پارٹیو ں نے مل کر ’اِنڈیا‘ بنا لیا جس سے بی جے پی کے خلاف ایک مضبوط محاذ وجود میں آ گیا۔ کہاں تو راہل گاندھی کے خلاف کارروائی کے ذریعے اپوزیشن کو منتشر کرنے کی کوشش کی گئی تھی اور کہاں یہ کارروائی اتحاد کا پیش خیمہ بن گئی۔ پارلیمنٹ سے دور رہ کر راہل گاندھی نے اپوزیشن پارٹیوں کو متحد کرنے میں اہم کردار نبھایا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تمام اپوزیشن پارٹیوں کا بی جے پی کے خلاف ایک متحدہ محاذ وجود میں آ گیا۔ یہ محاذ اس قدر مضبوط بنا کہ بی جے پی کو 38 پارٹیوں کے این ڈی اے محاذ کا اعلان کرنا پڑا۔ اس لحاظ سے راہل گاندھی کی جیت انڈیا کی جیت قرار پاتی ہے۔

راہل گاندھی کی یہ جیت گجرات کی ہار اس لیے ہے کہ مودی سرنیم ہتک عزت کے مقدمے کی پوری بنیاد ہی گجرات پر ٹکی ہے۔ راہل گاندھی نے مودی سرنیم سے متعلق بیان کرناٹک کے کولار میں دیا لیکن مقدمہ درج ہوا گجرات کے سورت میں۔ مقدمہ درج کرانے والے پورنیش مودی کا تعلق بھی گجرات سے ہے۔ گجرات کی سورت سیشن عدالت نے راہل گاندھی کو 2 سال کی سزا سنائی جسے گجرات ہائی کورٹ نے برقرار رکھا۔ سپریم کورٹ میں اس مقدمے کی پیروی کرنے والے وکیل مہیش جیٹھ ملانی بھی گجرات کے، مرکزی حکومت کے سالیسٹر جنرل بھی گجرات کے، راہل گاندھی نے جن کے خلاف محاذ کھولا تھا اور جن سے متعلق وزیر اعظم کو پارلیمنٹ میں پانی پینے پر مجبور کر دیا تھا وہ گوتم اڈانی صاحب گجرات کے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وزیر اعظم نریندر مودی بھی گجرات کے۔ اس لیے اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ سپریم کورٹ کے ذریعے راہل گاندھی کی سزا پر روک سے اگر ایک جانب انڈیا جیت گئی ہے تو دوسری جانب پوری گجرات لابی ہار گئی ہے۔

پارلیمنٹ کی رکنیت بحالی کے بعد اب راہل گاندھی دوبارہ پارلیمنٹ میں اپنے سوالات سے پردھان سیوک کو پانی پینے پر مجبور کر دیں گے۔ وہ منی پور میں جاری تشدد پر سوال کریں گے، وہ اڈانی اور وزیر اعظم کے رشتے کی وضاحت طلب کریں گے۔ وہ ہریانہ فساد پر بھی سوال کریں گے جن کے جواب دینے میں مودی حکومت پسینے میں شرابور ہو جائے گی کیونکہ اس کے پاس ان کا کوئی جواب ہی نہیں ہے۔ اس لیے اس یقین کا اظہار ابھی سے کیا جانے لگا ہے کہ راہل گاندھی کی پارلیمنٹ میں واپسی مودی حکومت کی مشکلات بڑھا دے گی۔ اس صورت میں یہ تو مزید مشکل ثابت ہوگا جب پارلیمنٹ میں تحریک عدم اعتماد پر بحث ہوگی۔ اس لیے سپریم کورٹ کے دھوبی پچھاڑ نے مودی حکومت کو ایسی پٹخنی دے دی ہے کہ وہ نہ تو اپنی ہزیمت کو چھپا سکتی ہے اور نہ ہی شکست کا اعتراف کر سکتی ہے۔

( یہ مضمون نگار کی اپنی رائے ہے، اس سے ادارے‘ کا متفق ہونا لازمی نہیں ہے)

ایک نظر اس پر بھی

مہاراشٹرا کے طلبہ توجہ دیں؛ بارہویں سائنس کے بعدڈائریکٹ سیکنڈ ایئر انجیئنرنگ ڈپلومہ کورسس میں داخلے

بارہویں سائنس میں کامیاب طلباء و طالبات کو یہ اطلاع دیجاتی ہے کہ ریاست مہاراشٹرا کی تمام پولی ٹیکنک کالجوں میں ڈائریکٹ سیکنڈ ایئر انجینئرنگ ڈپلومہ کورسیس (پولی ٹیکنیک) میں داخلہ کے لئے رجسٹریشن کا آغاز ہو چکا ہے

سابق ایم ایل سی محمد اقبال کے1097 کروڑ روپے کے اثاثوں کوای ڈی نے ضبط کیا

انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے سہارنپور میں غیر قانونی کانکنی کے معاملے میں بڑی کارروائی کی ہے۔ ای ڈی نے بی ایس پی کے سابق ایم ایل سی محمد اقبال کی گلوکل یونیورسٹی کی 121 ایکڑ زمین اور تمام عمارتوں کو ضبط کر لیا ہے۔ بی ایس پی کے سابق ایم ایل سی محمد اقبال کی ضبط کی گئی جائیداد کی ...

لوک سبھا اسپیکر الیکشن کے لئے انڈیا الائنس کی حکمت عملی

لوک سبھا انتخابات کے بعد ایک بار پھر مرکز میں مودی حکومت بن گئی ہے۔ اب لوک سبھا کے اسپیکر کے لیے انتخابات ہونے ہیں، اس کو لے کر سیاست شروع ہو گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق اپوزیشن جماعت اسپیکر کے انتخاب کے لیے اپنا امیدوار کھڑا کرسکتی ہے۔ اگر ڈپٹی اسپیکر کا عہدہ اپوزیشن کو دیا گیا تو ...

طلبا تنظیم این ایس یو آئی نے نیٹ کا امتحان دوبارہ کرانے کا کیا مطالبہ، این ٹی اے پر فوری پابندی لگانے کی اپیل

این ایس یو آئی (نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا) کے قومی صدر ورون چودھری کی قیادت میں آج یونین دفتر سے جنتر منتر تک پرامن مشعل مارچ منعقد کیا گیا۔ اس مارچ کا مقصد حال ہی میں ہوئے این ٹی اے اور نیٹ امتحان گھوٹالہ کے خلاف بیداری پیدا کرنا اور احتجاج درج کرنا تھا، جس نے پورے ملک ...

نیٹ پرچہ سوالات افشاء کیس، امتحان سے ایک دن پہلے پیپر ملنے کا انکشاف

بہار پولیس کے معاشی جرائم یونٹ (ای او یو) نے جو نیشنل ایلجبلیٹی کم انٹرنس ٹسٹ (نیٹ۔ یوجی) 2024ء میں پرچہئ سوالات کے افشاء کی تحقیقات کررہی ہے، ہفتہ کے روز 11 امیدواروں کو نوٹسیں روانہ کی ہیں، جن پر اس جرم میں ملوث ہونے کا شبہ ہے۔

کیا وزیر اعظم سے ہم تیسری میعاد میں خیر کی اُمید رکھ سکتے ہیں؟ ........... از : ناظم الدین فاروقی

18ویں لوک سبھا الیکشن 24 کے نتائج پر ملک کی ڈیڑھ بلین آبادی اور ساری دنیا کی ازبان و چشم لگی تھیں ۔4 جون کے نتائج حکمران اتحاد اور اپوزیشن INDIA کے لئے امید افزاں رہے ۔ کانگریس اور اس کے اتحادی جماعتوں نے اس انتخابات میں یہ ثابت کر دیا کہ اس ملک میں بادشاہ گر جمہورہیں عوام کی فکر و ...

کاروار: بی جے پی کے کاگیری نے لہرایا شاندار جیت کا پرچم - کانگریس کی گارنٹیوں کے باوجود ووٹرس نے چھوڑا ہاتھ کا ساتھ  

اتر کنڑا سیٹ پر لوک سبھا انتخاب میں بی جے پی امیدورا وشویشورا ہیگڑے کاگیری کی شاندار جیت یہ بتاتی ہے کہ ان کی پارٹی کے سیٹنگ ایم پی اننت کمار اور سیٹنگ رکن اسمبلی شیو رام ہیبار کی بے رخی دکھانے اور انتخابی تشہیر میں کسی قسم کی دلچسپی نہ لینے کے باوجود یہاں ووٹروں کے ایک بڑے حصے ...

کون بنے گا 'کنگ' اور کون بنے گا ' کنگ میکر'؟! - لوک سبھا کے نتائج کے بعد سب کی نظریں ٹک گئیں نتیش اور نائیڈّو پر

لوک سبھا کے اعلان شدہ انتخابی نتائج نے منگل کو یہ ثابت کر دیا کہ پوسٹ پول سروے ہمیشہ درست نہیں ہوتے  کیونکہ این ڈی اے اتحاد کی بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرنے کے بارے میں جو توقعات بنی یا بنائی گئی تھیں وہ پوری طرح  خاک میں مل گئیں۔

بھٹکل میں حل نہیں ہو رہا ہے برساتی پانی کی نکاسی کا مسئلہ - نالیوں کی صفائی پر خرچ ہو رہے ہیں لاکھوں روپئے

برسات کا موسم سر پر کھڑا ہے اور بھٹکل میں ہر سال کی طرح امسال بھی برساتی پانی کی نکاسی کے لئے سڑک کنارے بنائی گئی نالیاں مٹی، پتھر اور کچرے سے بھری پڑی ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ مانسون سے قبل برسنے والی ایک دن کی بارش میں پانی نالیوں کے بجائے سڑکوں پر بہنے اور گھروں میں گھسنے ...

بھٹکل میں چل رہی بجلی کی آنکھ مچولی سے  کب ملے گا صارفین کو چھٹکارہ ؟

برسہا برس سے بھٹکل کے عوام کو بجلی کی آنکھ مچولی راحت دلانے کے اقدامات کا اطمینان بخش نتیجہ اب تک نہیں نکلا ہے ۔ عام دنوں کے علاوہ برسات کا موسم میں ذرا سی ہوا اور بارش کے ساتھ  بجلی کا غائب ہونا، کبھی کم اور کبھی تیز بجلی کی سپلائی کی وجہ سے گھروں کے ساز و سامان کا نقصان یہاں کی ...

بھٹکل جالی پٹن پنچایت کی ادھوری عمارت - ضائع ہو رہے ہیں کروڑوں روپئے

تقریباً 9 سال پہلے بھٹکل   جالی گرام پنچایت  کا درجہ بڑھاتے ہوئے اُسے  پٹن پنچایت میں تبدیل کیا گیا تھا مگر آج تک پٹن پنچایت کے دفتر کی عمارت تعمیری مرحلے میں ادھوری پڑی ہے اور اس پر خرچ ہوئے ایک کروڑ روپے ضائع ہوتے نظر آ رہے ہیں ۔

مہاراشٹرا کے طلبہ توجہ دیں؛ بارہویں سائنس کے بعدڈائریکٹ سیکنڈ ایئر انجیئنرنگ ڈپلومہ کورسس میں داخلے

بارہویں سائنس میں کامیاب طلباء و طالبات کو یہ اطلاع دیجاتی ہے کہ ریاست مہاراشٹرا کی تمام پولی ٹیکنک کالجوں میں ڈائریکٹ سیکنڈ ایئر انجینئرنگ ڈپلومہ کورسیس (پولی ٹیکنیک) میں داخلہ کے لئے رجسٹریشن کا آغاز ہو چکا ہے

طلبا تنظیم این ایس یو آئی نے نیٹ کا امتحان دوبارہ کرانے کا کیا مطالبہ، این ٹی اے پر فوری پابندی لگانے کی اپیل

این ایس یو آئی (نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا) کے قومی صدر ورون چودھری کی قیادت میں آج یونین دفتر سے جنتر منتر تک پرامن مشعل مارچ منعقد کیا گیا۔ اس مارچ کا مقصد حال ہی میں ہوئے این ٹی اے اور نیٹ امتحان گھوٹالہ کے خلاف بیداری پیدا کرنا اور احتجاج درج کرنا تھا، جس نے پورے ملک ...

نیٹ پرچہ سوالات افشاء کیس، امتحان سے ایک دن پہلے پیپر ملنے کا انکشاف

بہار پولیس کے معاشی جرائم یونٹ (ای او یو) نے جو نیشنل ایلجبلیٹی کم انٹرنس ٹسٹ (نیٹ۔ یوجی) 2024ء میں پرچہئ سوالات کے افشاء کی تحقیقات کررہی ہے، ہفتہ کے روز 11 امیدواروں کو نوٹسیں روانہ کی ہیں، جن پر اس جرم میں ملوث ہونے کا شبہ ہے۔

نیٹ پیپر لیک معاملہ: بہار میں اب تک 14 اور گجرات میں 5 ملزمین گرفتار

نیٹ (این ای ای ٹی) پیپر لیک اور نقل معاملہ دن بہ دن طول پکڑتا جا رہا ہے۔ روزانہ نئی نئی باتیں سامنے آ رہی ہیں اور اپوزیشن پارٹیاں حکمراں طبقہ پر حملہ آور دکھائی دے رہی ہے۔ اس معاملے میں اب تک بہار اور گجرات سے مجموعی طور پر 19 ملزمین کو گرفتار کیا گیا ہے۔

کویت آتشزدگی معاملہ؛ مہلوکین کی لاشوں کو لانے طیارہ پہنچے گا کویت

کویت کی عمارت میں لگی آگ سے گذشتہ روز جن 40 سے زائد ہندوستانی ورکروں کی موت ہوئی تھیں، ان کی نعشوں کو ہندوستان لانےکی تیاریاں کی جارہی ہیں، چونکہ مرنے والوں کی بڑی تعداد ریاست کیرالہ سے ہے، کیرالہ کے کوچین انٹرنیشنل ائیر پورٹ پر سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔

یہ الیکشن ہے یا مذاق ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آز: ڈاکٹر مظفر حسین غزالی

ایک طرف بی جے پی، این ڈی اے۔۔ جی نہیں وزیر اعظم نریندرمودی "اب کی بار چار سو پار"  کا نعرہ لگا رہے ہیں ۔ وہیں دوسری طرف حزب اختلاف کے مضبوط امیدواروں کا پرچہ نامزدگی رد کرنے کی  خبریں آرہی ہیں ۔ کھجوراؤ میں انڈیا اتحاد کے امیدوار کا پرچہ نامزدگی خارج کیا گیا ۔ اس نے برسراقتدار ...

اُترکنڑا میں جنتا دل ایس کی حالت نہ گھر کی نہ گھاٹ کی ! کمارا سوامی بن کر رہ گئے بغیر فوج کے کمانڈر !

ایسا لگتا ہے کہ جنتا دل ایس نے بی جے پی کے ساتھ شراکت کا جو فیصلہ کیا ہے اس سے ریاستی سطح پر ایک طرف کمارا سوامی بغیر فوج کے کمانڈر بن کر رہ گئے ہیں تو دوسری طرف ضلعی سطح پر کارکنان نہ ہونے کی وجہ سے پارٹی کے نام پر محض چند لیڈران ہی اپنا دربار چلا رہے ہیں جسے دیکھ کر کہا جا سکتا ہے ...

انتخابی سیاست میں خواتین کی حصہ داری کم کیوں ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر مظفر حسین غزالی

ملک کی پانچ ریاستوں کی ہواؤں میں انتخابی رنگ گھلا ہے ۔ ان میں نئی حکومت کو لے کر فیصلہ ہونا ہے ۔ کھیتوں میں جس طرح فصل پک رہی ہے ۔ سیاستداں اسی طرح ووٹوں کی فصل پکا رہے ہیں ۔ زندگی کی جدوجہد میں لگے جس عام آدمی کی کسی کو فکر نہیں تھی ۔ الیکشن آتے ہی اس کے سوکھے ساون میں بہار آنے کا ...

کیا کینرا پارلیمانی سیٹ پر جیتنے کی ذمہ داری دیشپانڈے نبھائیں گے ؟ کیا ضلع انچارج وزیر کا قلمدان تبدیل ہوگا !

پارلیمانی الیکشن قریب آنے کے ساتھ کانگریس پارٹی کی ریاستی سیاست میں بھی ہلچل اور تبدیلیوں کی ہوا چلنے لگی ہے ۔ ایک طرف نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیو کمار اور وزیر اعلیٰ سدا رامیا کے بیچ اندرونی طور پر رسہ کشی جاری ہے تو دوسری طرف پارٹی کے اراکین اسمبلی وقتاً فوقتاً کوئی نہ کوئی ...

کانگریس بدلے گی کیا راجستھان کی روایت ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر مظفر حسین غزالی

ملک کی جن پانچ ریاستوں میں انتخابات ہو رہے ہیں راجستھان ان میں سے ایک ہے ۔ یہاں کانگریس اور بی جے پی کے درمیان اقتدار کی ادلا بدلی ہوتی رہی ہے ۔ اس مرتبہ راجستھان میں دونوں جماعتوں کی دھڑکن بڑھی ہوئی ہیں ۔ ایک کی اقتدار جانے کے ڈر سے اور دوسری کی اقتدار میں واپسی ہوگی یا نہیں اس ...

غزہ: پروپیگنڈے سے پرے کچھ اور بھی ہے! ۔۔۔۔۔۔۔ از: اعظم شہاب

غزہ و اسرائیل جنگ کی وہی خبریں ہم تک پہنچ رہی ہیں جو سامراجی میڈیا ہم تک پہنچانا چاہتا ہے۔ یہ خبریں عام طورپر اسرائیلی فوج کی بمباریوں اور غزہ میں جان و مال کی تباہیوں پرمبنی ہوتی ہیں۔ چونکہ جنگ جیتنے کا ایک اصول فریقِ مخالف کو اعصابی طور پر کمزور کرنا بھی ہوتا ہے، اس لیے اس طرح ...