کیا وزیر اعظم سے ہم تیسری میعاد میں خیر کی اُمید رکھ سکتے ہیں؟ ........... از : ناظم الدین فاروقی

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 7th June 2024, 10:46 PM | اسپیشل رپورٹس |

18ویں لوک سبھا الیکشن 24 کے نتائج پر ملک کی ڈیڑھ بلین آبادی اور ساری دنیا کی ازبان و چشم لگی تھیں ۔4 جون کے نتائج حکمران اتحاد اور اپوزیشن INDIA کے لئے امید افزاں رہے ۔ کانگریس اور اس کے اتحادی جماعتوں نے اس انتخابات میں یہ ثابت کر دیا کہ اس ملک میں بادشاہ گر جمہورہیں عوام کی فکر و نظر کی تبدیلی کے ذریعہ اکثریتی ووٹوں سے عوامی مفادات کے منافی پالیسی اختیار کرنی والی سیاسی جماعت کو دھول چٹانے کی مضبوط طاقت ووٹرس کے ہاتھوں میں ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے انتخابات 24 کا منشور مودی کے نام پر اور کانگریس نے سماج کے سلگتے ہوئے موضوعات کے ساتھ دستور ہند کے تحفظ تمام طبقات کے اتحاد او ر مساوات‘عدل و انصاف ‘ ملازمتوں ‘ کسانوں ‘ عورتوں نوجوانوں کے بڑے مسائل کے حل کے ایک وعدے کے طور پر پیش کیا۔

بھارتیہ جنتا پارٹی نے 240 اور اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر 294 نشستیں حاصل کیں 2019 کے مقابلہ میں اس مرتبہ 24 کے انتخابات میں 63 نشستوں  پر شکست کا سامنا کرنا پڑا۔کانگریس کی بمشکل 50 نشستیں تھیں اور ووٹوں کا  فیصد%27 تھا جبکہ کانگریس نے 24 انتخابات  میں اسے%41 تک بڑھاتے ہوئے 100 نشستیں حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ووٹ میں اس مرتبہ 69 لاکھ ووٹ کا اضافہ ہوا ہے۔لیکن% 0.7 ووٹوں کے فیصد میں کمی واقع ہوئی ۔ دوسری علاقائی چھوٹے اور آزاد امیدواروں نے 17 نشستیں حاصل کیں ۔ 2019 میں آزاد نمائندوں کی تعداد میں 28  فیصد سے کم ہو کر اس مرتبہ %13.5 پر پہنچ گئی۔

 INDIA سیکولر  اتحاد نے 18 ویں لوک سبھا انتخابات میں کئی ریاستوں میں اپنی زبردست کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ چونکہ بی جے پی حکومت کی جانب سے اپوزیشن سیاسی قائدین اور پارٹیوں کو ایک ایجنڈہ کے تحت بنک اکائونٹس مقفل کر دیئے گئے ۔ چیف منسٹرس اور دوسرے وزراء کو ED اورCBI کے ذریعہ بہت پریشان کیاگیا۔ مہاراشٹرا اور دوسرے مقامات پر ریاستی حکومتوں کو توڑنے سے بھی گریز نہیں کیا گیا۔ اپوزیشن سینئر قائدین کو ڈرا دھمکا کر بی جے پی میں عین انتخابات سے پہلے شامل کر لیا گیا ۔ کانگریس کے ترجمان کے مطابق پارٹی کو 5 ویں ‘ چھٹے اور ساتویں انتخابی مراحل میں تو بہت زیادہ مالی پریشانی رہی ۔ کئی علاقائی پارٹیاں سیاسی میدانی کارکنوں کے اخراجات پورے کرنے سے قاصر ہے۔بقول سینئر کانگریس قائد ششی تھرور یم پی کے اگر کانگریس اپنے انتخابی مینجمنٹ کو اور بہتر کر تی اور بوتھ کے کارکنوں کی تعداد بڑھاتی تو جہاں جہاں دھاندلیوں سے بی جے پی نے کامیابی حاصل کی اسے روکا جاسکتا تھا۔IB کی رپورٹ اور خود بی جے پی کی اندرونی پارٹی لیڈر کی رپورٹ کے مطابق بی جے پی اپنے بل بوتے پر 200سے 220 تک ہی جاسکتی تھی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اپوزیشن اتحاد نے کئی جگہ اپنی گرفت مضبوط نہیں رکھی یا مضبوط رہے امیدواروں کو میدان میں نہیں اتارا تا کہ ان سب ہلٹربازیوں کا بر وقت بہتر مقابلہ کر سکے۔

بی جے پی تیسری مرتبہ واحد بڑی سیاسی جماعت کے طور پر ابھری ہے ۔18 ویں لو ک سبھا کے لئے 240 نئے منتخب بی جے پی اراکین باوجود اس کے آپس میں کئی گروپس میں منقسم ہیں ۔ تیسری مرتبہ مودی کو وزیر اعظم کے منصب کیلئے منتخب کیا۔

گذشتہ 25 سال سے 18 ویں لوک سبھا انتخابات کے آخری مرحلہ تک مودی جی مسلسل مسلمانوں سے نفرت اور ان کے خلاف اشتعال انگیز بھڑکاؤ بیانات کے ذریعہ اپنے ووٹروں کو مشتعل کرتے ہوئے جذباتی ہندوتوا نعروں کے ذریعہ وفاد ار بنائے رکھنے میں کامیاب ہیں ۔ اس مرتبہ تو رام مندر کا مسئلہ یا پھر جتنے بد ترین مسلمانوں کے دشمن چوٹی کے اراکین پارلیمنٹ تھے ان کو خاموش کر دیا گیا اور الیکشن ریالیوں میں وہ کہیں بھی نظر نہیں آئے لیکن جب دوسرے مرحلے کی ووٹنگ کے بعد جملہ 192 نشستوں پر پولنگ ختم ہو چکی تھی ووٹنگ الیکشن کمشنر نے% 6 فیصد ووٹوں کو  اچانک بڑھا کر ڈاٹا جاری کیا۔ جس سے بڑے پیمانے پر اپوزیشن کو تقریباً 100 سے زیادہ نشستوں پر نقصان ہوا۔

تمام سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ بی جے پی نے JDU اور TDP کے تعاون سے تشکیل حکومت کا اعلان کر رہا ہے ۔ تیسری مرتبہ وزیر اعظم نریندر مودی اپنی وزارت کی تشکیل کے بعد سے  پوری شدت کے ساتھ وہ تمام مسلم مخالف کام کر دکھا ئیں گے جو الیکشن کی وجہہ سے التواء میں پڑھ گئے تھے ۔ امیت شاہ نے 280 CrP فوجداری قوانین کو بدل کر نئے قوانین پارلیمنٹ میں وضع کئے تھے۔ وہ 3 جولائی 24 سے نافذ العمل ہو جائیں گے ۔ یہ بد ترین قوانین ہیں جس میں پولیس اور حکمران پارٹی کے لئے کئی گنا طاقتوں و اختیارات سونپ دیئے گئے ۔ جسے چاہے جب چاہے گرفتار کر کےجیل میں  ڈال دے سکتے ہیں ۔ اس کے علاوہUCC ایک قوم ایک قانون‘ ایک الیکشن ‘ ایک ملک ‘دستور میں تبدیلی کے کام کو بلا تاخیر کے کرنے کی کوشش کریں گے ۔ بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کے 232 نشستیں حاصل کرنے کے بعد اب بی جے پی اتحاد کے لئے اس طرح کے کام اتنے آسان نہیں ہو گیں۔ لیکن مودی کی فطرت کو جاننے والے یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ بات بہت جلد غلط ثابت ہو گی۔

اپوزیشن اتحاد نے بی جے پی کے گڈھ یو پی میں اپنی زبردست مقبولیت اور حکمت عملی کا مظاہرہ کیا ہے کہ 44 نشستیں مہاراشٹرا میں 48 میں سے INDIA اپوزیشن اتحاد نے 28 (شیو سینا ‘9 کانگریس 13 NCP7  )اور بی جے پی اتحاد نے 18 نشستیں حاصل کیں ۔ مہاراشٹرا اور یو پی میں بی جے پی کے لئے بہت بڑے مضبوط قلعے مانے جاتے تھے ۔ مہاراشٹرا کی کانگریس شیو سینا NCP تو توڑ کر شنڈے ‘ شیو سینا بی جے پی کی جو حکومت تشکیل دی تھی وہ ایک سیاسی غیر اخلاقی مجرمانہ فعل تھا جس کا بہترین جواب عوام نے ووٹوں کے ذریعہ دیا۔

جموں و کشمیر میں بھی پارلیمانی انتخابات کے حیران کن نتائج سامنے آئے ۔7 میں سے کانگریس کو 2آزاد امید وار عبدالرشید انجینئر کو ایک اور جموں میں بی جے پی کو2 لداخ میں محمد حنیفہ شیعہ کو ایک نشستیں ملی ۔ قابل غور بات یہ ہے کہ دو مرتبہ جموں و کشمیر کے رہے MLA اور 5 سال سے تہاڑ جیل میں مقید عام سادہ سیاسی رہنما نے دومرتبہ کے چیف منسٹر عمر عبداللہ کو 86 ہزار ووٹوں سے شکست دے کر ملک کو حیرت میں ڈال دیا اسی طرح محبوبہ مفتی جنہوں نے بی جے پی کے ساتھ ریاستی حکومت چلائی تھی شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔ کشمیری عوام نے گولی کا بدلہ ووٹ کے ذریعہ لیا اور مرکز میں موجود بی جے پی حکومت کی پالسیوں کے خلاف یہ ایک استصواب عامہ منڈیٹ تھا۔

اس انتخابات کے نتائج کے دوسرے دن انڈیا اتحاد کے صدر ملک ارجن کھر گے نے مختصر اور جامع پریس کانفرنس کو مخاطب کرتے ہوئے بڑی زبردست ٹھوس بات کی جس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ سیکولر سیاسی فورس کے عزائم حوصلوں میں کئی سو فیصد اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انڈیا اتحاد کو عوام نے 233 نشستوں پر جتایا ہے وہ بی جے پی اور نریندر مودی کی حکومت کی فاشسٹ پالیسیوں اور ظالمانہ طرز حکومت کے خلاف ایک عوام کا ووٹ کے ذریعہ منہ توڑ جواب ہے ۔بی جے پی نریندر مودی اور بی جے پی سرکار نے گذشتہ 10 سالہ حکمرانی کے دوران جو ظالمانہ پالیسی اختیار کر تے ہوئے کسانوں ‘ نوجوانوں ‘ عورتوں اقلیتوں دلتوں سرکاری ملازمتیں اور فوج کو تک انہیں حلقوں سے محروم کیا۔

حکومت کے اداروںاور محکمہ کا استحصال کر تے ہوئے اپوزیشن اور معصوم عوام پر مظالم اور زیادتیوں کے لئے استعمال کرتے رہے ۔ تحت کی عدالتوں سے لے کر ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کو تک زبردستی بازو میں رکھتے ہوئے اپنے فاشسٹ نظریات کو پروان چڑھانے کے لئے غیر قانونی طور پر استعمال کیا۔

آج ہم سے کہا جارہا ہے اور یہ کہنے میں حق بجانب ہے کہ اسی فاشسٹ بی جے پی کی حکومت اور نریندر مودی کو وزیر اعظم کے منصب پر رہنے کا کوئی اخلاقی قانونی جواز نہیں ہے ۔۔۔وغیرہ

انتخابات میں مسلمانوں کا رول :  مسلم میڈیا میں اکثر یہ بات  کہی جارہی ہے کہ مسلمانوں کی سمجھداری سے بی جے پی مخالف ووٹنگ کی وجہ سے سیکولر پارٹیوں کے امیدواروں کو اسکا بھر پور فائدہ ہو ا ہے۔وغیرہ۔ بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق 86 نشستوں پر مسلمان ووٹوں کی  وجہ کانگریس اور انڈیا اتحاد کو کامیابی میں مدد ملی اب بعض مذہبی پیشوااور ملی جماعتیں بھی  INDIA اتحاد کی بڑی کامیابی کا کریڈٹ اپنے سرلینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

 جمعیت و AIUDF کے سربراہ بدر الدین اجمل  ایک عرصہ سے واحد آسامی مسلمانوں کی سیاست کے سب سے بڑے قدر آور رہنما بنے ہوئے تھے ۔ ان کے آسام کے بی جے پی چیف منسٹر ہمنتہ بسوا شرما کے ساتھ بڑے ہی قریبی خفیہ تعلقات تھے ۔ گذشتہ 10 سالوں میں مسلمانان آسام پر جو مظالم بی جے پی کی حکومت ڈھائی رہی‘اس  کا قصداً خاموش تماشائی بنے رہے اور کسی بھی سیاسی اقدام کے ہمیشہ ٹال مٹول کرتے تھے ۔ راہول گاندھی کی وہ بات حلقہ پارلیمان دُبری کے ووٹروں کے دل و دماغ میں اچھی طرح بیٹھ گئی تھی کہ جو بھی سیاست مسلمانوں کے ووٹوں سے کامیاب ہو کر دشمن طاقتوں کے مظالم پر خاموش تماشائی بنیں بیٹھا رہتا ہے یاد رکھو وہ B  ٹیم اور بکاو قائد ہے۔ مولانا بد رالدین اجمل کو ان کے کانگریس کے حریف امیدوار راقب الحسن نے10لاکھ 70 ہزار ووٹوں کی اکثریت سے زبردست  اور تاریخی شکست دی جبکہ اس حلقے پارلیمان میںAIUDF کے کئی ممبران اسمبلی موجود ہیں۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہیکہ  مسلمان اپنے مسائل اور تشخص کے لئے کتنا حساس ہو گیا ہے۔ اگر مولانا چند ہزار ووٹوں کی اکثریت سے ہار جاتے تو بات سمجھ نہیں آسکتی تھی لیکن اتنا بڑا مارجن تمام  مسلم سیاست دانوں کے لئے ایک کھلا پیغام ہے ۔

اگر پورے ملک میں مسلم امیدواروں کے انتخابات میں نشستیں جیتنے کی بات کہی جائے تو بمشکل 24 مسلم امیدوار لوک سبھا کے لئے منتخب ہو سکے ۔ آزاد ہندوستان کی تاریخ میں صرف دو مرتبہ 1980 میں 49 اور 1984 میں 46 مسلم امید وار منتخب ہوئے تھے ۔ ان گذشتہ 30 سالوں کے درمیان منتخب مسلم پارلیمنٹ کے ارکان کی تعداد گھٹتے گھٹتے 26 اور 24 رہ گئی ۔

آبادی کے اعتبار سے دیکھا جائے تو مسلمانوں کو کم از کم 55تا 67 نشستیں پارلیمنٹ میں ملنی چاہیے ۔ ہمیں تقریباً 60% نشستوں کا نقصان ہورہا ہے ۔ 1952 کے پہلے پارلیمانی انتخاب سے لے کر 24 کے 18 ویں پارلیمانی الیکشن تک مسلمانوں کو جملہ 545 نشستیں ملیں جبکہ 1095 نشستیں انتخابات میں ملنی چاہیے تھیں اس اعتبار سے دیکھا جائے تو آزادی کے بعد سے اب تک پارلیمنٹ کی 550 نشستیں ان کے اپنے دستوری حق سے کم ملیں ۔

یہ بڑی خوش آئند بات ہے کہ سیکولر INDIA متحدہ محاذ نے 234 نشستوں پر کامیابی حاصل کی اور اس میں مختلف ریاستوں میں مسلمانوں کو جو نشستیں نامزد کی گئیں تھیں اس میں INDIA کے کامیاب امیدواروں میں تقریباً % 8مسلم امیدوار شامل ہیں ۔جس میں 5 TMC سے 6 کانگریس سے ‘ 4 سماج وادی پارٹی سے نیشنل کانگریس سے 2 مسلم لیگ سے 1 ‘ اتحاد المسلمین سے 1 اور آزاد ایک شامل ہے ۔جبکہ بی جے پی نے 17 ویں 2019 اور 18 ویں لوک سبھا 24 کے انتخابات میں ایک بھی مسلم امیدوارکو اپنا ٹکٹ نہیں دیا ہے ۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ کس قدر مسلمانوں سے نفرت اور حقارت کے ساتھ انتقامی جذبہ اب بھی بی جے پی میں بھی پایا جاتا ہے ۔ جو حضرات یہ توقع کر رہے ہیں کہ تیسری معیاد میں مودی کا مسلمانوں دلتوں اقلیتوں کے ساتھ رویہ نرم اور برادران وطن جیسا ہو گا صحیح نہیں ہے آئندہ کے چند سالوں میں حالات خود اس کی نفی کریں گے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کے قصور وار اصل کو ن ہیں؟ اگر ایمانداری سے ہماری سیاسی مذہبی سماجی قیادت و سیادت اور دانشوروں کی سیاسی بصیرت اور حکمت کا جائزہ لیا جائے تو پورے ادب و احترام اور معافی کے ساتھ عرض ہے کہ ہماری مسلم قیادت یقینا ہندوستان کے تناظر میں صفر سیاسی بصیرت رکھتی ہے۔

وہ یہ جانتے ہی نہیں کہ اپنے دستوری حقوق کے تحفظ کے لئے جمہوری انتخابات میں حصہ لے کر کامیابی حاصل کرنا کتنا بڑا دینی اسلامی فریضہ ہے ۔ عوامی سطح سے لے کر قیادت یہ نہیں جا نتی کہ ہندوستانی انتخابات میں کس طرح کی ہمہ جہتی اور پالیسی‘ حکمت عملی اختیار کرنی پڑتی ہے ۔ وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ انتخاب جیتنے کے لئے کتنے بڑے پیمانے پر افرادی اور مالی ذرائع کی ضرورت پڑتی ہے اور وفا شعار سیاسی کارکنوں کی بڑی تعداد کے علاوہ توڑ جوڑ کی بھی ضرورت پڑتی ہے ۔ حکومتی اداروں کا تعاون حاصل کرنا پڑھتا ہے۔ ہم مسجد اور مدرسہ کو بڑے ایمانی حرارت کے ساتھ بے دریغ پیسہ لگا کر تعمیر کر دیتے ہیں لیکن ملک کی ایک طاقتور پارلیمنٹ میں اپنے مخلصوں ‘خدمت گذار بد عنوانیوں سے پاک سیاسی نمائندوں کو منتخب کر کے بھیجنے میں ہمیشہ نا کام ہوتے رہے ہیں۔مسلمانوں میں سیاسی شعور بیدار کرنے کے لئے ایک طویل جدوجہد کی ضرورت ہے ۔

 

ایک نظر اس پر بھی

کاروار: بی جے پی کے کاگیری نے لہرایا شاندار جیت کا پرچم - کانگریس کی گارنٹیوں کے باوجود ووٹرس نے چھوڑا ہاتھ کا ساتھ  

اتر کنڑا سیٹ پر لوک سبھا انتخاب میں بی جے پی امیدورا وشویشورا ہیگڑے کاگیری کی شاندار جیت یہ بتاتی ہے کہ ان کی پارٹی کے سیٹنگ ایم پی اننت کمار اور سیٹنگ رکن اسمبلی شیو رام ہیبار کی بے رخی دکھانے اور انتخابی تشہیر میں کسی قسم کی دلچسپی نہ لینے کے باوجود یہاں ووٹروں کے ایک بڑے حصے ...

کون بنے گا 'کنگ' اور کون بنے گا ' کنگ میکر'؟! - لوک سبھا کے نتائج کے بعد سب کی نظریں ٹک گئیں نتیش اور نائیڈّو پر

لوک سبھا کے اعلان شدہ انتخابی نتائج نے منگل کو یہ ثابت کر دیا کہ پوسٹ پول سروے ہمیشہ درست نہیں ہوتے  کیونکہ این ڈی اے اتحاد کی بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرنے کے بارے میں جو توقعات بنی یا بنائی گئی تھیں وہ پوری طرح  خاک میں مل گئیں۔

بھٹکل میں حل نہیں ہو رہا ہے برساتی پانی کی نکاسی کا مسئلہ - نالیوں کی صفائی پر خرچ ہو رہے ہیں لاکھوں روپئے

برسات کا موسم سر پر کھڑا ہے اور بھٹکل میں ہر سال کی طرح امسال بھی برساتی پانی کی نکاسی کے لئے سڑک کنارے بنائی گئی نالیاں مٹی، پتھر اور کچرے سے بھری پڑی ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ مانسون سے قبل برسنے والی ایک دن کی بارش میں پانی نالیوں کے بجائے سڑکوں پر بہنے اور گھروں میں گھسنے ...

بھٹکل میں چل رہی بجلی کی آنکھ مچولی سے  کب ملے گا صارفین کو چھٹکارہ ؟

برسہا برس سے بھٹکل کے عوام کو بجلی کی آنکھ مچولی راحت دلانے کے اقدامات کا اطمینان بخش نتیجہ اب تک نہیں نکلا ہے ۔ عام دنوں کے علاوہ برسات کا موسم میں ذرا سی ہوا اور بارش کے ساتھ  بجلی کا غائب ہونا، کبھی کم اور کبھی تیز بجلی کی سپلائی کی وجہ سے گھروں کے ساز و سامان کا نقصان یہاں کی ...

بھٹکل جالی پٹن پنچایت کی ادھوری عمارت - ضائع ہو رہے ہیں کروڑوں روپئے

تقریباً 9 سال پہلے بھٹکل   جالی گرام پنچایت  کا درجہ بڑھاتے ہوئے اُسے  پٹن پنچایت میں تبدیل کیا گیا تھا مگر آج تک پٹن پنچایت کے دفتر کی عمارت تعمیری مرحلے میں ادھوری پڑی ہے اور اس پر خرچ ہوئے ایک کروڑ روپے ضائع ہوتے نظر آ رہے ہیں ۔